دولت اور جوڑ توڑ کے زور پر اپنے آپ کو منتخب کرا کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والے امراءاور ان کے گماشتے ریاستِ مدینہ کی مساوات کو کیسے برداشت کریں گے ؟

aaj-ki-baat-new

عمران خان اپنے آپ کو موجودہ پاکستان کی بنیادوں پر اکیسویں صدی کی ریاست ِ مدینہ کھڑی کرنے کی منزل سے جوڑ چکے ہیں۔۔۔موجودہ پاکستان وہ پاکستان نہیں جو علامہ اقبال ؒ کے تخیّل میں ابھرا ہوگا یا جس کے بارے میں قائداعظم ؒ نے فرمایا تھا کہ ہم اسے اسلامی فلاحی ریاست قائم کرنے کی لیبارٹری یعنی تجربہ گاہ بنائیں گے ۔۔۔
یہ ایک نیا پاکستان تھا جو غلام محمد ` مشتاق گورمانی `ممدوٹ ` دولتانہ اور سکندر مرزا کی سوچوں سے ابھر کر پاکستان کا مقدر بن گیا۔۔۔
جب عمران خان ” نیا پاکستان “ کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب میں یہ لیتا ہوں کہ ہمیں وہ پاکستان واپس لانا ہے جو علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ نے سوچا تھا۔۔۔
یہاں ایک بہت بڑا تضاد سامنے آتا ہے۔۔۔ موجودہ پاکستان جس آئین پر کھڑا ہے وہ اس سوچ کی نفی ہے جسے ہم علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ سے منسوب کرتے ہیں اور جس کی بنیادوں پر ریاست ِ مدینہ کی پرُ شکوہ عمارت کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
ریاست ِ مدینہ میں Pluralism نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔۔۔ ایک ہی جماعت حکمران تھی جو آنحضرت ﷺ کی جماعت تھی۔۔۔ اگر دوسری جماعت سامنے آتی تو وہ عبداللہ ابن ابی کی ہوتی ۔۔۔ بات بڑی تلخ ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ ہم نے مغربی جمہوریت کا ماڈل اختیار کرکے اُس جمہوریت کا مذاق اڑایا جو حاکمیتِ خداوندی کے نیچے آنحضرت ﷺ نے قائم کی تھی۔۔۔ جہاں تک Pluralismکی بات ہے تو میثاق ِ مدینہ میں ہر شہری کے حقوق کا تحفظ موجود تھا خواہ اس کا تعلق کسی ہی نسل یا مذہب سے کیوں نہ ہو۔۔۔جدید دور میں ریاست ِ مدینہ کا ماڈل ناقابلِ بیاں کا میابی کے ساتھ چین میں چل رہا ہے۔۔۔
عمران خان نے ایک نہایت مشکل مشن کا بیڑہ اٹھایاہے۔۔۔ دولت اور جوڑ توڑ کے زور پر اپنے آپ کو منتخب کرا کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والے امراءاور ان کے گماشتے ریاست ِ مدینہ کی مساوات کو کیسے برداشت کریں گے ؟

Scroll To Top