انتخابات میں مبینہ دھاندلی کےخلاف اپوزیشن کا احتجاجی مظاہرہ فلاپ

  • پی پی پی رہنما آصف زرداری ،بلاول بھٹو، ن لیگی رہنما شہباز شریف ، جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کی عدم شرکت معنی خیز قرار
  • چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ ،جعلی الیکشن نا منظور نامنظور کے نعرے ، الیکشن ناقابل قبول ہے ، قوم کے ساتھ کھڑے ہیں، تقاریر
اسلام آباد:۔ متحدہ اپوزیشن کے زیر اہتمام الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے مولانا فضل الرحمان خطاب کر رہے ہیں

اسلام آباد:۔ متحدہ اپوزیشن کے زیر اہتمام الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے مولانا فضل الرحمان خطاب کر رہے ہیں

اسلام آباد (الاخبار نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اورمتحدہ مجلس عمل سمیت ہم خیال اپوزیشن جماعتوں نے مبینہ دھاندلی کے خلاف الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کے دور ان چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے ”جعلی الیکشن نا منظور کے نعرے لگائے “۔ بدھ کو عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج میں ہم خیال جماعتوں کے کئی رہنما شریک ہوئے جن میں مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفر الحق، مشاہد اللہ خان، نہال ہاشمی، مشاہد حسین سید، پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی، شیری رحمان، نوید قمر، قمر زمان کائرہ فرحت اللہ بابر، پشتون خوا ملی عوامی کے سربراہ محمود اچکزئی، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن مولانا عبدالغفور حیدری ،عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان ، افراسیاب خٹک ، متحدہ مجلس عمل کے شاہ محمد اویس نورانی ،سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی ، لیگی رہنما مریم اور نگزیب ، عظمیٰ بخاری ، نجمہ حمید اور طاہرہ اورنگزیب سمیت دیگر موجود تھے احتجاجی مظاہرے کی قیادت متحدہ مجلس عمل کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف کو احتجاج کی قیادت کرنا تھی جو موسم کی خرابی کے باعث اسلام آبادنہیں پہنچ سکے اس کے علاوہ احتجاج میں متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے بھی شرکت نہیں کی بلکہ ان کی جگہ صاحبزادہ طارق اللہ نے جماعت کی نمائندگی کی۔اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے شاہراہ دستور بند اور دفتر کے اطراف خاردار تاریں لگا دی گئی تھیں۔ذرائع کے مطابق تقریباً 500 سے زائد پولیس اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دےئے اور ریڈ زون جانے والے راستوں کو بھی بند کیا گیاتاہم احتجاج کرنے والے مظاہرین تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ،مظاہرین نے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر ’ انتخابات نامنظور‘ ’الیکشن کمیشن نامنظور‘ کے نعرے لگائے اور دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ظفرالحق نے کہا کہ یہ الیکشن ناقابل قبول ہے ،اگر الیکشن کے نتائج اسی طرح لائے گئے تو یہ قوم اور ملک کا نقصان ہوگا، اس سے پوری قوم متاثر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ عوام اس الیکشن کو مسترد کرتے ہیں ،ہم اس کے خلاف یکجان ہیں اور ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے ہیں، ہماری اس معاملے میں کوئی دو رائے نہیں، ہم قوم کے ساتھ کھڑے ہیں، جنہوں نے ووٹ کو عزت نہیں دی انہوں نے قوم کا نقصان کیا۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں جن کو کامیاب قرار دیا گیا وہ غلط ہے لہٰذا ہم ان انتخابات کو مسترد کرتے ہیں اور ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔لیگی رہنما مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ووٹ کے تقدس کےلئے میدان میں نکل آئے ہیں، اب جلسے جلوس ریلیاں ہوں گی۔احسن اقبال نے کہاکہ آج پاکستان کی تاریخ کا ایک تاریخ ساز اجتماع ہے، آج الیکشن کمیشن کے سامنے تمام جماعتیں احتجاج کررہی ہیں، جمہوریت کے پروانوں کا گلدستہ آج یہاں اکٹھا ہے۔انہوںنے کہاکہ 25 جولائی کو عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، ہم مقصد کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور ووٹ کی عزت کی جدوجہد کو کامیابی تک جاری رکھیں گے۔پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان نے چیف الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو پارلیمان میں حلف لینے پر آمادہ کریں گے، ہم پارلیمنٹ میں جائیں گے اور سیاسی جماعتوں کو متحد کریں گے۔پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو پارلیمان میں حلف لینے پر آمادہ کریں گے اور پارلیمنٹ میں جاکرسیاسی جماعتوں کو متحد کریں گے۔ سابق وزیراعظم اور رہنما پیپلزپارٹی یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ2018 کے انتخابات میں تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اس انتخابات کو مسترد کرتی ہیں۔پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ ہم عمران خان کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ لوگوں سے کیے گئے وعدے 100 دنوں میں پورے کریں، ملکی مسائل کو درست کریں جب کہ ہم ہر مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔سید خورشید شاہ نے کہاکہ سسٹم کیلئے خطرہ نہیں بننا چاہتے، عمران خان کو حکومت کرنے کا بھرپور موقع دیں گے۔ انہوں نے کہا ہم جمہوریت کو بچانے کیلئے سولی پر چڑھے، ہماری کوشش ہے پارلیمنٹ میں جائیں، آج پھر ہم جمہوریت بچانے کیلئے سڑکوں پر ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ نے کہاکہ انتخابات سے قبل ہی مختلف سیاسی جماعتیں تحفظات کا اظہار کر رہی تھیں تاہم 25 جولائی کو انتخابات میں جس طرح کی ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی جس کے بعد ہم خیال جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کیا جائےگا۔الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر ہونے والے مظاہرے کے آغاز پر سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی، عظمیٰ بخاری، نجمہ حمید اور طاہرہ اونگزیب سمیت دیگر رہنماو¿ں نے خطاب کیا۔جاوید ہاشمی نے کہاکہ عمران خان نے مینڈیٹ کی توہین کی ہے اور الیکشن کمیشن اور ادارے دھاندلی کے مرتکب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اجنبی لوگوں کو اقتدار میں لانے کےلئے 4 سال سے کوششیں کی گئیں اور منصوبے کے تحت عمران خان کو لایا گیا۔جاوید ہاشمی نے الزام لگایا کہ عمران خان جو بھی وزیر اعلیٰ اور گورنر تعینات کریں گے وہ کسی کے اشارے پر کریں گے۔

Scroll To Top