غلام اکبر ٹویٹر پر!

گزشتہ دس برس کے دوران جس اسٹیبلشمنٹ نے ملک کی باگ ڈور مکمل طور پر اپنے ہاتھ ہیں لینے کے لئے جڑیں پکڑیں اس کا سرغنہ قوم کا وہ مجرم ہے جو اڈیالہ کی جیل سے بھی اپنی بے پایاں دولت کے زور پر اپنے نیٹ ورک کو فعال رکھے ہوئے ہے۔الیکشن کمیشن اگر اس نیٹ ورک کا حصہ نہیں تو مجھے حیرت ہو گی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ثابت ہو گیا کہ عدلیہ کے کچھ حصوں اورنیب اور الیکشن کمیشن میں سزایافتہ گاڈفادر اور شکست خوردہ مافیا کے ایجنٹ تبدیلی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے لئے پوری طرح سرگرم عمل ہیں۔اب یہ بات ناگزیر ہو گئی ہے کہ سرطان زدہ اداروں میں تطہیر کا عمل پوری توانائیوں کے ساتھ شروع کیا جائے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
اس الیکشن کمیشن میں یقینی طور پر پاکستان کے دشمن بھی چھپے بیٹھے ہیں جو ملک کو اس نازک موڑ پر عدم استحکام کا نشانہ بنا رہے ہیں۔انہیں اعتراض یہ ہے کہ عمران کا نام عمران کیوں ہے اور اس نے کھلے عام اپنے آپ کو ووٹ کیوں دیا ہے۔ایسے ملک دشمنوں کو سڑکوں پر گھسیٹنا قوم پر لازم ہو گیا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
عمران خان نے اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ قرار دیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ سب سے بڑی جواب دہی اللہ کے سامنے ہے عوام کے سامنے جوابدہی تبھی ممکن ہوتی ہے۔میں خان کے ساتھ اس لئے ہوں کہ وہ اللہ کریم سے ڈرتے ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
سراج الحق نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے نا دیدہ قوتوں نے کئے۔درست فرمایا ہے مگر نادیدہ قوتوں نے نہیں نا دیدہ قوت نے فیصلے کئے۔وہ جو قادر ِمطلق ہے اور جو جب فیصلے کرتا ہے تو فرعون غرق ہو جاتے ہیں اور اللہ کا نام لے کر فریب کرنے اور دھوکہ دینے والے حرف غلط کی طرح مٹ جاتے ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

Scroll To Top