پیپلزپارٹی کے بعد جماعت اسلامی نے بھی شہباز شریف کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لیا

  • ن لیگ کو وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار بارے تحفظات سے آگاہ کر دیا گیاتھا ، اگر ن لیگ نے امیدوار نہ بدلا تو پیپلز پارٹی اپنا فیصلہ کرے گی، خورشید شاہ
  • کسی سیاسی جماعت کو کندھا دینے کی بجائے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے نظریاتی لڑائی لڑی جائے گی، ترجمان جماعت اسلامی

پیپلزپارٹی کے بعد جماعت اسلامی

اسلام آباد(الاخبار نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے نام پر اختلافات برقرار ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما ءوسابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ کہ پیپلز پارٹی نے (ن) لیگ کو وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار پر اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا تھا کہ اگر (ن) لیگ نے امیدوار نہ بدلا تو پیپلز پارٹی اپنا فیصلہ کرے گی۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے مو¿قف بدلاہے اس کا جواب وہ دے سکتے ہیں، پیپلز پارٹی نے خورشید شاہ کو ہماری مشاورت سے تو نامزد نہیں کیا، کسی جماعت کو حق دیتے ہیں تو یہ نہیں کہتے فلاں کونامزد کریں فلاں کونہیں، امیدوار کو نامزد کرنا جماعت کی اپنی صوابدید تھی۔انہوں نے کہا کہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار کی نامزدگی مسلم لیگ (ن) کی صوابدید تھی، اعتراض یہ نظر آتا ہے کہ زرداری صاحب کی کچھ مجبوریاں ہیں، آصف زرداری کوئی رعایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں توہمیں اعتراض نہیں ہے۔ادھرپاکستان پیپلز پارٹی کے بعد جماعت اسلامی نے بھی وزارتِ عظمیٰ کے لیے مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کر دیا۔تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ن لیگی امیدوار برائے وزیرِ اعظم کو ووٹ نہیں دیں گے۔جماعت اسلامی کے ترجمان نے کہا ہے کہ پارٹی کے واحد رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی وزارتِ عظمیٰ کے کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔ترجمانِ جماعت کے مطابق مرکزی شوریٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو کندھا دینے کی بجائے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے نظریاتی لڑائی لڑی جائے گی۔

Scroll To Top