یہاں ثبوت حرفِ غلط کی طرح مٹا دیئے جاتے ہیں 03-10-2013

kal-ki-baatیہ محض خبریں ہیں جو ٹی وی پر نشر ہوئی ہیں انہیں اُس وقت تک حقیقت نہ سمجھا جائے جب تک یہ ثابت نہیں ہوجاتا کہ یہ حقیقت ہیں۔ اس بات کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ جب بھی کسی شخص پر کوئی الزام لگتا ہے تو وہ ثبوت مانگتا ہے۔ کراچی کے ایڈیشنل آئی جی پولیس شاہد حیات نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ نعمت رندھاوا کا قاتل پکڑا گیا ہے۔ نعمت رندھاوا اس بدقسمت وکیل کا نام ہے جو صرف اس وجہ سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا کہ وہ ولی خان بابر کے مقدمہ ءقتل کی پیروی کررہا تھا۔ اس سارے قصے میں ایم کیو ایم کا نام آگیا ہے ۔ اور یہ نام جناب شاہد حیات نے اس قدر اعتماد کے ساتھ لیا ہے کہ ایم کیو ایم کے اس تردیدی بیان پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنا مشکل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی آپریشن کی آڑ میں ایم کیو ایم کا میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے اور اس کے کارکنوں پر من گھڑت الزامات لگا کر ایم کیو ایم کی کردار کشی کی جارہی ہے۔جس پریس کانفرنس میں آئی جی پولیس جناب شاہد حیات نے نعمت رندھاوا کے مبینہ قاتل کاظم عباس رضوی کی گرفتاری کی خبر دی ہے اس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے لاندھی آفس سے چھاپے میں برآمد ہونے والا اسلحہ بھارت سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ چھاپہ سندھ رینجرز نے مارا تھا۔
ظاہر ہے کہ ایم کیو ایم کے پاس غیظ و غصب میں آنے اور سندھ کی پولیس اور رینجرز پر سنگین الزامات عائد کرنے کا ٹھوس جواز موجود ہے۔ ایم کیو ایم کا یہ موقف کوئی نیا نہیں کہ اس کے ” معصوم“ کارکنوں پر بے بنیاد الزامات عوام کی نظروں میں ایم کیو ایم کی مقبولیت گرانے کے لئے لگائے جاتے ہیں۔
حقیقت کیا ہے ؟ یا تو ایم کیو ایم جانتی ہے یا اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے ۔ عوام صرف یہ جانتے ہیں کہ دنیا کا ہر مجرم اپنے خلاف عائد ہونے والے ہر الزام کا ثبوت مانگتا ہے۔
ثبوت آج تک ہمارے ملک میں تو کسی بھی مجرم کے خلاف پیش نہیں کیا جاسکا۔یہی وجہ ہے کہ قوم کے وہ مجرم بھی جواَربوں کھربوں کے ڈاکے قومی خزانے پر ڈال چکے ہیں ان کا بھی بال تک بیکا نہیں ہوسکا۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان ہر قسم کے مجرموں کی جنت ہے۔ یہاں کوئی بھی مجرم کبھی کیفرکردار تک نہیں پہنچ پاتا کیوں کہ اگر وہ اپنے پیچھے ثبوت چھوڑ بھی دے تو ” مک مکا“ کے نتیجے میں یہ ثبوت حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا جاتا ہے۔

Scroll To Top