پی ٹی آئی نے ن لیگ سے پنجاب چھین لیا

  • پرویز الہی کا 201 ووٹ لینا بتا رہا کہ پی ایم ایل این میں فاروڈ بلاک بنے جارہا
  • سلم لیگ ن آنے والے دنوں میں تخت پنجاب کے حصول کے کے لیے تمام حربہ آزمائے گی
  • بیوروکریسی ، پولیس ، پٹوار اور تاجربرداری میں ایسوں کی کمی نہیں جن کی بقا ن لیگ سے وابستہ ہے
  • پنجاب کے نئے وزیر اعلی کے لیے ایوان کے اندر اور باہر چیلنجز سے نمٹنا کسی کارنامے سے کم نہ ہوگا

zaheer-babar-logo

چوہدری پرویز الہی کا سپیکر جبکہ دوست محمد مزاری کا ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی بن جانا یقینا پاکستان تحریک انصاف کے لیے خوشخبری سے کم نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے مسلم لیگ ن کی سیاسی طاقت کا مرکز پنجاب ہی رہا جو دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے نتیجے میں شریف خاندان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ چوہدری پرویز الہی کا 201 لینا بتا رہا جلد یا بدیر پی ایم ایل این میںایسا فاروڈ بلاک بننے جارہا جو پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی حکومت کو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پرمدد فراہم کریگا۔
آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اہمیت مسلمہ ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ 25جولائی کے عام انتخابات میںحقیقی سیاسی دنگل پنجاب میں ہی لڑا گیا۔ عمران خان کی 22 سالہ سیاسی جدوجہدمیں کسی طور پر پانچ دریاوں کی سرزمین کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پنجاب میںایک طرف میاں نوازشریف کی کم وبیش 35سالہ سیاست ہے تو دوسری جانب اسی صوبے کے ہی عمران خان سنجیدہ سیاسی چیلنج کی شکل میںموجود ہیں۔افسوس کہ میاں نوازشریف تین مرتبہ وزیر اعظم بنے کے باوجود اہل پنجاب کی مشکلات میںخاطر خواہ کمی نہ لاسکے۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی پنجاب کا شائد ہی کوئی ایک بھی ایسا شہر ہو جہاں کے باسیوںکو پینے کا صاف پانی بلاتفریق میسر ہو۔
مبصرین کے خیال میں پنجاب اسمبلی میں چوہدری پرویز الہی کا سپیکر بن جانا پی ایم ایل این کی مشکلات میں اضافہ کرگیا۔ گجرات کے چوہدری پنجاب کی سیاست کا جانا اور مانا نام ہیں۔ پرویز الہی اس سے قبل نہ صرف پنجاب کی وزیر اعلی رہ چکے بلکہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں نائب وزیر اعظم کی عہدے پر بھی فائز رہ رہے ۔ اپنے طویل سیاسی دور میں بھی چوہدری برداران نے بھی کئی اتار چڑھاو دیکھے۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب چوہدری شجاعت حیسن اور چوہدری پرویز الہی میاںنوازشریف کے شانہ بشانہ موجود تھے مگر سابق وزیر اعظم کا پرویز مشرف سے معاہدہ کرکے جدہ چلا جانا تعلقات میں دراڈ ڈال گیا۔
اس میں کسی کو شک وشبہ نہیں ہونا چاہے کہ وفاق سے کہیں بڑھ کر پی ایم ایل این کے لیے پنجاب کی اہمیت ہے۔ مسلم لیگ ن کے کرتا دھرتا لوگ باخوبی سمجھتے ہیںکہ پانچ دریاوں کی سرزمین ان کے ہاتھ سے نہ نکلی تو ایک بار پھر وہ وفاق میں حکومت بنا سکتے ہیں۔ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ میاں نوازشریف تین مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر اسی لیے فائز ہوئے وہ پنجاب کی قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب وکامران ہوتے رہے۔یہ محض الزام نہیں کہ شریف برادران نے پنجاب کی سیاست پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کے لیے پولیس ، پٹوار اور بیوروکریسی میں اس طرح اپنے آدمی لگائے کہ وہ ریاست سے کہیں بڑھ کر ان کے وفادار ثابت ہوئے ۔حال ہی میں گرفتار ہونے والا احد چیمہ محض ایک آفیسر نہیں بلکہ افسر شاہی میں ایسی درجنوں لوگ ہیں جو نواز وشبہاز کے لیے ایسے کام کرتے رہے یعنی جن کے کرتوت نہ تو ان کے فرائض منصبی کے مطابق تھے اور نہ ہی ان کا اخلاقی وقانونی جواز فراہم کیا جاسکتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ پنجاب میں کچھ کر دیکھانا پاکستان تحریک انصاف کے لیے کسی طور پر چیلنج سے کم نہیں۔ وجہ یہ کہ پی ایم ایل این کی سیاسی بقا اسی میں ہے کہ وہ ایک بار پھر پنجاب میں اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرے۔ آسان الفاظ میں یوں کہ پی ایم ایل این کے ساتھ درجنوں ایسے گروہ ہیں جن کا مفاد اسی میں ہے کہ شریف برداران کے اقتدار کا سورج کبھی غروب نہ ہو۔ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کو یقینا ایسے کچھ عوامی فلاحی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچانے ہونگے جن کو بنیاد بنا کر عوام کی مشکلات میںنمایاں کمی لائے جاسکے۔
پنجاب میں ایوان کے اندر اور باہر پی ایم ایل این نے کسی طور پر پاکستان تحریک انصاف کو آسانیاں فراہم نہیں کرنے والی۔ آثار یہی ہیں کہ ہمہ وقت پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کو جعلی قرار دے کر اسے تنقید کا نشانہ بنانے کی پالیسی جاری رہے گی ۔ آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہیگی کہ پاکستان تحریک انصاف پنجاب کی مقبول جماعت ہرگز نہیں بلکہ یہ اس کا مینڈیٹ بڑی حد تک جعلی ہے۔ ان سیاسی حالات میں پنجاب کے نئے وزیر اعلی کی زمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ۔ ایوان کے اندر اور باہر موجود چیلجز سے نئے وزیر اعلی کب اور کیسے نمٹتے ہیں آنے والے دنوں میں یہ سوال اہمیت کا حامل رہیگا۔

Scroll To Top