جمہوریت اُن کا سب سے موثر ہتھکنڈہ ہے 05-10-2013

kal-ki-baat
خدا کی زمین اور اس زمین پر موجود وسائل ہزار ہا سال سے کچھ بڑے بادشاہوں اور کچھ چھوٹے بادشاہوں کے قبضے میں رہے ہیں۔بڑے بادشاہوں کے نام تو سکول کے بچوں کو بھی معلوم ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سیزز ` نمرود ` فرعون ` سکندر اعظم ` چندرگپت `چنگیز خان ` تیمور لنگ اور ہنی بال وغیرہ ` لیکن چھوٹے بادشاہ چونکہ چھوٹے علاقوں اورچھوٹی آبادیوں پر حکمرانی کرتے تھے اس لئے انہیں تاریخ میں کوئی مقام نہیں مل سکا۔ آج کے ” جمہوری“ دور میں انہیں ”عوامی نمائندوں “ کے نام سے شناخت کیا جاتا ہے۔ یوں تو جمہوریت اور جمہوری دور کی تعریف یہ کہہ کر کی جاتی ہے کہ ایسی حکومت جس میں اقتدارِ اعلیٰ عوام کے ہاتھوں میں ` اور عوام کے لئے ہو۔۔۔ لیکن اگر آپ کو عوام کہیں بھی حکمران نظر آتے ہوں تو آپ اس کی اطلاع گنس بک آف ریکارڈز کے ایڈیٹروں کو ضرور دیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عوامی نمائندے آج کے دور کے چھوٹے چھوٹے بادشاہ ہیں جو کثرت رائے سے اپنے بڑے بادشاہ کا انتخاب کرتے ہیں۔ انتخاب کے اس عمل میں مفاہمت سے بھی کام لیا جاتا ہے اور مفادات پر سمجھوتوں سے بھی۔
بدی کے اس نظام سے ہمیں چھٹکارہ حضرت محمد کے عہدِ زریں میں دلایا گیا تھا اور اس کے بعد بھی کچھ عرصے تک عوام اپنے روایتی چھوٹے بڑے بادشاہوں پر غالب رہے۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ جن کے پاس زمین اور وسائل کا قبضہ ہوتا ہے ` وہ اس قبضے کو قائم رکھنے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے دریافت کرلیتے ہیں اور پھر اُن پر کامیابی سے عمل کرتے ہیں۔
جمہوریت ان کا سب سے موثر ہتھکنڈہ ہے۔

Scroll To Top