خبردار! ہماری زمین بہت جلد ’’دہکتا ہوا سیارہ‘‘ بن سکتی ہے، ماہرین

v

ماہرین نے کہا ہے کہ زمین تیزی سے ’’گرم گھر‘‘ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ (فوٹو: فائل)

 واشنگٹن: دنیا کے ممتاز سائنسدانوں کی ٹیم نے اپنے ایک تازہ تحقیقی مقالے میں خبردار کیا ہے کہ اگر انسان نے اپنا قبلہ درست نہ کیا اور ماحولیاتی آلودگی کا سلسلہ یونہی جاری رکھا تو صرف چند عشروں بعد ہی زمین کا اوسط درجہ حرارت قبل صنعتی عہد (پری انڈسٹریل ایج) کے اوسط سے دو درجہ سینٹی گریڈ بڑھ سکتا ہے جس کے بعد زمین نہ صرف شدید گرم ہوجائے گی بلکہ اس کے نہ رکنے والے سانحاتی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

سائنس کی زبان میں اسے ’’ہاٹ ہاؤس‘‘ یا ’’گرم گھر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ممکنہ کیفیت کا نام ہے کہ جب (انسانی کارگزاریوں کے باعث) گرمی بڑھنے کے نتیجے میں قطبین اور دوسرے سرد مقامات پر موجود بیشتر گلیشیئرز پگھل جائیں گے جس سے سطح سمندر بلند ہوگی اور زمین کے بعض علاقے رہائش کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کو دو درجہ سینٹی گریڈ تک برقرار رکھنے سے بھی انسانیت کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔

یہ رپورٹ پیرکے روز امریکی تحقیقی جریدے ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ (PNAS) کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر زمینی سطح کے درجہ حرارت کا اوسط، صنعتی عہد سے پہلے کے اوسط زمینی درجہ حرارت کے مقابلے میں صرف 2 درجہ سینٹی گریڈ بھی بڑھ گیا تو زمین کی ماحولیاتی تباہی ایک نیا رُخ اختیار کرلے گی، وہ ’’گرم گھر‘‘ میں بدل جائے گی اور اس کے بعد ہولناک قدرتی آفات کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

قدرتی سانحات پر بات کرتے ہوئے اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے ماہر اور تحقیق ٹیم کے رکن پروفیسر جوہان راکسٹروم کہتے ہیں کہ اوسط گرمی بڑھنے سے ڈومینو اثر کے تحت واقعات کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور زمین کے بعض علاقے رہنے کے قابل نہ ہوں گے۔

اس ضمن میں ماہرین نے زمین پر رونما ہونے والے 9 اہم قدرتی سانحات کا ذکر بھی کیا ہے جن میں مستقل برفیلے علاقوں (پرما فروسٹ) میں برف کا پگھلاؤ، سمندری فرش سے میتھین ہائیڈریٹس کا اخراج، خشکی اور سمندروں میں کاربن جذب کرنے والے قدرتی نظام (carbon sink) کی کمزوری، عالمی تپش بڑھنے سے سمندری بیکٹیریا میں اضافہ اور نتیجتاً سطح سمندر سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا زیادہ اخراج، ایمیزون جنگلات کی موت، موسمِ گرما کے دوران قطب شمالی پر برف میں غیرمعمولی کمی، صنوبر کے جنگلات (کونیفیرس فارسٹس) میں کمی، قطب جنوبی پر برف کا پگھلاؤ اور قطبین پر برف کی چادروں کا سکڑنا شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ ہولناک واقعات تو تشویشناک مستقبل کی صرف ایک جھلک ہیں جبکہ گرمی بڑھنے سے مزید ایسے سانحات بھی ہوسکتے ہیں جن کے بارے میں ہم نے سوچا بھی نہیں۔ مثلاً آج دنیا کے جو جنگلات اور سمندر ہر سال ساڑھے چار ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کررہے ہیں وہ الٹا کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے لگ جائیں گے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ ہمارے نیلگوں سیارے کا حساس نظام ایک حد کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اسے دوبارہ سے ٹھیک کرنا ممکن نہ ہوگا۔ اس ہولناک صورتحال سے زمین کے کچھ علاقے انسانوں کے رہنے کے قابل نہ رہیں گے۔

Scroll To Top