پاکستان کس نے قائم کیا تھا ؟

aaj-ki-baat-new

مسلم لیگ نے ؟ ۔۔۔
یا محمد علی جناح (رحمتہ للہ اعلیہ) نے ؟
یہ سوال وضاحت طلب ہے ۔ اور وضاحت اس کی یہ ہے کہ اگر مسلم لیگ کی قیادت محمد علی جناحرحمتہ اللہ علیہ
کے ہاتھوں میں نہ ہوتی یا وہ برصغیر کی تاریخ کے اُس اہم موڑ پر موجود ہی نہ ہوتے تو کیا گاندھی ’ نہرو اور پٹیل کی کانگرس ہندوستان کو تقسیم ہونے دیتی ؟ مسلم لیگ کی ” باقی قیادت“ کیسے لوگوں پر مشتمل تھی اس کا اندازہ لگانے کے لئے قائداعظم(رحمتہ للہ اعلیہ) کی وفات کے بعد کے حالات وواقعات کا سرسری سا جائزہ لینا ہی کافی ہے۔ مسلم لیگ میں اچھے لوگ یقینا تھے اور بہت بڑی تعداد میں ہوں گے مگر بات ” اچھے برُے“ لوگوں کی نہیں ” جوہرِقابل“ کی ہے۔ اور بات صرف ” جوہرِقابل “ کی بھی نہیں ” کمٹمنٹ “ کی بھی ہے۔ بلکہ یہاں میں ایک اور ” جزوِلازم“ کا ذکر بھی کروں گا۔ بات ” وِژن “کی بھی ہے۔
مجھے ” کمٹمنٹ “ اور ” وِژن“ کی جگہ اردو اصطلاحیں استعمال کرنی چاہئیں ۔ مگر وابستگی یا لگاﺅ میں ” کمٹمنٹ“ والی بات نہیں ۔ اور بصیرت اگرچہ بڑی جامع اصطلاح ہے لیکن ” وِژن“ کا مفہوم پوری طرح ادا نہیں کرتی۔
کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ اگر مسلم لیگ میں وہ ” جوہرِ قابل “ نہ ہوتا ’ وہ ” کمٹمنٹ“ نہ ہوتی اور وہ ” وِژن“ نہ ہوتا جو اسے قائداعظم(رحمتہ للہ اعلیہ) کی تاریخ ساز شخصیت نے دیا تو اس میں جو بھی اچھے لوگ تھے اور جتنی بھی تعداد میں تھے ان کو تاریخ اگر یادرکھتی تو بس اسی قدر یاد رکھتی جس قدر وہ آپ کو یاد ہیں۔ پاکستان البتہ کبھی نہ بنتا۔ آپ کہیں گے کہ کیوں نہ بنتا ¾ یہ تو منشائے الٰہی تھی کہ پاکستان بنے۔ یقینا منشائے الٰہی تھی اسی لئے تو مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان کی قیادت کے لئے قدرت نے اس بطلِ جلیل کا انتخاب کیا جس کی بصیرت قابلیت اور کمٹمنٹ اور جس کے قائدانہ حوصلے تدبر عزم و یقین اور وِژن کی مثال اگر تاریخ میں ملتی ہے تو ان ” رجالِ عظیم“ کے حوالے سے ملتی ہے جنہوں نے صرف اپنے ممالک اور اپنی قوموں کی ہی تقدیر تبدیل نہیں کی ¾ بلکہ بعض مرتبہ اور بعض حالات میں پوری دنیا کے زمینی حقائق کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔
مجھے یادہے کہ 1961ءمیں لیونارڈ موسلے کی ایک کتاب شائع ہوئی تھی جس کا ٹائٹل تھا۔۔۔
The Last Days of the British Raj
(برطانوی راج کے آخری ایام)
یہاں یہ بات مدنظر رکھی جانے والی ہے کہ لیونارڈ موسلے تقسیمِ ہند سے قبل کے ہنگامہ خیز دور میں لندن کے معروف اخبا ر ٹیلی گراف سے منسلک تھے اور نیو دہلی میں بیورو چیف کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے اس دور کے تمام واقعات کو اپنی آنکھوں سے رونما ہوتے دیکھا ¾ اور بہت سارے واقعات کے پس منظر کے وہ چشم دید گواہ تھے۔
