(ایک سال بعد نواز شریف نے جو چاہا وہ ہو رہا ہے) میاں نواز شریف کے منہ سے سچ نکل گیا ہے

aaj-ki-baat-newمیری آج کی بات ایک سادہ سے سوال پر مشتمل ہے۔ یہ سوال میں بار بار اپنے آپ سے اور اپنے ہم وطنوں سے پوچھتا رہا ہوں۔اس سوال کی اہمیت آج میں پوری شدت کے ساتھ اِس لئے محسوس کر رہا ہوں کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور اس خطے کے امیر ترین لوگوں میں ایک نہایت ممتاز مقام رکھنے والے میاں نواز شریف نے بھی ”نئے عمرانی معاہدے“ کی بات کر دی ہے۔ جب اربوں کھربوں کی املاک رکھنے والا کوئی شخص انقلاب کا نعرہ لگاتا ہے تو اس کی بات ضرور سننی چاہئے۔ یہ نعرہ انہوں نے عدالت کے اِس فیصلے کے بعد لگایا ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے۔شاید میاں صاحب کے نزدیک انقلاب کا مطلب یہ ہوگا کہ آئین سے وہ شق ختم کر دی جائے جس کی ر±و سے وزیر اعظم کا صادق اور امین ہونا لازمی ہے۔ شایداس شق کا خاتمہ بھی ان پر اقتدار کے دروازے دوبارہ نہ کھول سکے۔ اس لئے اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان اکا اگلا مطالبہ یہ ہو کہ چونکہ پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگ بستے ہیں اس لئے قرآن حکیم کی تعلیمات پر غیر معمولی زور دینا نامناسب اور رواداری کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔

جو سوال میرے ذہن میں اٹھا ہے وہ یہ ہے کہ کیا کوئی عام آدمی محض اپنی اہلیت، قابلیت، دیانت، لیاقت اور شرافت کی بنیاد پرپارلیمنٹ میں جانے کے انتخابی گورکھ دھندے کا کردار بن سکتا ہے۔؟ اسی سوال کے ساتھ جڑا ہوا سوال یہ ہے کہ اگر نہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہوگا کہ عتبہ، امیہ، شیبہ، ولید، سہیل، ابولہب اور عمرو شہام کی جگہ ریاست کے محافظ حضرت بلال(رضی اللہ عنہ) جیسے صادق اور امین لوگ بن سکیں۔؟
ان دو سوالوں میں پاکستان کا المیہ پوشیدہ ہے۔ جمہوریت کے نام پر ملک کے مالدار طبقے، جاگیر دار اور تجارت پیشہ طالع آزما عوام کی تقدیر کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ یہ نام نہاد Electable لوگ سیاست پر سرمایہ کاری کر کے پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں اور وہاں لین دین کے ذریعے اپنا وزیر اعظم منتخب کرتے ہیں۔
پاکستان کو اگر ریاست مدینہ کے نقش قدم پر چلنا ہے تو یہاں ایسا نظام لانا ہوگا جس میں عوام براہِ راست خود اپنے ووٹوں سے اپنا لیڈر منتخب کر سکیں۔
اس ملک کو اب سچ مچ ایک نئے سیاسی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسے نظام کی ضرورت جس میں انتظامیہ مقننہ اور عدلیہ تینوں ایک دوسرے کے اثرورسوخ سے آزاد ہوں۔ امریکہ جیسی جمہوریت میں بھی انتظامیہ میں صرف ایک شخص منتخب ہو کر آتا ہے۔ اور وہ ا± س کا صدر ہوتا ہے۔
مقننہ کا کام صرف اور صرف قانون بنانا ہے۔
یہ کالم اس سے پہلے(15-8-2017کو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top