نواز شریف کی العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز منتقلی کی درخواست منظور

  • دونوں ریفرنسز کا ٹرائل یہیں سے آگے بڑھایا جائےگا ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے محفوظ فیصلہ سنایا

نواز شریف کا واپس نہ آنے کا اعلاناسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز منتقلی کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ریفرنسز کا ٹرائل یہیں سے آگے بڑھایا جائےگا۔ منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے دائر کی گئی العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی منتقلی کی درخواست پر سماعت کی۔سماعت کے دوران نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وکیل صفائی خواجہ حارث پہلے تینوں ریفرنسز میں مشترکہ گواہوں کا بیان چاہتے تھے لیکن وہ تینوں ریفرنسز میں مشترکہ گواہوں پر جرح نہیں کرسکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ وکیل صفائی پراسیکیوشن کے کیس کو اپنا دفاع کہہ رہے ہیں تاہم ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ نیب کا کیس ہے اور انہوں نے دفاع پیش ہی نہیں کیا۔سردار مظفر عباسی نے کہا کہ العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس میں ملزمان کا 342 کا بیان ریکارڈ ہونا ہے اور ملزمان کے پاس موقع ہے کہ وہ دیگر ریفرنسز میں اپنے دفاع میں کچھ پیش کردیں۔نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے بھی جوابی دلائل دیئے، اس دوران ان کا جسٹس گل حسن سے مکالمہ بھی ہوا۔جسٹس میاں گل حسن نے خواجہ حارث سے کہا کہ آپ ہمیں چارٹ بنا کر دیں جس سے ظاہر ہو کہ کون سے الزامات مشترک ہیں اور یہ بھی ظاہر ہو کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلہ آچکا ہے اس کے جواب میں خواجہ حارث نے کہا کہ قطری خط تینوں ریفرنسزکے مشترکہ شواہد میں سے ایک ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ اگر جج صاحب ریفرنسز کی سماعت سے معذرت کرلیں تو کیا ہوگا؟ کیا انتظامی بنیادوں پر کیس دوسری عدالت کو منتقل ہوسکتا ہے؟ کیا سپریم کورٹ ہائی کورٹ کے ایک سے دوسرے جج کو کیس منتقل کرسکتی ہے؟ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ جب تک جج کیس سننے سے انکار نہ کردے، ا±س وقت تک اسے دوسری عدالت کو منتقل نہیں کیا جاسکتا، ہاں لیکن سپریم کورٹ ایک سے دوسری ہائیکورٹ کیس منتقل کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔اس موقع پر عدالت نے پوچھا کہ کیا چیئرمین نیب کے پاس کسی اور عدالت سے احتساب عدالت کو کیس منتقل کرنے کا اختیار ہے؟ جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ چیئرمین نیب کے پاس اختیار نہیں کہ وہ کسی احتساب عدالت سے کیس منتقل کرسکیں تاہم احتساب عدالت سے دوسری احتساب عدالت کیس منتقلی کا اختیار سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ چیف جسٹس ہائی کورٹ کے پاس بھی خود سے کیس منتقل کرنے کا قانونی اختیار نہیں۔انہوں نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ بار ثبوت منتقل نہیں کرسکے تو ہمیں اب فیئر چانس دیں۔سماعت کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی منتقلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا بعد ازاں عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ریفرنسز دوسری عدالت منتقلی کی درخواست منظور کرلی جس کے تحت اب نوازشریف کے خلاف یہ ریفرنسز احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نہیں سنیں گے ۔ عدالت نے فیصلے میں کہاکہ دونوں ریفرنسز کا ٹرائل یہیں سے آگے بڑھایا جائےگا۔کیپٹن(ر)صفدر کی سزامعطلی کی درخواست پرسماعت (آج) ،نوازشریف اورمریم نوازکی سزامعطلی سے متعلق درخواست پرسماعت پیرکوہوگی۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت سے دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تھی جو نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سناچکے ہیں۔

Scroll To Top