اپنی کتاب میں انہوں نے لکھا کہ ” کانگرس کی پوری قیادت اس حقیقت سے آگاہ تھی کہ مسلم لیگ کے پاس محمد علی جناح ؒکے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ نہرو نجی محفلوں میں اکثر کہا کرتے تھے کہ اکھنڈ بھارت اور ہمارے درمیان صرف ایک شخص حائل ہے ’ اگر وہ شخص راستے سے ہٹ جائے تو ہم بھارت ماتا کو کبھی تقسیم ہونے نہیں دیں گے ۔“
ایک جگہ لیونارڈ موسلے نے لکھا۔
” جب کا بینہ کی تشکیل ہورہی تھی تو کانگرس کے کیمپ میں اس بات کا بڑی شدت کے ساتھ انتظار تھا کہ محمد علی جناح ؒکس شخص کو وزارتِ خزانہ کے لئے نامزد کرتے ہیں۔ یہ وزارت مسلم لیگ کے حصے میں آئی تھی۔ جب کانگرس کے کیمپ میں یہ اطلاع پہنچی کہ لیاقت علی خان کو نامزد کیا گیا ہے تو کانگریسی لیڈروں کے چہرے کِھل اٹھے۔ ولبھ بھائی پٹیل نے قہقہہ لگا کر کہا کہ لیاقت نوابزادہ صاحب کے صرف نام کا حصہ ہے۔ اس موقع پر نہرو بولے کہ مسلم لیگ کی تہی دامنی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جناح کو لیاقت سے زیادہ لائق کوئی آدمی نظر نہیںآیا۔“
اس گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے لیونارڈموسلے نے لکھا۔
” لیاقت علی خان کی نامزدگی پر جشن مناتے وقت کانگریسی لیڈر یہ نہیں جانتے تھے کہ وزیر خزانہ کو ایک ایسے قابل مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل ہوں گی جس میں کانگرس کو ناکوں چنے چبوانے کی صلاحیت تھی۔ اگر پٹیل اور نہرو چوہدری محمد علی کے بارے میں جانتے ہوتے تو جناح کی بصیرت کا تمسخر نہ اڑاتے۔“
سب سے دلچسپ بات جو لیونارڈموسلے نے لکھی وہ یہ تھی کہ ” تقسیمِ ہند کا عمل اور سفر برطانوی راج کے آخری ایام میں کچھ اتنی تیز ی کے ساتھ طے ہوا کہ یقین نہیں آتا تھا۔ اس برق رفتار پیش قدمی میں واضح طور پر محمد علی جناح کی کوششوں کو بڑا دخل حاصل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر جناح جلدی نہ کرتے تو گورداس پور پاکستان کے حصے میں آتا یعنی پاکستان کا نقشہ قدرے بہتر ہوتا۔ 1948ءکے آخری دنوں میں جب میں کانگرس کی مرکزی قیادت سے ملاتو انہوں نے اس بات پر تاسف کا اظہار کیا کہ کاش ہمیں جناح کی بیماری کا علم ہوتا۔ پھر ہم کبھی تاریخ کا پہیہ اتنی تیزی کے ساتھ چلنے نہ دیتے۔ اگر پاکستان 1947ءمیں نہ بنتا تو پھر کبھی نہ بنتا۔“
میں نے لیونارڈموسلے کی کتاب سے یہ حوالے اپنے اس موقف کی مضبوطی ثابت کرنے کے لئے دیئے ہیں کہ تاریخ سازی کا کام جماعتیں نہیں قیادتیں انجام دیا کرتی ہیں۔
