عمران خان نہیں تو پھر اور کون ؟

aaj-ki-baat-new

(یہ کالم 29جنوری 2011ءکو شائع ہوا)


پاکستان کے حالیہ حالات کا جائزہ لیتے وقت اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے ارسطو ` سقراط `افلاطون یا لقمان حکیم کی ذہانت دانش اور بصیرت کی ضرورت نہیںکہ ہم ایک خوفناک معاشی، معاشرتی اور سیاسی بحران میں خاصی گہرائی تک دھنسے ہوئے تو ہیں ہی ` ایک اس سے بھی بڑا بحران ملک و قوم کو ایک خونخوار شارک مچھلی کی طرح اپنے خوفناک جبڑوں میں کھینچتا چلا جارہا ہے۔
اس کی ایک جہت اخلاقی ہے ۔ دوسری نظریاتی اور تیسری یہ کہ ہم ایک ایسی کشتی میں سوار ہیں جو ساحل سے دور بپھرے ہوئے پانیوں میں ناخدا کے بغیر ہچکولے کھارہی ہے۔ عام فہم زبان میں اسے میں قیادت کا ”بحران“ کہوں گا۔”فقدان“ کی اصطلاح میں اس لئے استعمال نہیں کررہا کہ ہمارے سیاسی منظر نامے میں حدِنظر تک ملک کی تقدیر تبدیل کرنے کا وژن اور عزم رکھنے کے دعویدار قائدین کی ایک لمبی قطار نظر آرہی ہے۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ ہمیں قیادت کے فقدان کا نہیں بحران کا سامنا ہے۔
یہاں میں بڑی بڑی قیادتوں کانام ضرور لوں گا۔
ایک تو جناب آصف علی زرداری ہیں جنہیں ایک طرف تو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ ہیں ` اور دوسری طرف یہ ” اعزاز“ کہ ایک متنازعہ بدنام اور منسوخ شدہ قانون کے ذریعے اقتدار اعلیٰ حاصل کرنے کے بعد کرپشن اور بدعنوانی کے نہایت سنگین الزامات سے بچنے اور اپنا قائدانہ تشخص برقرار رکھنے کے لئے انہیں ” صدارتی استثنیٰ“ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔
دوسرے میاں نوازشریف ہیں جو دو مرتبہ اس ملک کے وزیراعظم رہے ` دونوں مرتبہ فوجی مداخلت نے جن سے اقتدار چھینا ` اور جن کی پارٹی کے ایک لیڈر نے گزشتہ دنوں ایک ٹاک شو میں ٹیکس چوری کے الزامات مسترد کرتے ہوئے بڑے فخریہ انداز میں کہا۔ ” انہوں نے ٹیکس میںپانچ ہزار نہیں پانچ ارب روپے ادا کئے ہیں۔ وہ تمام کارخانے اور کاروبار بھی تو ٹیکس ادا کرتے ہیں جن کے وہ مالک ہیں!“
یہاں میں ابن خلدون کے مقدمے میں درج اس آفاقی اصول کا ذکر کروں گا کہ ” اُس ملک اور معاشرے کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا جس پراس کے تاجر اور بیوپاری حکومت کرتے ہوں او ر جس میں سیاسی اقتدار اور تجارتی مفادات کا سنگم ایک ہی ہاتھ میں ہوتا ہو۔“
کیا پانچ ارب کا ٹیکس ادا کرنے والی قیادت کی آمدنی کھربوں میں نہیں ہوگی ؟ اور کیا کھربوں کی آمدنی رکھنے والی قیادت کی ترجیحات میں اولیت اپنے فرائض ِمنصبی سے انصاف کرناہوگا یا اپنے مالی مفادات کو فرو غ دینا اور تحفظ فراہم کرنا۔۔۔؟
اس کے بعد اٹھارہ انیس برس سے لندن میں مقیم جناب الطاف حسین کانام آتا ہے جن کی گھن گرج سے بھی ان کے پیروکار اور ماننے والے اسی قدر ڈرتے ہیں جس قدر بندوق کی نالی سے۔
