امن کی آشا 01-10-2013

kal-ki-baat
جیو گروپ کو جس امن کی آشا ہے وہ صر ف ایک صورت میں قائم ہوسکتا ہے کہ تاریخ اپنی صداقتوں کو یکسر تبدیل کرڈالے۔ تاریخ کی سب سے بڑی صداقت یہ ہے کہ جہاں ظلم بے انصافی اور جبر کا بیج بویا جائے وہاں امن کی فصل نہیں اگ سکتی۔ جب تک کشمیر کے ایک کروڑ مسلمانوں کے سروں پر نو لاکھ بھارتی فوجیوں کی سنگینوں کا پہرہ قائم ہے اس وقت تک امن کے گیت صرف جیو کی سکرین پر گائے جاتے رہیں گے۔
نیو یارک میں بالآخر بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے ساتھ پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے مصافحہ کر ہی لیا۔بات چیت بھی ہوگئی۔ اس ملاقات اور اس میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں ایک امن پرست روشن خیال اور بھارت نواز پاکستانی مبصر سے پوچھا گیا کہ آپ اسے کس حد تک خوش آئند قرار دیتے ہیں تو موصوف نے بڑے معنی خیز انداز میں جواب دیا۔
” کیا یہی بڑی پیش رفت نہیں کہ ملاقات ہوگئی اورملاقات میں آئندہ ملاقاتیں کرتے رہنے کا عندیہ بھی دے دیا گیا ؟“
پاک بھارت تعلقات کی برسہا برس پر محیط تاریخ اس مختصر جواب میں مضمر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو باڑھ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر کھڑی کی ہے وہ اہلِ پاکستان کو ایک واضح پیغام کا درجہ رکھتی ہے۔
” کشمیر کا لفظ اپنی لغت میں سے نکال پھینکو۔ ہمارے درمیان اور کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں سوائے اس کے کہ آپ لوگوں کے حافظے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں اٹک کر رہ گئی ہیں۔ اور ان نام نہاد قراردادوں کا بھرم قائم رکھنے کے لئے آپ لوگ دہشت گردوں کی سرپرستی کرتے رہتے ہیں۔“

Scroll To Top