سعودی عرب، چین نئی حکومت کیساتھ قریبی تعلقات کیلئے پرجوش

  • سعودی فرمانرواکا نامزد وزیر اعظم عمران خان کو ٹیلیفون ،انتخاب جیتنے پر مبارکباد ، ،نیک تمناﺅں کا اظہار ،پاکستان، سعودی عرب کیلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے،پاکستان کے عوام نے آپ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ، شاہ سلمان
  • چین نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے قرض لینے سے بچنے کے لیے پاکستان کو مالی تعاون کی یقین دہانی کرا دی، قرض ملکی زرمبادلہ کی قلت پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوگا،پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالنے کیلئے چینی حکام سرگرم

سعودی عرب، چیناسلام آباد(ایجنسیاں)سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نئی حکومت کے ساتھ نہایت قریبی اور متحرک تعلقات کا خواہاں ہے۔شاہ سلمان نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے چیئرمین اور نامزد وزیر اعظم عمران خان کو ٹیلی فون کیا اور انتخاب جیتنے پر مبارکباد دی۔پی ٹی آئی میڈیا سیل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو کے دوران شاہ سلمان نے نئی حکومت کے لیے نیک تمناوں اور خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان، سعودی عرب کی نظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔’ان کا کہنا تھا ‘پاکستان کے عوام نے آپ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ سعودی عرب نئی حکومت کے ساتھ نہایت قریبی اور متحرک تعلقات کا خواہاں ہے۔’عمران خان نے سعودی فرمانروا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ‘سعودی عرب، پاکستان کا ایسا دوست ہے جس نے ہمیشہ مشکل میں ہمارا ساتھ دیا۔’انہوں نے کہا کہ ‘سعودی عرب کی سیکیورٹی کو نہایت اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں حرمین شریفین کا تحفظ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے۔’شاہ سلمان کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف کو سعودی عرب کے دورے کی دعوت دی گئی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔عمران خان نے سعودی فرمانروا کو بھی پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو انتخابات جیتنے کے بعد پاکستان کے متوقع 21 ویں وزیراعظم ہونے کی وجہ سے دنیا بھر سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔اس سے قبل بھی عمران خان کو سعودی فرمانروا کی مبارکباد کا پیغام موصول ہوا تھا۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کو مبارکباد کا پیغام ارسال کیا اور پاکستان کے عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لیے دعا کی۔پاکستان میں تعینات سعودی سفیر فیر نواف بن سعید المالکی وہ پہلے سفیر تھے جنہوں نے اس سلسلے میں عمران خان سے ملاقات کی تھی جبکہ انتخابی نتائج آنے کا سلسلہ جاری تھا۔بعد ازاں متعدد ممالک کے سفیروں نے سربراہ تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی اور انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی تھی۔پی ٹی آئی چیئرمین کو دنیا کے کئی سربراہانِ مملکت کے فون بھی موصول ہوئے جس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، افغانستان کے صدر اشرف غنی اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان بھی شامل ہیںدریں اثناءچین نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض لینے سے بچنے کے لیے پاکستان کو مالی تعاون کی یقین دہانی کروادی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق چینی قرض ملکی زرمبادلہ کی قلت کا مسئلہ حل کرے گا، چینی حکام چاہتے ہیں کہ پاکستان اپنا بڑا خسارہ کم کرے۔چین کے قومی بینک پاکستان کو گزشتہ ایک سال کے دوران پانچ ارب ڈالر قرض دے چکے ہیں۔دوسری جانب پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف سے 12 ارب ڈالر قرض لینے کی حکمت عملی مرتب کرلی ہے۔پاکستان میں یہ مسلسل تیسری حکومت ہے جسے الیکشن جیتنے کے بعد سب سے پہلے معاشی مشکل کا حل تلاش کرنا پڑ رہا ہے ،آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ مالی سال 2019 میں پاکستان کو بیرونی فنانسنگ کی مد میں 27 ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔50 ارب ڈالر کی برآمدات ہوں تو یہ مسئلہ حل ہو جائے، دوسرا حل درآمدات کم کرنے میں ہے جس پر عمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ وہ اس بات کی نگرانی کریں گے کہ آیا عمران خان کی نئی حکومت چینی قرضوں کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف کے قرضوں کا استعمال تو نہیں کرے گی۔اس حوالے سے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ وہ پاکستان میں 60 ارب ڈالر سے زائد کے بیلٹ اینڈ روڈ انفراسٹرکچر منصوبوں میں مزید شفافیت لائیں گے اور مائیک پومپیو کے اس بیان کا جواب دیں گے۔

Scroll To Top