ایک اور سانحہ کچھ اور یقین دہانیاں

کوئٹہ میں ہونے والی دہشت گردی نے پوری قوم کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ قومی تاریخ میںپیش آنے والے ہولناک واقعات میں سے ایک صوبائی درالحکومت کے پولیس ٹرینگ سینٹر پر دہشت گردوں کی تازہ کاروائی بھی ہے۔ جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اس میں اہم یہ کہ بار بار درخواستوں کے باوجود صوبائی حکومت نے پولیس سنیڑ کی چار دیورای تعمیر نہ کی۔ سریاب روڈ کے حساس علاقے میں ہونے کے باوصف پولیس ٹرینگ سنیڑ کے اگلے حصہ کی دیوار تو تعمیر ہوئی مگر اس کا پچھلا حصہ بدستور غیر محفوظ رہا۔ حفاظتی انتظامات کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ سنیٹر کہ عقبی دیوار مٹی سے بنی تھی اور محض پانچ فٹ اونچی تھی۔ یاد رہے کہ کوئٹہ کے پولیس ٹرینگ سینٹر کو دہشت گرد پہلے بھی نشانہ بناچکے مگر اس کی شدت اس قدر زیادہ نہ تھی۔ مثلا 12 مئی 2006 کو پولیس سنیٹر کے فائرنگ رینج میںمتعدد دھماکوں کے نتیجے میں چھ پولیس کیڈٹس شہید ہوئے مگر اس بار دہشت گردوں نے بھرپور وار کیا ۔ 24 اکتوبر کی رات گیارہ بج کر دس منٹ پر انسانیت کے دشمن اس وقت پولیس کیڈٹس پر حملہ آور ہوئے جب وہ آرام کررہے تھے یہی وجہ ہے کہ جانی نقصان زیادہ ہوا۔ واقعہ کی زمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے ۔ داعش نے اپنی ویب سائٹ پر ان حملے آوروں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں جنھوں نے دہشت گردی کی حالیہ کاروائی سرانجام دی۔
صوبے میں پولیس کو نشانہ بنانے کا یقینا پہلا واقعہ نہیں بلکہ چند سال قبل بھی بلوچستان کے پولیس افسران اور اہلکاروں پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اپنی ساتھی کی نماز جنازہ میں شریک تھے۔ 2009 میں لاہور کے مناواں پولیس ٹرینگ سنیڑ پر بھی حملہ ہوچکا جس میں آٹھ پولیس اہکار شہید جبکہ 100کے قریب زخمی ہوگے ۔ گذشتہ ایک دہائی میں تھانوں اور پولیس موبائل پر حملوں کے بھی ان گنت واقعات ظہور پذیر ہوچکے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گرد تنظمیں آخر پولیس کو نشانہ بنا کر کیا حاصل کرنا چاہتی ہیں۔مطلب واضح ہے کہ محافظوں پر حملہ کرکے دراصل عام آدمی کو یہ پیغام دیا جارہا کہ اگر اس کی جان ومال کے تحفظ پر مامور ادارہ ہی محفوظ نہیں تو وہ کیونکر محفوظ ہونے کا دعوی کرسکتے ہیں۔
وطن عزیز میں دہشت گردی کی ان گنت قسمیں ہیں۔ لسانی ، سیاسی اور مذہبی دہشت گردوں کے ان گنت گروہ متحرک ہیں۔ بادی النظر میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے کے باوجود پاکستان کو نقصان پہنچانے پر سب ہی متفق ہیں۔ دشمن کا دشمن دوست ہوتا لہذا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے تمام عناصر کے خلاف متفقہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے۔
طویل عرصے قومی میڈیا اور اپوزیشن جماعتیں سرکار سے یہ مطالبہ کرتی چلی آرہیں کہ وہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے کے لیے کسی قسم کی تاخیر روا نہ رکھے۔ ارباب اختیار کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہےے کہ دشمن بدستور ہم پر وار کرکے اپنی طاقت وبرتری ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ردعمل کے نتیجہ میں بننے والی پالیساں اس لیے بھی ٹھوس نتائج نہیں دی پاتیں کہ ان کی بنیاد ہی دفاعی اقدمات پر رکھی جاتی ہے۔ ضرب عضب کی شکل میں پاکستان نے ایسی کوشیش ضرور کی ہے جس میں دشمن کو اپنے مذموم ارادوں پر عمل درآمد کرنے سے پہلے ہی دبوچ لیا جائے مگر اس تاحال مذید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کو اس روش سے تائب ہونا ہوگا کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف اور صرف دفاعی اداروں کی زمہ داری ہے۔ بطور قوم ہم جس پچیدہ جنگ کا شکار ہیں وہ حقیقی معنوں میں باہمی اتحاد واتفاق کا تقاضا کرتی ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ بدخواہوں کی شکل میں علاقائی اور عالمی قوتیں اس آگ کو کسی صورت ٹھندا نہیں ہونے دے رہیں۔ درست بھارت اور افغانستان کے راستے دشمن ہم پر حملہ آور ہورہا مگر ہمیں بھی الزام تراشی کی بجائے عملی اقدمات اٹھانے ہونگے۔ ذمہ دار جان لیں کہ ملک کے سوچنے سمجھنے والے حلقے یہ سننے کو تیار نہیں کہ دشمن سرحد پار کرکے آتا ہے اور اپنے تین دہشت گردوں کے عوض ہمارے ستر سے زائد قمیتی افراد شہید اور سینکڑوں کو زخمی کرجائے۔ اس کی بجائے قومی پالیسی میں موجود ان نقائص کو دور کرنا چاہے جو اہل اقتدار کو ملک کے اندار اور باہر آئے روز شرمسار کرنے کا باعث بن رہے۔
اپنی کوتاہیوں کی زمہ داری دوسروں کے کندھوں پر عائدکرنا مسقل طور پر ارباب اختیار کو نہیں بچا سکتا۔ سانحہ کوئٹہ کے بعد ایک پھر یہ سوال پوری قوت سے پوچھا جارہا کہ دشمن کو حتمی شکست سے کب اور کیسے دوچار کیا جائیگا۔ تشویشناک ہے کہ ہمارا نہ نظر آنے والا دشمن بدستور متحرک ہے۔ہر چند ہفتوں بعد اس کا کاری وار ہماری قومی کامیابیوں کی چمک ماند کردیتا ہے۔ کوئٹہ کاسانحہ ایسے وقت میںہوا جب پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کی افادیت کے چرچے ہیں۔ بھارت یہ سمجھ چکا کہ اگر یہ منصوبہ بروقت پایہ تکمیل کو پہنچ گیا تو اس کے نتیجہ میں پاکستان کی سیاسی اور معاشی مشکلات میں قابل زکرکمی واقعہ ہوسکتی ہے۔ چنانچہ دہشت گردی کی ہر کاروائی ہماری ناکامی جبکہ دہشت گردوں کی کامیابی ہے جو آئے روز ہمارے بڑوں کے دعووں اور یقین دہانیون کا مذاق اڈاتے ہوئے بربریت کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

Scroll To Top