ہمیں اندرون ملک دومختلف محاذوں پر دشمن قوتوں کا سامنا ہے 27-09-2013

kal-ki-baat
یہ بات ملک کے لئے بے حد خوش آئند ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے میں ملک کی دو سب سے بڑی سیاسی جماعتوں یعنی پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کافی حد تک اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ چند ماہ قبل تک پاکستان پیپلزپارٹی ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت تھی لیکن اگر گزشتہ انتخابات میںکاسٹ ہونے والے ووٹوں کو مدنظر رکھاجائے تو پی پی پی اب تیسری پوزیشن پر جاچکی ہے۔ اگر اس کی قیادت کا رویہ کرپشن بدعنوانی اور نظریہ ءپاکستان سے بے گانگی کے معاملات میں ویسا ہی رہا جیسا کچھ عرصے سے نظر آرہا ہے تو بہت جلد بھٹو مرحوم کی قائم کردہ یہ عظیم جماعت سندھ کی اے این پی بن کر رہ جائے گی۔بھٹو مرحوم نے ملک کے نام نہاد روشن خیال حلقوں سے کورٹ شپ تو ضرور کی تھی لیکن انہوںنے اپنی جماعتی شناخت سے اسلام کو کبھی خارج نہ کیا۔ مگر جو ذہن آج ان کی میراث کے محافظ بنے بیٹھے ہیں ان کا اسلام اور نظریہ ءپاکستان سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا تعلق نجم سیٹھی ` امتیاز عالم اور ایاز میر جیسے سیکولر دانشوروں کا ہے۔روایتی طور پر ہمارے روشن خیال سیکولر حلقے پاک فوج کے وجود کے ہی خلاف ہیں لیکن اگر وہ طالبان کے خلاف جنگ کرتے کرتے ملک کے شمال مغرب کو خانہ جنگی کا میدان بنادیں تو یہ حلقے ہمارے فوجیوں کو مجاہدین کا درجہ دینے کے لئے بھی تیار ہوں گے۔
ہر محب وطن پاکستانی چاہتا ہے کہ یہ ملک ایسی خانہ جنگی کا میدان نہ بنے جس میں ایک فریق کی لگام ہمارے دشمن ممالک کے ہاتھوں میں ہو۔ مجوزہ مذاکرات کوسبوتاژ کرنے کی تمام سازشیں اور کوششیں ہمارے دشمنوں کے اس مقصد کی غماز ہیں کہ ہماری توپوں کا رخ مشرق سے ہٹ کر شمال کی طرف ہو جائے۔
وطنِ عزیز کو اِس وقت جس مشکل صورتحال کا سامنا ہے اس میں ایک طرف اسلام کا نام لینے اور دوسری طرف اسلام کو ملک بدر کرنے کی خواہش رکھنے والے توپچی اپنے اپنے مورچے قائم کئے ہوئے ہیں۔

Scroll To Top