پی ٹی آئی سیاسی مفاہمت کی راہ پر

zaheer-babar-logo

وطن عزیز کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کو کشیدگی سے ممکن حد تک احتراز برتنا ہوگا۔ یعنی 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج جو بھی آئے انھیں قبول کرنے میںہی ملک وقوم کی بہتری ہے۔ سیاسی خلفشار کا فائدہ حکومت کو تو نہیںہونے والا مگر اس سے اپوزیشن کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آئیگا۔ملک کی سب ہی سیاسی جماعتیں آگاہ ہیں کہ پاکستان کن بحرانوں سے دوچار ہے۔ گذشتہ دس سال بارے اعلانیہ طور پر کچھ بھی کہا جائے مگر درحقیقت اس کے نتیجے میں ملکی مسائل میںاضافہ ہوا۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور اس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی نے جس طرح عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لیا وہ ریکارڈ ہے۔ گزرے ماہ وسال میں ایک طرف تو ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار رہی تو اس پر قرض پہ قرض لے کر اس کی حالت مذید پتلی کردی گی۔ بقعول غالب
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
ملکی مسائل کے حل کے لیے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ محض اس بنا پر ایک دوسرے کا حریف بن جانا کہ اقتدار میں اس کوئی حصہ نہیں مل رہا خطرناک رجحان سمجھا جانا چاہے۔ اس پس منظر میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں سے مفاہمت پر مبنی رویہ خوش آئند ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور اپوزیشن رہنماوں بلاول بھٹو زرداری اور شہبازشریف کو بھی عمران خان کی بطور وزیر اعظم حلف برداری کی تقریب میںدعوت دی جارہی ہے۔ تاحال یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ پی ایم ایل این اور پی پی پی پاکستان تحریک انصاف کی اس پیشکش کا کیا جواب دیں گے مگر آثار کسی طور پر حوصلہ افزاءنہیں۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ چونکہ عمران خان نے بطور اپوزیشن لیڈر ایک طرف دو بڑی جماعتوں کے خلاف مورچہ سنبھالے رکھا تو چھوٹی جماعتوں سے بھی ان کے تعلقات اچھے نہیں رہے۔ حالیہ عام انتخابات میں بھی پاکستان تحریک انصاف نے سب ہی جماعتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ سیاست کے بڑے بڑے نام شکست سے دوچار ہوئے۔
اسے سیاسی بالغ نظری ہی کہنا چاہے کہ قومی مسائل پر ایک ہو ا جائے۔ بلاشبہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میںیہ امید رکھنا خوش فہمی کے سوا کچھ نہیںکہ سیاسی قیادت سیاسی پختگی کا ثبوت دے گی ۔بعض اہل فکر ونظر کے نزدیک بنیادی سبب یہ ہے کہ کروڈوں پاکستانی میں مثالی سیاسی فہم وفراست نہیںچنانچہ بعض رہنما اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے معصوم اورسادہ لوح پاکستانیوں کو بہکانے میں زیادہ دیر نہیں لگاتے۔
حالیہ سالوں میںایک بہتری یہ ہوئی کہ خبیر تا کراچی میڈیا اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ۔ پرنٹ کے علاوہ الیکڑانک اور سوشل میڈیا نے آگے بڑھ کر ان تمام کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کی جس کی بدولت کئی دہائیوں تک عوام کا استحصال کیا جاتار رہا۔ میڈیا کی مجبوری یہ ہے کہ ہر ٹی وی چینل کو ریٹینگ کی دوڈ میں ہر حال میں آگے نکنے کا جتن کرنا ہے لہذا یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنے ان کروڈوں ناظرین کے کے جذبات کو نظر انداز کردے جو اسے امید بھری نظروں سے دیکھ رہے۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار سے متعلق کچھ بھی کہا جائے مگر اس سچائی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مقامی حکومتوں کا نظام اور پھر نجی ٹی وی چنیلز کو لائنس دے کر انقلابی قدم اٹھایا گیا۔ آج جس طرح الیکڑانک میڈیا عوامی مسائل اٹھارہا ماضی میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ٹھیک کہا جارہا کہ پاکستان کا سماج ،سیاست اور معشیت تبدیل کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ اس بدلے ہوئے پاکستان میں وہی گروہ اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے جو اس تبدیلی کا ادراک کرلے۔
مخصوص حوالوں سے پاکستان تحریک انصاف نے اس بدلے ہوئے ملک میں خود کو منوانے کے لیے جدید تقاضوں کو نہ صرف سمجھا بلکہ ان کا بھرپور استمال بھی کیا۔ اس کے برعکس عمران خان کے سیاسی مخالفین ان پر زبانی حملے تو کرتے رہے مگر جدید سیاسی انداز میں پی ٹی آئی کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ عمران خان پر دھاندلی کے زریعہ جیتنے کا الزام حزب مخالف کی سوچی سمجھی حکمت عملہ ہے وہ دل وجان سے اس پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر انھوں نے اپنے حامیوں کو انتخابات میں دھاندلی کا یقین نہ دلایا تو آنے والے سالوں میں ان کا سیاسی وجود خطرات سے دوچار ہوسکتا ہے۔
درپیش صورت حال کو پی ٹی آئی بھی باخوبی سمجھ رہی مگر پاکستان تحریک انصاف کی مجبوری یہ ہے کہ وہ کسی طور پر حزب مخالف سے محاذآرائی بڑھانے کے حق میں نہیں۔ عمران خان کی متوقع حکومت کو باخوبی اندازہ ہے کہ اگر حقیقی معنوں میں انھوں نے تبدیلی کا وعدہ سچ کر دکھانا ہے تو اس کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ممکن حد تک تعلقات بہتر بنانا ہونگے ۔ ادھر عمران خان الیکشن کے بعد اپنی پہلی تقریر میں بھی کہہ چکے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے مطالبہ پر دھاندلی کی تحیقیقات کروانے کو تیار ہیں۔آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی حکومت اس مطالبہ سے کس طرح نمٹتی ہے اس کا فیصلہ جلد ہوجاییگا۔ سیاسی پنڈتوں کا مشورہ یہی ہے کہ اپوزشین جماعتیں پی ٹی آئی حکومت پر جتنی بھی تنقید کرلے مگر حکومت کو کسی صورت تصادم کی فضا بنانے سے گریز کرنا ہوگا۔

Scroll To Top