عمران خان سمجھوتے کرنے والے کپتان نہیں۔۔۔ وہ جانتے ہیں کہ کس کھلاڑی نے کس پوزیشن پر کھیلنا ہے ۔۔۔ سوری ڈیئر کاشف عباسی ۔۔۔یہاں آپ چُوک گئے ہیں !

aaj-ki-baat-new

گزشتہ بارہ برس کے دوران میڈیا میں نہایت قد آور بن جانے والی شخصیات میں ایک بڑا نام کاشف عباسی کا ہے۔۔۔ سب سے زیادہ قدآور کون ہے ۔۔۔ ڈاکٹر شاہد مسعود ` کامران خان ` حامد میر ` رﺅف کلاسرا ` عامر متین ` ندیم ملک ` مبشر لقمان ` ڈاکٹر معین پیرزادہ یا پھر کوئی اور ۔۔۔ میں اس بحث میں نہیں پڑوں گا۔۔۔ کیوں کہ یہ معاملہ پسند اور ناپسند کا بھی ہے۔۔۔ مثال کے طور پر مجھے احمد قریشی بہت اچھے لگتے ہیں ۔۔۔ شاید اس لئے کہ ان کے لب ولہجہ اور موقف میں حب الوطنی کا عنصر غالب محسوس ہوتا ہے۔۔۔
مگر کاشف عباسی بہرحال کاشف عباسی ہیں۔۔۔ جمہوری معاشرے اور جمہوری نظام کے ساتھ ان کا عشق کبھی تو ان کے اپنے قابو سے بھی باہر ہوجاتا ہے۔۔۔ جیسے برادرم رﺅف کلاسرا کو Moral High Ground یعنی ” اخلاقی برتری“ کی ترکیب ہمیشہ اپنے سحر میں رکھتی ہے۔۔۔ اور یہ سحر ” طاری کردہ“ بھی نہیں حقیقی ہوتا ہے۔۔۔ رﺅف کلاسرا اور عامر متین کی جوڑی میری رائے میں میڈیا کے سرکا جُھومر ہے۔۔۔ عامر متین کو برسا ہا برس سے جانتا ہوں۔۔۔ میری طرح اسلامزم کی زنجیر میں جکڑے ہوئے نہیں مگر کھرے اور سچے آدمی ہیں۔۔۔ کھرے اور سچے آدمی کی پہچان یہ ہے کہ جو کچھ کہے وہ اس کے اندر کی آواز ہو۔۔۔ جو کچھ کرتا نظرآئے وہ اس کی اصل شخصیت کی پہچان ہو۔۔۔کاشف عباسی اس تعریف کے قریب قریب ہیں۔۔۔ مثال کے طور پر میں جانتا ہوں کہ انہیں بھی دوسرے بہت سارے معروف اینکرپرسنز کی طرح عمران خان کا ایک بڑے کھلاڑی سے ایک بڑا سیاسی لیڈر بن جانا زیادہ نہیں بھایا اور بھاتا۔۔۔ یہ بھی ایک مائنڈ سیٹ ہے جس کا سب سے زیادہ ” منہ بولتا “ نمونہ طلعت حسین ہیں۔۔۔ کاشف عباسی ویسے ہرگز نہیں۔۔۔ وہ زمینی حقائق کو اپنی پسند اور ناپسند پر ترجیح دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔۔۔مگر یہ ” پسند اور نا پسند“ کا عنصر انسانی رویوں پر غالب رہنے کی کوششوں میں ہمیشہ لگا رہتا ہے۔۔۔ مثال کے طور پر جب عمران خان نے بالآخرمحمود خان کو کے پی کے کا اگلا وزیراعلیٰ نامزد کیا تو کاشف عباسی اس پر ایک پورا پروگرام کئے بغیر نہ رہ سکے۔۔۔۔
ان کا لب و لہجہ تمام تر مسکراہٹوں کے ساتھ یہ تھا کہ ” دیکھا ناں کہ عمران خان بہرحال عمران خان ہیں! یہ ان کا پہلا سمجھوتہ ہے۔۔۔ پسند ان کی عاطف خان تھی۔۔۔ خٹک کا دباﺅ پڑا تو محمود خان سامنے آگئے۔۔۔“
میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جس دن سے وزیراعلیٰ کے حوالے سے پرویز خٹک ` عاطف خان اور اسد قیصر کے نام سامنے آئے اور ہر ایک نے اپنے آپ کو ” تخت پشاور “ کا حقدار ٹھہرایا ` اسی دن عمران خان نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وزیراعلیٰ ان میں سے کوئی نہیں ہوگا۔۔۔
عمران خان سمجھوتے کرنے والے کپتان نہیں۔۔۔ وہ جانتے ہیں کہ کس کھلاڑی نے کس پوزیشن پر کھیلنا ہے ۔۔۔
سوری ڈیئر کاشف عباسی ۔۔۔ یہاں آپ چُوک گئے ہیں !

Scroll To Top