پھر نام آتا ہے خان اسفند یار ولی خان کا جن کی پارٹی خیبر پختونخواہ میں حکمران ہے۔۔۔ اس خیبرپختونخواہ میں جہاں گزشتہ دنوں باچا خان کی برسی پر صوبے بھر میں مکمل تعطیل ہوئی ۔۔۔وہ باچاخان جن کی زندگی بانیءپاکستان کی مخالفت میں گزری اور جن کی آخری وصیت یہ تھی کہ ” مجھے جناح کے پاکستان میں دفن نہ کیاجائے۔۔۔“
میں یہاں مولانا فضل الرحمان کا ذکر بھی کرناچاہوں گا جنہوں نے کبھی اس ملک کے بانی کو قائداعظم ؒ کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
ذکریہاں مجھے مولانا منور حسن کا بھی کردینا چاہئے جو مولانا مودودی اور قاضی حسین احمد کے جانشیں ہیں ` مگرجن کی جماعت آج تک اس ستم ظریف سوال کا جواب نہیں دے سکی کہ سترہ کروڑ راسخ العقیدہ مسلمانوں کے ملک میں اسے اسلام کے نام پر پانچ فیصد سے زیادہ ووٹروں کی حمایت حاصل کیوں نہیںہوسکی ۔۔۔؟
یہ ساری قیادتیں وہ ہیں جنہیں ملک کی پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل ہے۔ میں نے مسلم لیگ ” ق“ اور ” ف“ کی قیادتوں کا ذکر یہاں اس لئے نہیں کیا کہ میرے خیال میں مسلم لیگی تشخص کو دیر تک ” ن“ ” ق“ ” ف“ اور ” ج“ وغیرہ کے خانوں میں تقسیم نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ سارے ندی نالے ایک ہی سمندر میں جاگرتے ہیں۔ ان کی ایک ہی پہچان ہے۔
اور یہ پہچان بدقسمتی سے وہ نہیں جو بابائے قوم کا نام لیتے وقت ذہن میں آتی ہے۔ اس ” پہچان“ کے تانے بانے جاگیردارانہ نظام کے ان علمبرداروں سے جاملتے ہیں جو قائداعظم ؒ کی رحلت کے بعد اس ملک کی تقدیر پر قابض ہوگئے تھے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کی مسلم لیگ جاگیردارانہ نظام کا بڑا ہی مضبوط قلعہ تھی۔ مگر اسی دور میں صنعت کاروں تاجروں اور سرمایہ کاروں کا بھی عمل دخل شروع ہوا جس نے جنرل ضیاءالحق کے دور میں مسلم لیگ پر میاں صاحبان کے قبضے کی صورت میں عروج حاصل کرلیا۔
تو یہ ہماری ان قیادتوں کی کہانی ہے جو ہمیشہ موجود رہیں۔ اور جن کی موجودگی میں یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ ہم کبھی بھی قیادت کے فقدان کا شکار رہے۔ مگر جن کی ” بدولت“ ملک اس اخلاقی اور نظریاتی بحران میں دھنستا چلا گیا ہے جسے میں قیادت کا بحران کہہ رہا ہوں۔ اخلاقی اور نظریاتی طور پر دیوالیہ قیادت کبھی کسی انقلاب کی کوکھ نہیں بنا کرتی۔
یہی وہ حالات ہیں جن میں مجھ جیسے خواب پرستوں کے سامنے عمران خان کی طرف پر امید نگاہوں کے ساتھ دیکھنے کے سوا اور کوئی ” راہِ امید “ نہیں۔
یہاں اس حقیقت کا اعتراف کرنا میں ایک اہم اخلاقی تقاضہ سمجھتا ہوں کہ اس دورِ خرابی کے اندھیرے میری وابستگیوں کا رُخ عمران خان کی تحریک انصاف کی طرف کرچکی ہیں۔
میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی سچا قلمکار یا فکر نگار وابستگیوں سے آزاد ہوسکتا ہے۔ وابستگیوں کی جڑیں تحت الشعور لاشعور اور شعور تینوں میں ہوا کرتی ہیں۔ ہر شخص بنیادی طور پر اپنے خوابوں سے محبت کرتا ہے۔ اس کی وابستگیاں اس کے خوابوں کی مظہر اور عکاس ہواکرتی ہیں ۔ میں یہاں جناب مجیدنظامی کی مثال دوں گا۔ ان کی قائداعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ سے وابستگی ان کے اس خواب کی عکاس ہے کہ پاکستان ایک روز اسلامی عدل و انصاف کا گہوارہ بنے گا۔
سیاست کے اندر ہم اپنے خوابوں کا عکس اپنی قیادتوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری وابستگیاں بھی اسی وجہ سے جنم لیا کرتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی قیادت ایک ایسا تیر ہے جو ہنوز کمان سے نہیں نکلا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تیر بھی نشانے پر نہ بیٹھے۔ اور جس ناخدائی کی ضرورت اس ہچکولے کھاتی ہوئی کشتی کو ہے جس میں ہم سب بیٹھے ہیں وہ عمران خان کی صورت میں بھی ہمیں میسر نہ آسکے۔ مگر یہاں میں اپنے آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں کہ اگر عمران خان نہیں تو پھر اور کون ؟
منطقی طور پر ہمارا ذہن فوراً فوجی قیادت کی طرف جائے گا۔
میںجانتا ہوں کہ عمران خان کی قیادت ہنوز ایک ایسا جہاز ہے جو رن وے پر ہی دوڑ رہا ہے ` اور جب تک وہ ٹیک آف نہیںکرتا ہمیں اس کی قوت پرواز کا اندازہ نہیں ہوگا۔ مگر قیادتیں ہمیشہ ایک خلاءمیں ہی جنم لیا کرتی ہیں ۔ اور یہ خلاءاب نہ صرف یہ کہ پیدا ہوچکا ہے ` ٹکٹکی لگا کر ہمیں گھور بھی رہا ہے۔
عمران خان کے ساتھ اپنی امیدیں وابستہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ میرے لئے ان کی ” مسلمانی“ ہے۔ اس سے بھی بڑی وجہ اپنی ” مسلمانی“ پر ان کا اصرار ہے۔ شاید اسی وجہ سے وہ ہمارے سیکولر اور روشن خیال طبقوں کو قابل قبول نہیں۔
مگر یہ ملک ” مسلمانی “ کو ترک کرنے کے لئے نہیں ” مسلمانی“ کو ناخدا ` مسلمانی کوبحر ` مسلما نی کو کشتی اور مسلمانی کوساحل سب کچھ بنانے کے لئے معرض وجود میں آیا تھا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام سے ہمارے مغربی آقاﺅں نے ہم پر تباہی کا ایک مسلسل عمل مسلط کررکھا ہے ۔ اس عمل کی آڑ میں وہ پاکستان کو اسلام سے دور لے جانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان پر واشگاف الفاظ میں یہ واضح کرنے کے لئے ہمیں عمران خان جیسے ایک جنونی کی ہی ضرورت ہے کہ ان کا یہ شرمناک خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔
ہمارے خمیر میں روح محمدی ہے۔
اور عمران خان کا دعویٰ ہے کہ ان کی منزل نظام ِمحمدی ہے۔ جب تک وہ اپنے عمل سے اس دعوے کو غلط ثابت نہیں کرتے میں ان کا ساتھ دوں گا۔ اور یہ الفاظ میں تحریک انصاف کے سیکرٹری سیاسی امور کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں۔

Scroll To Top