عمران خان کی3حلقوں سے کامیابی کے مشروط نوٹیفیکشنز ،2 روک لئے گئے

  • معلوم نہیں الیکشن کمیشن کیسے چل رہا ہے، چیف جسٹس
    حکومت سازی کا عمل سبوتاژ کرنیکی سازش؟
  • اچھا بھلا انتخابی عمل جاری تھا لیکن الیکشن کمیشن نے مہربانی فرما دی،انتخابات کے روز چیف الیکشن کمشنر سے تین دفعہ رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ، شاید وہ اس دن سو رہے تھے، چیف جسٹس ثاقب نثار
  • چیئرمین پی ٹی آئی این اے35، 53 ، 95، 131 اور 243 سے کامیاب ہوئے ،این اے 53 سے کامیابی کا نوٹیفیکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر روکا گیا، این اے 131 میں دوبارہ گنتی کی درخواست کا فیصلہ آنے تک روکا گیا ، الیکشن کمیشن

عمران خان کی کامیابی بھارت کی بڑی شکست ہوگی

اسلام آباد( الاخبار سپیشل)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ انتخابات کے روز میں نے چیف الیکشن کمشنر سے تین دفعہ رابطہ کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا میرے خیال سے شاید وہ اس دن سو رہے تھے۔منگل کو سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی مخصوص نشست پر امیدوار عابدہ راجا کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن سے متعلق اہم ریمارکس دیئے کہ پتا نہیں الیکشن کمیشن کیسے چل رہا ہے، جب ہمارے پاس کیسز آئیں گے تو معلوم نہیں کیا کریں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اچھا بھلا انتخابی عمل جاری تھا لیکن الیکشن کمیشن نے مہربانی فرما دی، میں نے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان سے تین دفعہ رابطہ کیا کوئی جواب نہیں آیا، میرے خیال سے شاید وہ اس دن سو رہے تھے، اس روز تو ان کاسسٹم ہی نہیں چل رہا تھا۔دریں اثناءالیکشن کمیشن آف پاکستان نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے این اے 53 اور این اے 131 سے کامیابی کے نوٹیفکیشنز روک دئیے۔عمران خان جن حلقوں میں کامیاب ہوئے ان میں این اے این اے 53 ، این اے 35، این اے 95، این اے 131 اور این اے 243 شامل ہیں۔ ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 53 سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر روکا گیا۔ این اے 131 میں مسلم لیگ (ن) کے سعد رفیق کی جانب سے دوبارہ گنتی کی درخواست کا فیصلہ آنے تک روکا گیا ہے ، عمران خان کی تین حلقوں سے کامیابی کے مشروط نوٹیفکیشن جاری کر دیئے گئے ہیں۔ترجمان کے مطابق عدالتی فیصلوں کے باعث جن حلقوں میں دیگر امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن روکے گئے ان میں این اے 23، این اے 90 ، این اے 91 ، این اے 106، این اے 108، این اے 112، این اے 140،این اے 215،این اے 230،این اے 239 بھی شامل ہیں۔ ان حلقوں میں خواجہ آصف اور رانا ثناءاللہ کی کامیابی کے نوٹیفکیشن بھی شامل ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کا رویہ حکومت سازی کے عمل میں نا صرف تاخیر کا سبب بن سکتا ہے بلکہ متوقع وزیر اعظم کے سر پر نااہلی کی تلوار بھی لٹکتی رہے گی جو کہ ان کی حکومت کی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے پنڈتوں نے الیکشن کمیشن کو تجویز دی ہے کہ وہ بروقت انتخابات کرانے کا کریڈٹ لینے کے بعد اب اس قسم کے تاخیری حربوں سے خود کو ڈس کریڈٹ کرنے سے باز رہے۔

Scroll To Top