اگر آپ کا نگرس کا ماضی بھی کھنگالیں تو آپ اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہیں گے کہ اگر پہلی جنگ عظیم کے اختتامی دور میں گاندھی جنوبی افریقہ سے بھارت نہ آتے ¾ یا پھر موتی لال کو جواہر لال جیسا لائق فرزند نہ ملا ہوتا تو کانگرس میں دوسرا کوئی لیڈر ایسا نہیں تھاجو محمد علی جناح(رحمتہ للہ اعلیہ) کی خداداد بصیرت اور قابلیت کے سامنے ٹھہر سکتا ۔
مطلب اس بات کا یہ ہے کہ جب قدرت قوموں ملکوں اور دنیا کی تاریخ کی راہیں اور منزلیں متعین کررہی ہوتی ہے تو وہ ہر ” نتیجہ “ سامنے لانے کے لئے ” نتیجہ آفرین“ شخصیت کا انتخاب بھی کرتی چلی جاتی ہے۔
آپ ذرا سوچیں کہ اگر قادرِ مطلق کو دورِ جہالت میں پیغمبر اسلام کا ظہور مقصود نہ ہوتا تو آج دنیا کی تاریخ کیا ہوتی۔؟
ایک سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ انڈا پہلے پیدا ہوا یا مرغی۔ مگر جو بات میں زور دے کر کہنا چاہتا ہوں اس پر اس سوال کا اطلاق نہیں ہوتا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت آمنہ ؓ کی گود ہری ہوئی تو کُل عالمین کے ذرے ذرے پر لکھ دیا گیا کہ اسلام آنے والا ہے۔ یہ درست ہے کہ جس نظام نے دنیا کی تقدیر تبدیل کرڈالی اس نے اسلام کی ہی کوکھ سے جنم لیا۔ مگر کون کہے گا کہ اسلام پہلے آیا اور پیغمبر اسلام بعد میں ۔؟
ہاں۔۔۔ خدا کی معبودیت پہلے بھی تھی ۔ عبادات کا سلسلہ پہلے بھی چلتا تھا۔ روزے پہلے بھی رکھے جاتے تھے ۔ حج پہلے بھی ہوتے تھے۔ جبینیں سجدوں میں پہلے بھی جھکتی تھیں۔ مگر ریاستِ مدینہ اس لئے قائم ہوئی کہ خدائے بزرگ و برتر نے بنی نوع انسان کو تاریخ کے سب سے بڑے انقلاب سے فیضیاب کرانے کے لئے اس عظیم ہستی کا انتخاب کیا تھا جسے ہم حبیبِ خدا کہتے ہیں۔
ہیرو ڈوٹس سے ٹائن بی تک میں نے جتنی بھی تاریخ پڑھی ہے یا جتنی بھی تاریخیں پڑھی ہیں ¾ مجھے ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی کہ دنیا کسی ابراہیم ؑ ;کسی موسیٰ ؑ ; کسی داﺅد ؑ ; یا کسی عیسیٰ ؑ کے بغیر تبدیل ہوئی ہو۔
یہ تو پیغمبر تھے ۔ میں بات کو سکندروں اور سیزروں کی طرف لاتا ہوں۔اپنے اگلے کالم میں میں اپنے موقف کی وضاحت ہومر کی دیومالائی داستانوں کے کرداروں سے لے کر آج کے دور کے تقدیر سازوں کی مثالیں دے کر کروں گا۔
جب تک ہم اپنی سوچ کی دیواریں مفروضات کی بجائے تاریخی حقائق کی بنیادوں پر کھڑی کرنا نہیں سیکھیں گے ہمارے مقدر میں یہی جمہوریت ۔۔۔یا پھر یہی آمریت رہے گی جو ہمیں زیادہ سے زیادہ نوازشریف ’بے نظیر بھٹو; جنرل مشرف اور آصف علی زرداری اینڈکمپنی دے سکتی ہے۔۔۔

Scroll To Top