اپوزیشن نے تقسیم ہونا ہی تھا

zaheer-babar-logo

پی پی پی اور پی ایم ایل این کے درمیان قائد ایوان پر اتفاق نہ ہونے کی خبریں حٰیران کن نہیں۔ 25 جولائی کے انتخاب کے فورا بعد جس طرح اپوزیش جماعتیں پوری قوت سے کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے مرد مقابل آئیںاس کے بعد یہ تاثر ضرور پیدا ہوا کہ پی ٹی آئی کو ایوان کے اندر اور باہر مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے مگر بتدریج ایسا ہوتا نظر نہیںآرہا۔ اب ایک طرف مسلم لیگ ن بضد ہے کہ ان کے وزیر اعظم کے امیدوار شہباز شریف رہیں گے جبکہ دوسری جانب پی پی پی کا کہنا ہے کہ وہ کسی صورت شہبازشریف کو ووٹ نہیں دیں گے۔
دراصل اس موقعہ پر پی پی پی اور پی ایم ایل این میں سامنے آنے والے اختلاف کو کسی اور زوایہ سے جانچنے کی بجائے دونوں سیاسی جماعتوں میں پائی جانے والی سیاسی رقابت کو تاریخ کے تناظر میں دیکھنا ہوگا ۔ مرکز میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد اب پی ایم ایل این اور پی پی پی میں یہ دوڈ شروع ہوچکی کہ حقیقی اپوزیشن کا کردار کسے ادا کرنا ہے۔ ماضی میںدیکھا گیا کہ کہنے کو اپوزیشن رہنما خورشید شاہ تھے مگر پاکستان تحریک انصاف ہی پی ایم ایل این کو ٹف ٹائم دیتی رہی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ عوام حزب اختلاف کی اسی پارٹی کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو بھرپور اپوزیشن کا کردار نھبائے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کے لیے سوفیصد عوام کی توقعات پر پورا اترنا مشکل ہوا کرتا ہے چنانچہ عین ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی پر تنقید کرنی والی جماعت پذائری حاصل کرلے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ حزب اختلاف میں پی پی پی وہ واحد سیاسی قوت ہے جو کسی قسم کے غیر آئینی اقدمات کرنے کے موڈ میں نہیں چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جب مولانا فضل الرحمن نے حلف نہ اٹھانے کا مطالبہ کیا تو پاکستان پیپلزپارٹی نے فوری طور پر اسے مسترد کردیا۔یہ بات درست ہے کہ پی پی پی 2013کے الیکشن کی طرح 2018 میں بھی سندھ کے علاوہ کہیں بھی متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔ مگر پی پی پی قیادت سمجھتی ہے کہ اگر وہ صبر اور مسقل مزاجی کے ساتھ جدوجہد جاری رکھے گی تو سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی اسے پذائری مل سکتی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کی صورت حال قدرے مختلف ہے۔ پارٹی کے قائد میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نوازجیل میں ہیں۔ مسقبل قریب میں ایسی کوئی بھی صورت نظر نہیں آرہی کہ وہ باآسانی سلاخوں کے پچھے سے نکل کر سیاست کرنا شروع کردیں۔ میاں نوازشریف اور ان کے بچوں کے خلاف ابھی مذید مقدمات چل رہے ہیں، عام تاثر یہی ہے اپنے دفاع میں ثبوت پیش نہ کرنے کے باعث ان مقدمات میں بھی سزا ہوسکتی ہے۔ ادھر شہباز شریف کے لیے بھی حالات سازگار نہیں۔ پنجاب میں کئی کمپنیوں کی مبینہ کرپشن میں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ان کا نام لیا جارہا ہے ۔ قومی احتساب بیورو ایک سے زائد مرتبہ ان کو بلا چکا۔ یہ ا اطلاعات ہیں کہ سابق خادم اعلی اپنے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات کا ٹھوس جواب دینے میں مسلسل ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ پارٹی کے صدر ہونے کے باوجود پی ایم ایل این پر شہبازشریف کی گرفت مضبوط نہیں ہوسکی۔ عام خیال یہی ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر کسی طور پر ایسی اپوزیشن کرنے کی حق میں نہیں جسے کم سے کم الفاظ میں جارحانہ کہا جاسکے۔
بعض باخبر حلقوں کا اصرار ہے کہ شہبازشریف اپنے بڑے نوازشریف کی اس پالیسی کی سخت مخالفت کررہے کہ وہ ان کی بجائے اپنی صاحبزدی مریم نواز کو اپنا سیاسی جانشین بنا رہے۔ پی ایم ایل این کی اندرونی صورت حال سے آگاہ بعض حضرات تو یہاں تک دعوی کررہے کہ میاں شہبازشریف کے لیے فائدہ ہے کہ میاں نوازشریف اپنی صاحبزادی کے ہمراہ جیل میں ہی رہیں۔ مسلم لیگ ن کے اندر بیک وقت جاری دوپالیساں پارٹی کے مسائل میں اضافہ کرگئیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاحال یقین سے کہنا مشکل ہے کہ آنے والے سالوں میں مسلم لیگ ن کی مشکلات میں کمی کب اور کیسے ہوگی۔
درپیش صورت حال بڑی حد تک عمران خان کے حق میں ہے ۔ وفاق اور تین صوبوں میں حکومت میں آنے کے بعد کپتان کے لیے یہ کس طور پر مشکل نہہ ہوگا کہ وہ اپنے اس ایجنڈے پر عمل درآمد کریں جس کا وعدہ انھوں نے عوام سے کیا ہے۔ چند روز میں حکومت سازی کا عمل مکمل ہونے کے بعد غالب امکان ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تیزی کے ساتھ وہ اقدمات اٹھائے جو ملک کو درست سمت میں آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوں۔
مخصوص حوالوں سے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وطن عزیز میں سیاسی استحکام آنے کے روشن امکانات ہیں ۔ عمران خان کی کامیابی پر علاقائی اور عالمی طاقتوں کا درعمل بھی حوصلہ افزاءہے جس کے بعد قوی امکان ہے کہ خارجہ محاذ پر بھی پی ٹی آئی مشکل حالات سے دوچار نہ ہو۔ لہذا یہ مطالبہ غلط نہ ہوگا کہ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی کو فراخدلی سے ایک موقعہ ضرور دیں تاکہ وہ سیاسی ایجنڈے کے مطابق پوری دلجمی سے کام کرسکے۔ پاکستان طویل عرصہ سے مشکلات کا شکار ہے ایسی میں اسے مذید مسائل سے دوچار کرنا ہرگز قومی خدمت نہ ہوگی۔

Scroll To Top