اپوزیشن کی دال نہیں گلنے والی

zaheer-babar-logo

پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی سمیت دیگر پانچ جماعتوں پر مشتمل جماعتوں کا الیکشن کمیشن کے باہر بھرپور احتجاج کرنا افسوسناک ہے۔ بظاہر 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخاب میں شکست کھانے والی سیاسی جماعتیں تاحال اپنی ہار تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ مخصوص حوالوں سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ 2018کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے مخالف سیاسی قوتوں کے نامور رہنماوںکو جس طرح شکست فاش دی اس کے بعد مذکورہ پارٹیوں سے ایسے ہی ردعمل کی توقع تھی۔
ٹھیک کہا جاتا ہے کہ دشمن کا دشمن دوست ہوا کرتا ہے۔ آج پی پی پی اور مسلم لیگ ن باہم شیروشکر ہیںتو اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی شکل میں ایسی سیاسی قوت ان کر مردمقابل ہے جس نے ان کی کئی دہائیوں کی سیاسی ساکھ اڈا کرکے رکھ دی ۔ کہا جاتا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اس کا ایک مطلب یہ بھی لیا جاتا ہے کہ سیاسی رہنما اپنا کھیل خالصتا دماغ سے کھیلتے ہیں تاکہ ممکن حد تک اپنی جیت کو یقینی بنا سکیں۔
اپوزیشن جماعتوں کو سمجھ لینا چاہے کہ پاکستان تحریک انصاف درپیش چیلنجز کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہے ۔ حال ہی میں عمران خان کھل کر کہہ چکے کہ اگر عوام کی توقعات پر پورا نہ اترا گیا تو پی ٹی آئی کا حال متحدہ مجلس عمل اور عوامی نیشنل پارٹی سے بھی بدتر ہوگا۔ یقینا آج عمران خان کا مقابلہ عمران خان سے ہی ہے۔ کپتان نے اپنی سیاسی جدوجہد میں ملکی سیاست کے لیے جو معیار مقرر کردئیے ہیں وقت آن پہنچا کہ ان پر پورا اترا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ عمران خان کی مخالف سیاسی قوتیں انھیں کسی طور پر کوئی ریلیف دینے کو تیار نہیں۔ حقیقت تو یہ بھی کہ پی پی پی اور پی ایم ایل این سمیت جے یو آئی ف اور اے این پی میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو چار مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوچکے لہذا وہ ایوان کے اندر اور باہر اپوزیشن کا بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
متحدہ اپوزیشن کے حربوں کا ناکام کرنے کا صرف اور صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ پی ٹی آئی ایسی پرفارمنس کا مظاہرہ کریں جس کے نتیجے میں عام آدمی حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کے مکروفریب میں کسی طور پر نہ آئے۔ سچ ہے کہ پنجاب اور سندھ میںدس دس سال تک مسلسل حکومت کرنے والی پارٹیوں نے عوام کو سہولیات فراہم کرنا تو درکنار بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی بھی ممکن نہ بنا سکی۔ چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے والوں کو سمجھ لینا چاہے کہ اب لوگ صرف اور صرف کارکردگی کو بنیاد بناتے ہیں۔ آج کا پاکستان بدل چکا ، گزرے ماہ وسال کی طرح اب ایسا نہیں کہ نسل درنسل کسی ایک پارٹی کو ہی ووٹ دیا جائے ۔
اللہ کے فضل وکرم سے اب تیسری منتخب حکومت زمام اقتدار سنبھالنے جارہی جس کاایک مطلب یہ ہے کہ لوگ سمجھ چکے کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو ووٹ دینا ان ہی کا اختیار ہے اور اس ضمن میں انھیںکسی قسم کی رکاوٹ درپیش نہیں آئے گی۔ پاکستان دنیا کے جس خطے میں واقعہ ہے وہاں حالات بھی تیزی سے تبدیل ہورہے ۔ کہا جارہا ہے کہ طاقت کا توازن جنوبی ایشیاءکی جانب منتقل ہورہا۔ سی پیک کی شکل میں چین نے تجارتی راستہ دنیا کو دیکھایا جس کے نتیجے میں محض چند سالوں میں ہی خطے کا معاشی نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے۔پاکستان کا محل وقوع اس بات کا متقاضی ہے کہ یہاںکسی طور پر افراتفری کا عالم نہ ہو۔ قیام امن کے لیے ملکی سیکورٹی فورسز نے سینکڑوں نہیں ہزاروں جانیںقربان کی ہیں۔ افسران اور جوانوںنے امن دشمنوں کے عزائم اس لیے ناکام بنائے کہ اس دیس کے لوگ امن اور سکون سے زندگی گزرایں چنانچہ سمجھ لینا چاہے کہ سیاست اور دہشت گردی کسی بھی نام پر اب حالات خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
ایک تاثر یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں تادیر احتجاجی مہم جاری وساری نہیںرکھ پائیں گی۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ عوام کی غالب اکثریت حکومت کو ٹائم دینا چاہتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو ان وعدوںکو وفا کرنے کا موقعہ فراہم کرنا چاہے جن کا عہد انھوں نے اپنے چاہنے والوں سے کیا۔ پاکستانیوںکی اکثریت انتشار نہیں چاہتی ۔ ملکی حالات بھی یہ تقاضا کررہے کہ رہنمائی کے دعویدار اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے اس نظام کی جڑیں ہرگز نہ کھوکھلی کریں ۔
کون نہیں جانتا کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی تشکیل میں پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلزپارٹی کا کردار ہی نمایاں رہا۔ آئین کے تحت مذکورہ دونوں اداروں کی تشکیل میں حکومت اور اپوزیشن کو ہی فیصلہ کن اختیارات حاصل ہیں چنانچہ متحدہ مجلس عمل اور اے این پی جیسی جماعتوں کو اپنی توپوں کا رخ پی ایم ایل این اور پی پی پی کی جانب کرنا چاہے۔
سیاسی پختگی کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی شکست تسلیم کی جاہے ۔یہ سوال بنتا ہے کہ کیا الیکشن 2018 میں ہار جانے والی سب ہی سیاسی جماعتوںکے خلاف دھاندلی ہوئی، یقینا ایسا نہیں۔ پی پی پی اور پی ایم ایل این سمیت سب ہی سیاسی پارٹیوں کو خود احتسابی سے کام لینا ہوگا۔ اس میں شک نہیںکہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر کسی طور پر اطمنیان کا اظہار نہیںکیا جاسکتا مگر اس کامطلب یہ ہرگز نہیںکہ اس سارے الیکشن کو ہی مشکوک قرار دے دیا جائے جو ملکی مسائل کم کرنے کی بجائے ان میں اضافے کا باعث بن جائے۔

Scroll To Top