واپڈا کا حب ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے کا فیصلہ

  • ریزروائر میں جمع ہونے والی مٹی کو نکالا جائیگا جس کی بدولت 49ہزار ایکڑ فٹ مزید پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا ہوگی
  • حب ڈیم ہائیڈرو پاو رپراجیکٹ شروع کرنے کا بھی فیصلہ ، فزیبلٹی سٹڈی ، ڈیزائننگ اور ٹینڈر دستاویزات کی تیاریاں شروع

حب ڈیم

لاہور (اےن اےن آئی ) واپڈا نے حب ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ملک خصوصاً سندھ اور بلوچستان میں پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔حب ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے کا فیصلہ چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں ہونے والے اتھارٹی اجلاس میں کیا گیا۔ واپڈا کے ممبرز اجلاس میں شریک ہوئے۔تفصیلات کے مطابق واپڈا حب ڈیم کے ریزروائر میں جمع ہونے والی مٹی کو باہر نکالے گا او راس عمل کی بدولت 49ہزار ایکڑ فٹ مزید پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا ہوگی۔ ڈیم میں جمع ہونے والی مٹی اور پتھر کو نکالنے کے لئے کھدائی ریزروائر کے ڈیڈ لیول اور نارمل لیول کے درمیان کی جائے گی۔حب ڈیم کراچی کے شمال مشرق میں 56کلومیٹر کی مسافت پر دریائے حب پر 1981ءمیں تعمیر کیا گیا تھا ۔ پراجیکٹ کی تعمیر کا مقصد سندھ کو 102ملین گیلن یومیہ جبکہ بلوچستان کو 59ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کرنا تھا ۔ تکمیل کے وقت حب ڈیم میں قابل استعمال پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 7لاکھ 60ہزار ایکڑ فٹ تھی اور اب یہ کم ہو کر 6لاکھ 46ہزار ایکڑ فٹ رہ گئی ہے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ حب ڈیم پراجیکٹ سے پن بجلی بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔ واپڈا ہائیڈرو پلاننگ کے ابتدائی مطالعات کے مطابق حب ڈیم پر دو پیدا واری یونٹ کی تنصیب کے ساتھ ایک اعشاریہ چار میگاواٹ پن بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، جس کی مدد سے ہر سال اوسطاً 58لاکھ 50ہزار یونٹ بجلی حاصل کی جاسکتی ہے۔ حب ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی ڈیم پر موجود واپڈا کے دفاترکے ساتھ ساتھ حب ڈیم کے گردو نواح میں واقع اداروں اور آبادیوں کو مہیا کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ واپڈا نے حب ڈیم ہائیڈرو پاو رپراجیکٹ شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ دفاتر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پراجیکٹ کی فزیبلٹی سٹڈی ، تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن اور ٹینڈر دستاویزات تیار کریں۔جس کے بعد منصوبے پر تعمیراتی کام کا آغاز کیا جائے گا۔

Scroll To Top