ملی جوش وخروش سال بھر برقرار رہ سکتا ہے ؟

zaheer-babar-logo
وطن عزیز میں 72 ویں جشن آزادی ملی جوش وخروش سے منایا گیا ۔ گزرے سال کے برعکس اس بار نمایاں تبدیلی یہ ہوئی کہ 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کا کام مرحلہ وار جاری ہے۔ بفضل تعالی عمران خان چند روز میں وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہونگے جس کے بعد وہ ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کریں گے جس کا وعدہ انھوں نے اپنے ووٹروں سے کیا۔
ایک خیال یہ ہے کہ پاکستانیت کا جذبہ پورے سال ہی موجود رہنا چاہے۔ درحقیقت قومی دن کے موقعہ پر دکھائی دینے والا جوش وخروش عمل میں اسی وقت ڈھل سکتا ہے جب سال کے ہر دن اسے محسوس کیا جاسکے۔ اس میں شبہ نہیں کہ کسی بھی ملک میں آئین اور قانون کی حکمران شہریوں میں حب الوطنی کے جذبات کو بڑھاتی ہے ، جب طاقتور اور کمزور ایک ہی لائن میں کھڑے ہوتے ہیں تو اس سے پیغام ملتا ہے کہ بالادستی صرف قانون کو حاصل ہے۔ شومئی قسمت سے ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا رہا۔ ملک کا طاقتور طبقہ طویل عرصہ تک عملا قانون سے کھیلتا رہا۔یعنی بااثر لوگوں کے لیے قوائد وضوابط مکڑی کا ایسا جال ثابت ہوئے جنھیں وہ آسانی سے روند کرگزر جاتے جبکہ کمزور قانونی شنکجوں سے نکلنے میں ناکام رہتا۔
مبصرین کی رائے میں کسی ریاست کے استحکام کے لیے اس کے عوام کا اطمنیان ہونا بہت ضروری ہے۔ چنانچہ ہمارے بڑوں کو بھی سمجھ لینا چاہے کہ جب تک عام آدمی کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہوتیں مثالی صورت حال کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ آنے والے دنوں میں ریاست کو اپنا تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔ ریاست کی نمائندہ حکومت ہی ہوا کرتی ہے چنانچہ تحریک انصاف کو ان مشکلات پر قابو پانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جو اسے ورثہ میں ملیں۔ مسائل سے آزاد ملک عوام میں قومی جذبات بڑھانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتا ہے۔
اس بار اگست کا مہینہ یوں اہمیت اختیار کرگیا کہ یوم پاکستان اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا قیام اسی مہینے میں ہونے جارہا۔ وطن عزیز میں بہتری کی امید پیدا ہوچلی اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عوام بالخصوص نئی نسل نے پاکستان کی ملکیت کھل کر تسلیم کرنی شروع کردی۔ اب تک کی ناکامیوں سے قطع نظر یہ تسلیم کیاجاچکا کہ قومی مسائل پر قابو پاکر ہمیں آگے بڑھنا ہے۔
جس طرح کسی گھر کی مکینوں میں بہتری کے لیے باہم اتفاق ویکجتی ضروری ہے بعینہ ہی یہی جذبہ پاکستان کے مسائل کو ختم کرنے کے لیے بھی درکار ہے۔ یعنی اپنی صفوں میں ان عناصر کی نشاندہی کرنا ہوگی جو اس ملک کے وسائل کو محض ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے استمال کرنے کے عادی ہوچکے۔دیار غیر میں اہل وعیال، گھر اور کاروبار رکھنے والے کہاں تک ملک کے وفادار ہوسکتے ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔فیض احمد فیض نے امید بھرے دنوں بارے کہا تھا کہ
زخم بھر جائے گا غم نہ کر، غم نہ کر
دن نکل آئے گا، غم نہ کرے، غم نہ کر
ابر کھل جائے گا، رات ڈھل جائے گی، غم نہ کر،غم نہ کر
رت بدل جائے گی غم نہ کر ، غم نہ کر
آج کا پاکستان جن مسائل کا شکار ہے اس میں وہ سیاسی اشرافیہ کلیدی کردار ادا کرتی رہی جو کئی دہائیوں سے یہاں اقتدار کے مزے لیتی رہی۔ جلاوطنی اور شہادتوں کی دہائی دینے والے کھرب پتی خاندانوں کو بتانا ہوگا کہ اتینی دولت ان کے پاس کیونکر آئی۔ بلاشبہ ووٹ کے زریعہ احتساب کرنے کا رجحان 25 جولائی کو کہیں نہ کہیں ضرور نظر آیا مگر خبیر تا کراچی کروڈوں پاکستانی آج بھی ایسے ہیں جوسیاسی چال بازیوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔
یقینا جمہوریت ارتقائی عمل کا نام ہے۔ لوگ اپنے حقوق وفرائض سے اچانک آگاہ نہیں ہوا کرتے۔ کراہ ارض پر جہاں جہاں جمہوری نظام کے ثمرات ظاہر ہوئے اس میں تسلسل کو کلیدی اہمیت حاصل رہی۔ ہر مقررہ مدت کے بعد ووٹ کے زریعہ حکومت آنے جانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ شہریوںکو اپنی اہمیت کا احساس رہتا ہے وہ بتدریج سمجھتے ہیںکہ مقررہ مدت کے بعد حکمران کا انتخاب ان ہی مرضی ومنشا سے ہورہا چنانچہ وہ اپنی بھرپور دلچیسپی کا اظہار کرنے میں کسی قسم کی ہچکاہٹ کا مظاہرہ نہیںکرتے ۔
حالیہ سالوں میں قومی دن کے موقعہ پر پاکستانیون کا بڑھتا ہوا جوش وخرش اس لیے بھی ہے کہ میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر رسوخ عام شہری کو ایک طرف حالات حاضرہ برائے آگاہی فراہم کررہا تو ساتھ ہی اسے ان زمہ داریوں کا بھی احساس دلا رہا جو بطور شہری اس کے سر ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو کامیابیاں حاصل کیں اس کا ایک نمایاں نتیجہ نکل کہ ملک کے طول وعرض میں امن وامان کی صورت حال میں نمایاں بہتری آئی ۔ ملک کے گلی محلوں بازاروں یا سکولوں کالجوں میں کشت وخون کے وہ مناظر دیکھنے کو نہیں مل رہے جو ماضی می معمول سمجھے جاتے تھے۔امن کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے ۔آج ملکی سیکورٹی فورسز اور سب سے بڑھ کر عوام کی جانی ومالی قربانیوں کے نتیجے میں سلامتی کا جو ماحول موجود ہے وہ کسی نعمت سے کم نہیں۔یوم پاکستان کے موقعہ پر خبیر تا کراچی پاکستانی کھل کر اپنے جذبات کا اظہار اسی لیے کیا جاتا رہا کہ شہریوںکو انھیں نقص امن کا ڈر نہ تھا چنانچہ اس پیش رفت کو ایک محفوظ اور مضبوط پاکستان کے آغاز کے طور پر دیکھنا چاہے ۔

Scroll To Top