1971کے بعد قومی سیاست میں نظریاتی تبدیلی دیکھائی دے رہی

  • حکومت کے پہلے 100دنوں میں طرزحکمرانی کی سمت کا واضح طور پر تعین ہوجائیگا  13 اگست 2018کا دن قومی تاریخ میں خوشگوار احساسات کا حامل رہا۔ یعنی ایک ہی روز

zaheer-babar-logoملک کی 15 ویں قومی اسمبلی کے اراکین اور سندھ ، خبیر پختونخوا اور بلوچستان کے ممبران اسمبلی نے حلف اٹھایا ۔ وطن عزیز کی جمہوری تاریخ میں اس پیش رفت کی غیر معمولی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ 25جولائی 2018 کے عام انتخابات کی خاص بات یہ بھی رہی کہ پہلی بار پاکستان تحریک انصاف عوامی حمایت کے بل بوتے پر ایسی فیصلہ کن کامیابی حاصل کرپائی جس کے بعد وہ خبیر پختونخوا میں دوسری بار جبکہ وفاق اور پنجاب میں بھی پہلی بار حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگی ۔ بلوچستان میں بھی پی ٹی آئی اہم اتحادی کے طور پر موجود ہے جبکہ سندھ میں وہ بھرپور حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے جارہی۔
نئی پارلمینٹ کی اہمیت یہ ہے کہ 1971کے بعد قومی سیاست میں ایسی نظریاتی تبدیلی دکھائی دی جسے ہر زی شعور پاکستانی نے محسوس کیا ۔ آج قومی اسمبلی ہی نہیںصوبائی اسمبلیوں میں بھی پاکستان تحریک انصاف نئے چہروں کو سامنے لائی جو کچھ کر گزرنے کی عزم سے سرشار ہیں۔ مثلا تحریک انصاف کی زیلی تنظیم انصاف سٹوڈنٹنس فیڈریشن کے آٹھ نوجوان مرد وخواتین قومی وصوبائی اسمبلیوں میں جا پہنچے ۔ چنانچہ کامیاب ہونے والے اراکین اسمبلی کھل کر کہہ رہے کہ وہ ایوان میں جاکر طلبہ یونین پر سے پابندی اٹھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
حالیہ انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی روایتی سیاسی جماعتوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ اپنی جاری حکمت عملی تبدیل کریں ۔ مخصوص خاندانوں کے اردگرد گھومتی سیاست کے علمبرداروں کو جان لینا چاہے کہ عوام کا اجتماعی شعور ان فرسودہ روایت کو قبول کرنے کوتیا رنہیں جس میں انھیں خاص اہمیت نہ دی جائے۔ 2013میں عمران خان نے جس طرح کے پی کے میں حکومت کرکے عوام سے کےے گے وعدے نبھائے یہ اسی کا ثمر ہے کہ خبیر پختونخوا کے عوام نے پھر پی ٹی آئی کو فیصلہ کن برتری سے سرفراز کیا ۔ کے پی کے کی سیاسی تاریخ کو جاننے والے آگاہ ہیں کہ ایسا پہلے کھبی نہیںہوا کہ ایک پارٹی نے اپنی آئینی مدت پوری کی تو صوبے کے عوام نے پھر اسے حکومت میں لے آئے۔ سیاسی مبصرین کا دعوی ہے کہ بظاہر آنے والے دنوں میں قومی سیاست میں کارکردگی ہی معیار سمجھی جائے گی ۔ یعنی 2023 کے انتخابات میں وہی سیاسی جماعت قومی منظر نامے پر ابھر کرسامنے آسکتی ہے جس نے لوگوں کو بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کی۔ آسان الفاظ میں یوں کہ اب ملکی سیاست ذاتی اور خاندانی مفادات سے کہیں بڑھ کر عوام کی فلاح وبہبود کے لیے ہونی چاہے ۔ کپتان کا تبدیلی کا وعدہ ہی تھا جس نے اسے خبیر تا کراچی بھرپور عوامی حمایت سے سرفراز کیا۔ مخصوص حوالوں سے اسے پاکستانی عوام کو ایسا اعتماد کہنا چاہے جس سے بظاہر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ہی نہیں کئی سیاسی جماعتیں تہی دامن نظر آئیں۔
یقینا پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہوچکا جس میں سیاست حقیقی معنوںمیں خدمت کا دوسرا نام سمجھی جارہی ۔ کپتان کی 22سالہ جدوجہد اس لحاظ سے رنگ جما چکی کہ آج اس کے بدترین مخالف بھی اس کے معیار کو اپنانے پر مجبور ہیں۔ بلاشبہ عمران خان نے قوم کو امید دلائی ، عام پاکستانی کو ایسا مسقبل دینے کا وعدہ کیا جہاںعام وخواص کی تمیز نہ ہو۔ اقبال کے الفاظ میں یوں کہا جاسکتا کہ
نہیںہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جانتے ہیںکہ آج عوام قومی سیاست ہی نہیں طرزحکمرانی میں بھی تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔ چنانچہ پہلے ہی اعلان کیا جاچکا کہ وہ غریب ملک کے وزیر اعظم ہیں لہذا کسی طور پر عالشیان وزیر اعظم ہاوس میں نہیںرہیں گے۔حالیہ انتخاب میں کامیابی سے لے اب تک عمران خان سفید شلوار قمیض میں ہی ملبوس نظر آرہے ۔ کپتان کی کفایت شعاری کا اندازہ یوں بھی لگایا جائے کہ سوموار کو قومی اسمبلی میں حلف برداری کی تقریب میں بھی وہ سفید شلوار قمیض پہن کر آئے تو تصویر بنوانے کے لیے واسکٹ اسمبلی ملازم کی پہنی پڑی۔
عمران خان وزیر اعظم بنتے ہی اپنے سو دن کے انقلابی پروگرام کا وعدہ کرچکے ۔ کپتان کے قریبی حلقوں کا دعوی ہے کہ کپتان ابتدائی تین مہینے میں ہی یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ ملک کو کس سمت میں لے جانے کے خواہشمند ہیں۔ کپتان کو باخوبی اندازہ ہے کہ وزارت عظمی کا حلف اٹھاتے ہی اپوزیشن ان کے خلاف پوری قوت سے مورچہ زن ہوجائیگی۔ مبصرین کے مطابق وفاق اور پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کے لیے کسی قسم کی غلطی کی گنجائش نظر نہیں آتی چنانچہ شائد پی ٹی آئی کی احتیاط پسندی ہی ہے جس کی بدولت پنجاب کے وزیر اعلی کا نام تاحال سامنے نہیں لایا جارہا۔

Scroll To Top