نیب اجلاس:خواجہ سعد رفیق سمیت کئی اہم شخصیات کےخلاف جاری تحقیقات کا جائزہ

  • سابق وزیر ریلوے کیخلاف 55لوکو موٹوز کی خریداری میں مبینہ مالی بدعنوانی ،ریلوے زمین کی مبینہ غیر قانونی لیز سمیت دیگر اہم کیسز پر بریفنگ
  • سابق چیئر مین ای ٹی پی بی صدیق الفاروق کیخلاف سرکاری اراضی کی مبینہ طور پر غیر قانونی لیز کے خلاف شکایت کا بھی جائزہ
اسلا م آباد:۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال احتساب بیورو لاہور کی کارکردگی بارے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں

اسلا م آباد:۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال احتساب بیورو لاہور کی کارکردگی بارے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں

لاہور ( این این آئی)قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے تمام افسران کو ہدایت کی ہے کہ زیر تفتیش کیسز کو 10ماہ کے دورانیہ میں مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کریں جس میں ملزمان کی فوری طلبی کو یقینی بنایا جائے ،نیب میں اب صرف کیس دیکھے جاتے ہیں چہرے نہیں ،نیب افسران قانون کی مطابق اور آزادانہ کام کریں اورتمام کیسز کی تحقیقات جامع ہونی چاہئیں جبکہ اس دوران کسی گواہ یا شکایت کنندہ کو انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب لاہور آفس میں مسلسل تیسرے روز اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور شہزاد سلیم کی جانب سے انہیں انتہائی اہم کیسز اور نیب لاہور کو موصول کرپشن کی شکایات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں شامل کیسز جن میں فیروز پور سٹی انتظامیہ کیخلاف عوام سے دھوکہ دہی اور فراڈ کے باعث خطیر رقوم سے محروم کرنے پر تحقیقات، سابق ایم این اے مدثر قیوم ناہرا اور ایم این اے اظہر قیوم ناہرا کے خلاف مبینہ طور پر غیر قانونی اثاثہ جات کے حوالے سے جاری انکوائری، سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کیخلاف 55لوکو موٹوز کی خریداری میں مبینہ مالی بدعنوانی اور ریلوے زمین کی مبینہ غیر قانونی لیز کے علاوہ ریلوے اسٹیشنز کی تزئین و آرائش کی مد میں مبینہ طور پر خطیر رقوم خرچ کرنے کیخلاف شکایت، سابق صوبائی وزیر سیف الملوک کھوکھر کیخلاف مبینہ غیر قانونی اثاثہ جات کی شکایت اور سابق ایم این اے ناصر اقبال بوسال کیخلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور مبینہ بے نامی جائیدادیں رکھنے کے خلاف شکایت ، سابق چیئر مین ای ٹی پی بی، صدیق الفاروق کیخلاف سرکاری اراضی کی مبینہ طور پر غیر قانونی لیز کے خلاف شکایت، سیکرٹری پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ، علی جان کیخلاف آمدن سے زائداثاثہ جات اور ہیلتھ پراجیکٹس میں مبینہ مالی بدعنوانی کی شکایت، سابق چیف انجینئر، اسرار سعید کیخلاف ایل ڈی اے پراجیکٹس میں مبینہ مالی بدعنوانی کی شکایت، پنجاب پبلک سروس کمیشن کے خلاف مبینہ غیر قانونی تعیناتیوں کے خلاف شکایت، میونسپل کارپوریشن، گوجرانوالہ کے افسران و اہلکاروں کیخلاف247کنال سرکاری اراضی کی مبینہ غیر قانونی فروخت کی شکایت،ایم این اے ریاض الحق کیخلاف ضلع اوکاڑہ میں مختلف ترقیاتی کاموں کی مد میں مبینہ مالی بدعنوانی کی شکایت، پنجاب پولیس کے سینئر افسران سابق سی سی پی او امین وینس، سابق ڈی آئی جی حیدر اشرف اور کیخلاف غیر قانونی اثاثہ جات بنانے کیخلاف شکایت، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد میں لیکچرز کی مبینہ طور پر غیر قانونی بھرتیوں کی شکایت ، ایل ڈی اے افسران کیخلاف فیروزپور روڈ تا ملتان روڈ دو رویہ سڑک کی کشادگی پراجیکٹ میں مبینہ مالی بدعنوانی کی شکایت، سابق وزیر میاں منظور احمد وٹو کے خلاف بدعنوانی کی شکایت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ کے دوران چیئر مین نیب جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ تمام افسران زیر تفتیش کیسز کو 10ماہ کے دورانیہ میں مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کریں جس میں ملزمان کی فوری طلبی کو یقینی بنایا جائے تاہم انہیں ایم این اے اظہر قیوم ناہرا کی 10اگست کو نیب لاہور میں طلبی کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔چیئر مین نیب نے کہا کہ نیب میں اب صرف کیس دیکھے جاتے ہیں چہرے نہیں ہمارا فوکس بہتر سے بہترین کی جانب ہے۔ تاہم اس موقع پر نیب افسران کو تلقین کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ نیب افسران قانون کیمطابق اور آزادانہ کام کریں اورتمام کیسز کی تحقیقات جامع ہونی چاہئیں جبکہ اس دوران کسی گواہ یا شکایت کنندہ کو انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ عام آدمی کی شکایت کے باقاعدہ ازالہ کے حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے جانے کے احکامات صادر فرماتے ہوئے کہا کہ نیب میں جمع کروائی گئی ہر شکایت پر نا صرف باقاعدہ کارروائی کی جائے بلکہ متاثرین کو ٹیلی فون کے ذریعے آگاہ بھی کیا جائے۔چیئر مین نیب کا کہنا تھا کہ نیب کے تفتیشی افسران مجموعی طور پر نیب کی کارکردگی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں انکی استعداد کار کو مزید بہتر بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے انہوں نے نیب میں کمبائینڈ انویسٹی گیشن ٹیم کے نظام کے تحت کیسز کی تحقیقات کئے جانے کے عمل کو بھرپورسراہا۔

Scroll To Top