۔۔۔شبہازشریف نے این آر او کے حوالے سے آدھا سچ بولا

  • ۔۔۔عمران خان کے بعقول شریف خاندان نے ہمیشہ ایمپائر کو ساتھ ملا کر کھیل کھیلا
    ۔۔۔روایتی سیاسی قوتیں جان لیں کہ لوگ اب جلاوطنی اور شہادتوں سے متاثر نہیں ہونے والے
  • ۔۔۔الیکشن میں مبینہ دھاندلی کو بنیاد بنا کر فوج اور عدلیہ مخالف نعرے بدترین اقدام قرار
  • ۔۔۔۔انتخابات میں دھاندلی کو بنیاد بنا کر قومی اداروں کی تضحیک پاکستان دشمن قوتوں کو خوش کرنے کی کوشش
  • ۔۔۔۔شکست خوردہ سیاسی قوتیں ایک تیر سے کئی شکار کرنے کے منصوبہ پر عمل پیرائ

،،،شہبازشریف کے اس بیان کو آدھا سچ سمجھنا چاہے کہ نہ کوئی این آر او دینا چاہتا ہے اور نہ لینا چاہتا ہے۔“

zaheer-babar-logoدراصل مسلم لیگ ن کی تاریخ سے آگاہ حضرات باخوبی آگاہ ہیںکہ پی ایم ایل این نے ہمیشہ مک مکا کی سیاست کی ۔ عمران خان کی زبان میں اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ شریف خاندان نے ایمپائر کو ساتھ ملا کر ہی ہر میچ کھیلا مگر شائد اب ایسا نہیں ہونے جارہا ۔ واقفان حال کے بعقول شہبازشریف کی تمام تر کوششوں کے باوجود ان حلقوں نے آئین اور قانون سے ہٹ کر ساتھ چلنے سے انکار کردیا جو ماضی میں کسی حد تک شریف بردارن کو درپردہ مدد فراہم کرتے رہے ۔ اڈیالہ جیل میں قید نوازشریف سے ملاقات کے بعد شہبازشریف یہ دہائی دیتے رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد صرف اور صرف قوم کے لیے جیل کی سلاخوں کے پچھے ہیں۔ بعقول ان کے وہ لندن سے روانگی کے وقت باخوبی جانتے تھے کہ پاکستان آتے ہی انھیں جیل میں ڈالا دیا جائیگا مگر وہ پھر بھی اپنی صاحبزادی مریم صفدر کے ساتھ وطن واپس آئے۔
شہباز شریف تواتر کے ساتھ یہ کہتے چلے آرہے کہ میاں نوازشریف اپنی بیمار اہلیہ کو چھوڈ کر پاکستان آئے۔“ سابق خادم اعلی کو آگاہ رہنا چاہے کہ خبیر تا کراچی سینکڑوں نہیں ہزاروں مرد حضرات ایسے ہیں جن کی بیویاں بیمار بھی ہیںاور سرکاری ہسپتالوں میںزیر علاج بھی۔ غریب اور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ان پاکستانیوں کے لیے یہ سوچنا بھی محال ہے کہ ان میں سے کوئی اپنی اہلیہ کو لندن میں علاج کے لیے لے جائے۔ یقینا بیگم کلثوم نواز کے لیے شائد ہی کوئی درد دل رکھنے والا پاکستانی ہو جو ان کی جلد صحتیابی کا خواہشمند نہ ہو مگر شریف خاندان اس ایشو کو بنیاد بنا کر کسی صورت عوام سے ہمدرری حاصل کرنے کی ناکام کوشش نہ کرے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے بارے تاثر یہ ہے کہ وہ زوالفقار علی بھٹو سے متحرمہ بے نظیر بھٹو تک شہادتوں کی دہائی دیتی نہیں تھکتی ۔ پی پی پی کے لیے بہت بہتر ہوتا کہ وہ جذباتی نعروں کی بجائے لوگوں کی فلاح وبہبود کے لیے کچھ کر گزرتی تو شائد بھٹو کی جماعت کو سوائے اندرون سندھ کے ملک بھر میں سیاسی طور پر ایسی ہزیمت نہ اٹھانی پڑتی۔
