پاکستان کو سزا دہشت گرد بھی دے رہے ہیں اور دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے ہمدرد بھی 25-09-2013

kal-ki-baat

ہر پاکستانی کی آنکھیں اس اندوہ ناک سانحہ پر اشکبار ہیں جو 22ستمبر کو پشاور میں پیش آیا۔ ہمارے مسیحی ہم وطنوں کو چند شیطان صفت افراد کی ایک بہیمانہ کارروائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قیامت صغریٰ سے گزرنا پڑا۔ معصوم بچے اپنے والدین سے محروم کردیئے گئے۔ماﺅں کی گود اس حیوانی عمل کے نتیجے میں اجاڑ دی گئی۔ الفاظ کبھی اس بے پناہ رنج و کرب کا اظہار دیانت داری سے نہیں کرسکتے جو اس قسم کے المیوں کی کوکھ سے جنم لیا کرتا ہے۔
بلاشبہ دہشت گردوں کا یہ حملہ انسانیت اور پاکستان پر تھا۔ اگر یہ کہاجائے کہ یہ حملہ اسلام کی تعلیمات پر بھی تھا تو غلط نہیں ہوگا۔
لیکن نامعلوم حیوانوں کے خلاف غم وغصہ کا اظہار کرنے کے لئے پوری مملکت کا پہیہ جام کرنا کسی بھی لحاظ سے قابلِ قبول عمل نہیں۔ وقتی اشتعال کو ایک پسندیدہ رویے کے طور پر اختیار کرنا بھی ایک طرح کی دہشت گردی ہے۔
اس قسم کی دہشت گردی کے خلاف مناسب تدابیر اختیار کرنے کا وقت بھی آچکا ہے۔
23ستمبر کو سڑکوں اور چوراہوں پر چھوٹی چھوٹی ٹولیوں اور ٹولوں نے قانون شکنی کے جو مناظر پیش کئے وہ ہرگز قابلِ ستائش نہیں تھے۔
میں یہ سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ پاکستان نے جرم کیا کیا ہے کہ اسے سزا دہشت گردبھی دے رہے ہیں اور دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے ہمدرد بھی۔؟

Scroll To Top