کیا وطنِ عزیز ایسے ہی ایک اور کارنامے کا متحمل ہوسکتا ہے ؟ 04-10-2013

kal-ki-baat
زرداری صاحب کی حکومت اگراپناکوئی کارنامہ یاد رکھنے میں حق بجانب ہوگی تو یہ کہ اس نے اپنی پوری آئینی مدت کے ایک ایک دن کے مزے لوٹے ` اور پاکستان کے عوام کی جان اس کی بداعمالیوں ` نا اہلیوں اور سیہ کاریوں سے چھڑانے کے لئے کوئی غیبی ہاتھ سامنے نہ آیا۔ کسی بھی حکومت کا نا اہلی کرپشن اور بے حسی کی معراج اس انداز میں حاصل کرنا جس اندازمیں پاکستان کی منتخب عوامی حکومت نے مارچ 2008ءاور مارچ2013ءکے درمیانی عرصے میں حاصل کی۔۔۔ اور اس کے بعد اپنی آئینی مدت بغیر کسی رکاوٹ یا تعطل کے پوری کرنا ` ایک ناقابلِ یقین کارنامہ ہے۔ لیکن اس بے مثال کارنامے کو زرداری صاحب نے اپنی ” مفاہمتی سیاست “ کے ذریعے ممکن کر دکھایا۔
اس مفاہمتی سیاست کی لپیٹ میں کون نہیں آیا۔؟ اگر کسی ” فردِ واحد“ کو اس کارنامے کے راستے میں رکاوٹ بننے کا موقع تھا تو وہ جنرل کیانی کی ذات تھی۔
لیکن اس حقیقت کو بھی زرداری صاحب کے کمالات کے کھاتے میں ڈالنا چاہئے کہ جنرل کیانی نہایت ثابت قدمی کے ساتھ آج تک جمہوریت کے ثنا خوان بنے رہے ہیں۔
کیا پاکستان ایسے ہی ایک اور کارنامے کا متحمل ہوسکتا ہے ؟
کیا پاکستان کے وسائل میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ اس کا خزانہ ایک بار پھر خالی ہوجانے کے ” امتیاز “ سے گزرے؟
کیا قوم میں اتنی سکّت باقی ہے کہ وہ اپنے لٹنے کا منظر مزید پانچ سال تک دیکھتی رہے۔ خدانخواستہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میاں نوازشریف اپنے پیش رو کے دورِ خرابی کا تسلسل ثابت ہوناچاہیں گے۔ لیکن تادمِ تحریر انہو ں نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا ` جس سے یہ امید بندھے کہ وہ اصلاح احوال کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔ بلکہ جو کچھ نظر آرہا ہے اس سے تو یہ تاثر قائم ہوئے بغیر نہیں رہتا کہ دور رفتہ اوردورِحاضر ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ دونوں ادوار کے پرچم بردار اس بات پر متفق ہیں کہ اس ملک میں چیئرمین نیب کا عہدہ اس وقت تک خالی رہناچاہئے جب تک اس عہدے کو اس انداز میں پُر کرنے کی آزادی نہ ہو کہ کوئی بھی جرم احتساب کی زد میں نہ آپائے!

Scroll To Top