چلتے پھرتے حیوان اور ترغیب کا کلچر 28-09-2013

kal-ki-baat
جو لوگ آخرت پر سچا ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے اپنے اندر کے حیوان پر قابو پانا اور اسے قابو میں رکھنا اس لئے آسان ہوتا ہے کہ ان کی نظروں کے سامنے سے جہنم کا وہ نقشہ کبھی اوجھل نہیں ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں کھینچا ہوا ہے۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ اس میں جو تعلیم نئی پروان چڑھنے والی نسل کو ملتی ہے وہ آخرت پر آدمی کے ایمان کو مضبوط بنانے میں مدد گار نہیں ہوتی۔
یہی وجہ ہے کہ عالمِ شعور تک پہنچنے کے بعد آدمی اپنے اندر موجود حیوان پر قابو پانے کی نہ تو بھرپور کوشش کرتا ہے اور نہ ہی اس اخلاقی قوت کا حامل ہوتا ہے۔جو انسانیت کو حیوانیت پر حاوی رکھنے کے لئے ضروری ہے۔
مختصر اور آسان الفاظ میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں چاروں طرف ایسے عوامل کثرت سے پائے جاتے ہیں جو انسان کے اندر موجود حیوان کو ابھر کر سامنے آنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہی ترغیب معاشرے میں بڑھتی ہوئی بدکرداری اور جنسی حیوانیت کا سبب بن رہی ہے۔
اس ضمن میں مثالیں تو لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں لیکن ذکریہاں صرف لاہور اور کراچی میں پیش آنے والے حالیہ کپکپا دینے والے واقعات کا کروں گا۔ لاہور میں ایک پانچ سالہ بچی نامعلوم حیوانوں کی درندگی کا نشانہ بنی اور کراچی میں نامعلوم درندوں نے ایک بارہ تیرہ سالہ بچی کو اپنی شیطانی ہوس کا نشانہ بناکر مار ڈالا۔
سفاکی اور بربریت کے یہ دو واقعات اس حقیقت کا اظہار چیخ چیخ کر کرتے ہیں کہ ہم نے انفرادی طور پر اپنے اندر کے شیطان صفت حیوان کو پروان چڑھنے کا بندوبست بھی کررکھا ہے` اور معاشرے میں اس حیوان کو اپنا شکار تلاش کرنے کے لئے آزاد بھی چھوڑ رکھا ہے۔
ہمیں اپنے میڈیا کو ان اخلاقی قدروں کا پابند بھی بنانا ہوگا جو ” ترغیب کے کلچر “ کو پروان چڑھنے سے روکتی ہیں۔ اورساتھ ہی ساتھ ایسے تمام اقدامات کرنے ہوں گے جن کے نتیجے میں آزادی سے گھومتے پھرتے یہ حیوان چوراہوں پر عبرت کانشان بنے لٹکے نظر آئیں۔۔۔

Scroll To Top