نئی حکومت کو خارجہ محاذ پر درپیش چیلنجز

zaheer-babar-logo
عمران خان سے غیر ملکی سفیروں کی ملاقاتوں کو سلسلہ جاری ہے۔امریکہ ، برطانیہ ، روس ، ایران اور اب بھارت کے سفیر نے بنی گالہ میں تحریک انصاف کے سربراہ سے ملاقات کی ہے۔ عالمی برداری کی نظر میں پاکستان کا محل وقوع بجا طور پر اس کا متقاضی ہے کہ یہاں حکومت کی تبدیلی پر گہری نظر رکھی جائے۔ گزرے ماہ وسال میں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی شکل میںدوجماعتوں نے مجموعی طور پر دس سال کا عرصہ گزرا مگر اب وفاق میں پاکستان تحریک انصاف حکومت بنانے جارہی جس کے متعلق تاثر یہی ہے کہ وہ داخلہ اور خارجہ محاذ پر کچھ نہ کچھ تبدیلیاں لاسکتی ہے۔کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس کے داخلہ مسائل کا عکس ہی ہوا کرتی ہے چنانچہ ممکن ہے کہ اگر اندرونی پالیساں بدلیں تو ان کا اثر خارجہ پالیسوں پربھی مرتب ہو۔
حال ہی میں پانچ سال کی مدت پوری کرنی مکمل کرنے والی مسلم لیگ ن کی حکومت بارے معروف یہی رہا کہ وہ ملکوں سے تعلقات کے معاملہ میں ریاستی مفاد سے کہیں زیادہ انفرادی اور گروہی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتی رہی۔ مثلا لندن میں میاں نوازشریف کی قیمتی جائیدادیں ہیں ، ان کے صاحبزادے برطانوی شہری ہیں وہ وہاں اربوں نہیںکھربوں روپے کا کاروبار کررہے چنانچہ سابق وزیر اعظم کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ ملک وملت کے لیے اپنے خاندان کی خوشنودی کو نظر انداز کردیتے۔ ٹھیک کہا جاتا ہے کہ جس ریاست کا حکمران کاروبار کریں گا تو وہ کبھی بھی تعمیر وترقی کی منازل طے نہیں کرسکتی۔ اہل پاکستان کی بدقستمی یہی ہے کہ یہاں کی نامور سیاسی شخصیات بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر کاروبار کررہیں۔ ملک کا شائد ہی کوئی قابل زکر تاجر خاندان ایسا نہیں جو کسی نہ کسی شکل میںسیاست میں فعال نہ ہو چنانچہ اس صورت حال کا نقصان ملک کو جو ہونا تھا وہ ہوا مگر بین الاقوامی برداری میں بھی پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی۔
ملک کے متوقع وزیر اعظم عمران خان بارے پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ کوئی کاروبار نہیں کرتے۔پاکستان میں ہی نہیں بیرون ملک بھی ان کے ہرگز کوئی تجارتی مفادات نہیں۔ ان دو صاحبزادے اپنی والدہ جمائمہ کے ساتھ لندن میںمقیم ہیں جن کا پاکستان میں آنا جانا سالوں میں ممکن ہوا کرتا ہے۔ الیکشن سے بہت پہلے مسلم لیگ ن کے حنیف عباسی نے عمران خان کے خلاف سپریم کورٹ میں جو کیس دائر کیا اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی چیرمین کے سب ہی اثاثہ جات کھل کر قوم کے سامنے آچکے۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ عمران خان کی ایمانداری کیا انھیں ملک کے اندر اور باہر موجود چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوگی۔ یقینا اس کا جواب اثبات میں ہے ۔ عصر حاضر میں حکمرانوں کے لیے اپنے عزائم چھپانا آسان نہیں رہا ۔ حال ہی میں نوازشریف کے سیاسی زوال کی وجہ کوئی اور نہیں پانامہ لیکس بنا جس ٰمیں ان کے بچوں کی آف شور کمپنیاں انھیں لے ڈوبیں ۔ عمران خان سے عالمی برداری کو معاملات طے کرتے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھنا پڑے گا کہ پاکستانی وزیر اعظم کے کاروباری مفادات کا کس حد تک خیال رکھا جانا چاہے شائد یہی وہ پہلو ہے جو عمران خان کو ماضی کے حکمرانوں سے ممتازکرتا ہے۔
تازہ پیش رفت میں پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ نے عمران خان سے ملاقات کی ۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس میںشبہ نہیںکہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ڈرامائی بہتری آنے کا امکان نہیں مگر اتینا ضرور ہے کہ عمران خان کو بطور کرکٹر بھارت کے بااثر حلقوں میں مقبول ہیں لہذا وہ ایسا ماحول پیدا کرسکتے ہیں جس میں دونوںملکوں کے علاوہ عوامی سطح پر بھی روابط کو فروغ حاصل ہو۔ کہا جارہا کہ عمران خان کی تقریب حلف برداری میں سنیل گواسکر سمیت چند اور معروف بھارتی کرکٹر آسکتے ہیں۔
عمران خان کی متوقع حکومت کو درپیش چیلجنز کا شمار کرنا مشکل ہے۔ایک طرف معاشی مسائل ہیں تو دوسری جانب انھیں خارجہ پالیسی کو بھی درست کرنا ہوگا۔ مسلم لیگ ن کی خارجہ پالیسی میں سنجیدگی کا عالم یہ رہا کہ چار سال سے زائد عرصہ تک وزیر خارجہ کا تقرر ہی نہ کیا جاسکا۔ وزارت خارجہ کا قلمدان میاں نوازشریف نے اپنے پاس رکھا چنانچہ جہاں دیگر شعبے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے نظر آئے وہی خارجہ امور بھی نظر انداز ہوئے۔
عمران خان نے کامیابی کے بعد اپنی پہلی باضابطہ تقریر میں ہمسایہ ملکوں سے تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ کپتان کا کہنا تھا کہ وہ اگر بھارت ایک قدم چل کر آگے آئے گا تو وہ دو قدم آگے بڑھیںگے ۔ شائد عمران خان اس سچائی پر دل وجان سے یقین رکھتے ہیں کہ دوست تو بدلے جاسکتے ہیںمگر ہمسایہ نہیں لہذا ممکن حد تک ہمسایہ ملکوں سے تعلقات بہتر بنائے جائیں۔ اس ضمن میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت چین سے سیکھ سکھتی ہے جس کے امریکہ اور بھارت سے کئی دہائیوں سے تنازعات چلے آرہے مگر اس کے باوجود تجارتی حجم مسلسل فروغ پذیر ہے۔ مسلہ کشمیر کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان اور بھارت میں اختلافات جلد ختم ہوسکتے ہیں چنانچہ بہت بہتر ہوگا کہ بات چیت اور تجارت دونوں کو آگے بڑھایا جائے۔ جنوبی ایشیاءمیں غربت، جہالت اور پسماندگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں چنانچہ ان مسائل پرقابو پانے کے لیے مذاکرتی عمل ہر حال میںجاری وساری رکھنا ہوگا۔

Scroll To Top