پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ میں15ارب کے گھپلے :نیب کا جسٹس (ر) عامر رضا سے وضاحت طلب کرنےکا فیصلہ

  • جنوبی پنجاب کے ہونہار طلبہ کیلئے قائم فنڈز کمرشل بنکوں کو دے دئیے گئے جبکہ غریب طلبہ فنڈز نہ ہونے سے اعلیٰ تعلیم کے زیور سے محروم رہے
  • کرپٹ افسران ذاتی حرص کی تکمیل کیلئے فنڈز کا استعمال کرتے رہے، بھاری معاوضے اور تنخواہیں وصول کرنے میں مصروف رہے

پنجاب حکومت

اسلام آباد(آن لائن)ڈان رپورٹ کی تحقیقات کرنے والے کمیٹی کے سربراہ جسٹس (ر) عامر رضا پنجاب حکومت کی طرف سے 15ارب روپے مالیت کے پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے سربراہ نکلے ہیں،ان کی سربراہی میں فنڈز کے مالیاتی امور میں بھاری مالی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں جبکہ نیب حکام نے اس فنڈز سے کی گئی مالیاتی بدعنوانیوں اور مبینہ کرپشن کی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کرنے کافیصلہ کیا ہے۔سرکاری ذرائع سے حاصل دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ شہبازشریف نے جنوبی پنجاب کے ہونہار طلبہ کو وظائف دینے اور تعلیمی اخراجات پورے کرنے کیلئے 15ارب روپے سے زائد ایک انڈومنٹ فنڈ قائم کیاتھا لیکن فنڈز کی انتظامیہ نے یہ فنڈز مختلف بنکوں میں انوسیٹمنٹ کردئیے،جس سے فنڈز کے قائم کرنے کے مقاصد حاصل نہ ہوسکے۔ابتداء2006ءمیں انڈومنٹ فنڈز کے پاس2ارب روپے تھے جس میں اضافہ کرکے15 ارب روپے سے زائد کردئیے گئے ہیں اس انڈومنٹ فنڈز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا سربراہ جسٹس(ر) عامر رضا کو بنایا گیا جس کی سربراہی میں قائم جے آئی ٹی نے ڈان لیکس کی تحقیقات کیں تھیں،ممبران میں ڈاکٹر محمد امجد ثاقب،مس نصرت جمیل،ڈاکٹر محمد اجمل خان،سابق سیکرٹری داخلہ مہر جیون خان ڈپ اور ڈاکٹر شاہد صدیقی ہیں،اس انڈومنٹ فنڈز کا چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر کامران شمس تھے جبکہ فنانشل آفیسر کا عہدہ مظہرالحق ہاشمی کو دیاگیا،باقی افسران میں احمد ذکی،انیس نواز چٹھ،زاہد حسین عرفان امجد تھے،ان افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے فنڈز کے پاس اربوں روپے میں بھاری مالی بدعنوانیاں کیں ہیں جبکہ مستفید ہونے والے طلباءکی تفصیلات بھی نیب حکام کو دینے پر راضی نہیں ہیں،انڈومنٹ فنڈز کے قیام کا مقصد غریب طلبہ کی امداد تھی لیکن کرپٹ افسران نے ذاتی حرص کی تکمیل کیلئے فنڈز کا استعمال کردیا۔فنڈز انتظامیہ کے افسران نے ماہانہ بھاری تنخواہیں وصول کرنے میں مصروف ہیں جس سے فنڈز کے مقاصد کا ستیاناس ہوگیا ہے۔دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ سرمایہ کاری کئے گئے فنڈز سے سالانہ5ارب روپے سے زائد آمدن ہوتی ہے اور سالانہ انتظامی اخراجات4ارب39کروڑ ظاہر کئے گئے ہیں،تاہم انتظامیہ نے وزارت خزانہ حکومت پنجاب کو مالیاتی امور سے بالکل بے خبر رکھا ہوا ہے کیونکہ افسران نے فوائد کے عوض اربوں روپے من پسند بنکوں میں رکھے ہوئے ہیں جبکہ انتظامیہ نے مختلف اخراجات کے تحت3کروڑ60لاکھ روپے اکا¶نٹس سے نکلوائے ہیں۔افسران نے 1ارب 94کروڑ روپے پنجاب کوآپریٹو بورڈ لمیٹڈ میں انویسٹ کر رکھے ہیں جس پر مارک اپ مارکیٹ ریٹ سے انتہائی کم وصول کیا جارہا ہے جس سے سالانہ 12 کروڑ روپے آمدن ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ انتہائی کم ہے۔اعلیٰ تعلیم کیلئے ہونہار طلبہ کو صرف10ملین روپے کی امداد دی جارہی ہے جبکہ گزشتہ دو سالوں میں یہ امداد بھی فراہم نہیں کی گئی ہے اور پی ایچ ڈی سکالر شپ پروگرام برح طرح فلاپ ہوگیا ہے۔انڈومنٹ فنڈ انتظامیہ نے33 کروڑ روپے ایڈوانس کے طور پر ادا کر رکھے ہیں جس کی قانون اجازت بھی نہیں دیتا ہے۔دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ انتظامیہ نے گزشتہ سال کمرشل بنکوں میں16 ارب روپے شارٹ ٹرم بنیادوں پر سرمایہ کاری کے لئے رکھے ہوئے ہیں جس سے آمدن میں اضافہ کی بجائے سالانہ 2فیصد آمدن میں کمی واقع ہورہی ہے جس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔نیب حکام نے پنجاب انڈومنٹ فنڈز کے تمام مالی معاملات کا گہرائی سے تحقیقات کرنے میں مصروف ہے اور اس عزم کا اظہار کر رکھا ہے کہ لوٹنے والے سرکاری ملازمین سے لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لائیں گے اور اس مقصد کیلئے جسٹس(ر) عامر رضا سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی۔یاد رہے کہ جسٹس عامر رضا کی سربراہی ٹیم میں مریم نواز کو ڈان لیکس سے بے گناہ قرار دیا تھا عامر رضا نواز شریف کی ملکیتی میڈیکل کمپلیکس کی دیکھ بھال بھی کرتا ہے،عامر رضا سے رابطہ کرکے م¶قف جاننے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی

Scroll To Top