نندی پور منصوبہ کرپشن کیس: نیب سے زیرالتواء تمام ریفرنسز کی تفصیلات طلب

  • نیب حکام اہم کیسز الماریوں میں رکھ کو بھول گئے تھے، کیوں نہ سابق چیئرمین نیب قمر زمان کے خلاف کیسز کو سرد خانے میں رکھنے پر کاروائی کی جائے
  • نیب کارکردگی دکھائے کسی کے خلاف ریفرنس بنتا ہے تو بنائے ورنہ لوگوں کو سولی پر نہ لٹکائے،چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

نندی پور پاور پراجیکٹ

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے نیب کو نندی پور منصوبہ سکینڈل کی تحقیقات کا مکمل ریکارڈ بھی فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے، اور سابق چیئرمین قمر زمان کے دور سے ایرالتوامقدمات کی فہرست بھی طلب کرلی ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے نندی پورمنصوبہ میں مبینہ کرپشن کیس کی سماعت کاآغازکیا تو نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ نندی پور کے خلاف انکوائری زیر التوا ہے۔چیف جسٹس نے استفسارکیاکہ انکوائری کب سے زیر التوا ہے عدالت کو نیب عدالتوں میں زیر التوا ریفرنسز کی بھی تفصیل دیں۔ پراسیکیوٹر نیب کا کہنا تھا کہ20 فروری 2017 کو انکوائری شروع ہو چکی تھی۔ وزارت قانون نے دوسال تاخیر کی انکوائری آخری مراحل میں ہے۔ نندی پور آوٹ سورس کرنے کی انکوائری جون 2018 میں شروع ہوئی۔چیف جسٹس نے سوال کیاکی نیب میں مجموعی طور پر کتنی تحقیقات زیر التوا ہیں زیر التوا ریفرنسز کی تفصیلات بھی فراہم کرتے ہوئے یہ بھی بتایا جائے کتنے ریفرنسز میں شواہد ریکارڈ ہو چکے۔اس رفتار سے تو کام نہیں چلے گا۔نیب کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ نندی پور منصوبہ جنوری 2016 کو ٹھیکے پر دیا گیا۔ چیف جسٹس نے تفتیشی کوہدایت کی کہ نندی پور بورڈ اف ڈائریکٹرز کے نام فراہم کریںتفتیشی افسرنے بتایاکہ علی اصغر قریشی نندی پور کے سی ای او ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نیب کارکردگی دکھائے  کسی کے خلاف ریفرنس بنتا ہے تو بنائے ورنہ لوگوں کو سولی پر نہ لٹکائیں۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ نیب کو قانونی رائے تاخیر سے دینے کا معاملہ وزارت نے 2012 میں نیب کو بھیجا تھا چیف جسٹس نے کہاکہ اتنے سالوں سے تحقیقات چل رہی ہیںنیب نے کچھ نہیں کیاپتا نہیں نیب کو احتساب عدالت میں شواہد ثابت کرنے میں کتنا وقت لگے گا جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ عدالت نوٹس لے تو نیب کو گیئر لگ جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سابق چئیرمین نیب قمر الزمان چوہدری کو بھی بلوالیتے ہیںان سے بھی اس معاملے پر وضاحت طلب کرسکتے ہیںچیف جسٹس پراسیکوٹر جنرل نیب کیوں نہیں آئے؟نیب رحمت حسین جعفری کمیشن کی رپورٹ پر ریفرنس دائر کرسکتا تھاتفتیشی افسر نے بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ ریجنل بورڈ میٹنگ میں منظوری کے لیے پیش ہو گئی۔چیف جسٹس نے کہاکہ نیب حکام اہم کیس الماریوں میں رکھ کو بھول گئے تھے۔ کیوں نہ قمر زمان کے خلاف کیسز کو سرد خانے میں رکھنے کی کاروائی کی جائے۔ جائزہ لے رہے ہیں کہ نندی پور پاور پراجیکٹ کوآوٹ سورس کرنے کی بولی اصلی تھی یا جعلی؟ درخواست گزارخواجہ آصف نے کہاکہ میں چاہتا ہوں ریفرنس عدالت میں دائر ہو۔چیف جسٹس نے کہاکہ تحقیقات میں اتنا وقت کیوں لگتا ہے؟۔نیب پراسیکیوٹرنے کہاکہ منظوری میں تاخیر سے منصوبہ کی لاگت میں27ارب کا اضافہ ہوا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا نیب کو خود نہیں پتہ کہ انہوں نے کیا کرنا ہے؟تفتیشی افسر نے کہاکہ کمیشن رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 113 ارب کا خزانے کو نقصان پہنچا۔چیف جسٹس نے کہاکہ نندی پور منصوبے پر عدالتی کمیشن رپورٹ بھی آچکی ہے۔سپریم کورٹ نے نندی پور تحقیقات کا مکمل ریکارڈ بھی فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔عدالتی وقفہ کے بعد کیس کی سماعت شروع ہوئی تو سابق چئیرمین نیب قمر الزمان چوہدری عدالت میں پیش ہوگئے  تو چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیاکہ آپکے کیخلاف انکوائری کیوں نہ کرائیں، نیب بتائے کہ قمر الزمان چوہدری کے دور میں کتنے مقدمات کی انکوائری نہیں ہوسکی، قمر زمان چوہدری نے کہاکہ نندی پور پاور پلانٹ کی انکوائری اور تحقیقات کروا کر گیا ہوں، چیف جسٹس نے کہاکہ نیب بتا دے کہ نندی پور ریفرنس کب فائل ہونگے؟ اور قمر الزمان چوہدری کے دور کی پنڈنگ انکوائریوںکی فہرست بنا کر دی جائے ، سابق چیئرمین قمر الزمان چوہدری سے وضاحت مانگیں گے، قمر الزمان چوہدری لوگوں کو فائدہ دیتے رہے، قمر الزمان چوہدری کے دور میں نیب کا بھٹہ بیٹھا ہوا تھا

Scroll To Top