میثاق جمہوریت کرنے والی دونوں سیاسی جماعتوں اور ان کی ہم خیال پارٹیوں کو جان لینا چاہے کہ عام آدمی کا سیاسی شعور تیزی سے فروغ پذیر ہے جو اب کسی قسم کی ڈرامہ بازی سے متاثر نہیں ہونے والا۔
الیکشن کمیشن کے باہر عدلیہ اور فوج مخالف نعرے
،،،، الیکشن کمیشن کے باہر مبینہ دھاندلی کو بنیاد بنا کر اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوںنے جس طرح فوج اور عدلیہ مخالف نعرے بازی کی اس پر متعدد افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ تھانہ سیکرٹریٹ میں درج ہونے والے اس مقدمہ میں ابتدائی طور پر تو دو افراد کو نامزد کیا گیا مگر نامعلوم افراد بھی خاصی تعداد میںہیں۔ پولیس کے مطابق وہ دسیتاب وڈیوز سے ملزمان کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کاروائی کریں گی۔
یہ بدقسمتی ہے کہ 25جولائی کے عام انتخابات میں ہارنے والی جماعتیں سیاسی بقا کے لیے مسلسل احتجاج کے منصوبہ پر عمل کررہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے مقابلے میں جس طرح کئی بڑے بڑے سیاسی رہنما ہارے وہ ان حضرات کے لیے عارضی طور پر ہی سہی بڑا سیاسی دھچکہ ضرور ہے۔ افسوس کہ اس پر کوئی دھیان دینے کو تیار نہیں کہ الیکشن سے قبل سامنے آنے والے سب ہی سروے اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کررہے تھے کہ پاکستان تحریک انصاف مقبولیت کی معراج پر ہے ۔دراصل پی پی پی اور پی ایم ایل این کی جانب سے پانچ پانچ سال تک جس قسم کی حکومت چلائی گی اس کے نتیجے میں خبیر تا کراچی لوگ بیزار ہوئے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ سندھ اور پنجاب میں کوئی ایک بھی ایسا شہر نہیں جہاں پینے کا صاف پانی ہر کسی کے لیے دسیتاب ہو۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف کی کرپشن کی داستانوں سے کون آگاہ نہیں ایسے میں عمران خان کی موقف کی پذائری قدرتی امر تھا۔
الیکشن کمیشن کے باہر قومی سیاسی قائدین کی موجودگی میں جناب چیف جسٹس اور سپہ سالار کے خلاف نازیبا زبان استمال ہونا تشویشناک ہے۔ بظاہر اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ معروف قومی رہنما بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر چاہتے تھے کہ قومی اداروں کی اس طرح سرعام تضحیک کی جائے۔ یہ سوال بھی بنتا ہے کہ قانون کے حرکت میں آنے سے قبل خود اپوزیشن رہنماوں نے قابل مذمت نعروں کو کیونکر نوٹس نہ لیا۔
حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات کی روشنی میں کہاجاسکتا ہے کہ ملک کے اندر اور باہر ایسی قوتوں کے درمیان تعاون بڑھ چکا جو نہ صرف حالیہ الیکشن کو دھاندلی زدہ ثابت کرنے پر تلی ہیں بلکہ عدلیہ اور مسلح افواج کی غیر جانبداری کو بھی مشکوک بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں ۔ آسان الفاظ میں یوں کہ پاکستان کے بدخواہ اس پر تیار نظر آتے ہیں کہ ملک میں ایسا سیاسی بحران پیدا کیا جائے جس میں ایک تیر سے کئی شکار کرلے جائیں۔

Scroll To Top