الیکشن کمیشن کا سیاسی استحکا میںکردار

zaheer-babar-logo

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن دوہزار اٹھارہ میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کے باضابطہ نوٹیفیکشن جاری کردئیے مگر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کے قومی اسمبلی کے پانچ میں سے تین حلقوں میں کامیابی کو مشروط کردیا گیا جبکہ دو کا سرکاری نتیجہ عدالتی کاروائی کے سبب روک دیا گیا۔ ادھر بعض حلقے الیکشن کمیشن کے اس اقدام کو شکوک شبہات کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں یعنی یہ کہاجارہا کہ یہ معاملہ حل نہ ہونے تک الیکشن کمیشن کے زریعہ عمران خان کے سر پر تلوار لٹکتی رہے گی جو سیاسی غیر یقینی صورت حال میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ الیکشن ایکٹ دوہزار سترہ کے مطابق اگر کوئی امیدوار قوائد وضوابط کی خلا ف وزری کرتا ہے تو اسے قید اور جرمانے کی سزا کے علاوہ وہ نااہل بھی ہوسکتا ہے۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا نہیںکہ الیکشن کمیشن نے ہر بار قوائد وضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے ہر امیدوار کے خلاف کاروائی ہی عمل میں لائی ہو بلکہ یہ ادارے کا صوابیدی اختیار ہے کہ وہ کب اور کہاں کس کے لیے کیا سزا تجویزکرتا ہے۔ مذکورہ معاملہ کا اہم پہلو یہ ہے کہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن پر کوئی پابندی نہیںکہ وہ ایسے معاملات کا فیصلہ چند روز میں کریں ، مہینہ لگا دے یا سالوں لگ جائیں ۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ عمران خان پر بیلٹ پیپر پر میڈیا کے سامنے مہر لگانے کا معاملہ زیادہ سنگین نہیں۔ اس کے برعکس سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ایسا بھی ہوا کہ اراکین اسمبلی نے اپنے ووٹ دیکھا کر بیلٹ باکس میںڈالے مگر ان کے خلاف ٹھو س کاروائی عمل میں نہ لائی گی۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف الزام کو مسترد کررہی کہ عمران خان کسی قسم کی الیکشن کمیشن کے قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ، پی ٹی آئی کے زمہ داروں کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن ایسی مثالی کارکردگی کا مظاہر ہ ہی نہیں کرسکا جس کے نتیجے میں انتخاب بہتر طور پر منعقد کیا گیا ہو۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ کسی اور کی نہیں الیکشن کمیشن کی زمہ داری تھی کہ وہ ووٹ ڈالتے وقت میڈیا کو عمران خان سے دور رکھتا۔ پاکستان تحریک انصاف کے بعقول الیکشن کمیشن اپنی ناکامی کا بوجھ اب عمران خان پر لاد رہا۔
وطن عزیز کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کسی طور پر نئے بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ 25جولائی کے عام انتخابات جن مخصوص حالات میں ہوئے وہ کسی سے بھی مخفی نہیں۔ پاکستان دشمن قوتوں کی کوشش تو یہی تھی کہ کسی نہ کسی طرح عام انتخابا ت التواءکا شکار ہو جائیں مگر قومی اداروں کی بھرپور کاوشوں کے نتیجے میں یہ سازش بڑی حد تک ناکام رہی۔
پاکستان میں جمہوری عمل بتدریج آگے کی جانب بڑھ رہا۔ دو آئینی حکومتیں اپنی مدت پوری کرکے رخصت ہوئیں تو اب تیسری کا انتخاب ہونے جارہا ۔ پرامن انتقال اقتدار کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا معمولی پیش رفت نہیں۔ جمہوریت کی خوبی ایک یہ بھی ہے کہ اس میں خون خرابے اور فساد کے بغیر ایک جماعت رخصت ہوتی ہے تو اس کی جگہ دوسری پارٹی لے لیا کرتی ہے۔ 25جولائی کے عام انتخابات اس لحاظ سے اہمیت کے حامل ہیں کہ اس میںپاکستان تحریک انصاف کی شکل میں ایسی سیاسی قوت سامنے آئی جو اس سے قبل وفاق میں کبھی برسر اقتدار نہیں آسکی چنانچہ ایک طرف لوگوں کی توقعات غیر معمولی ہیں تو دوسری جانب خود پی ٹی آئی بھی دباو عوامی توقعات کا دباو محسوس کررہی۔
افسوس کہ ماضی کی طرح اس بار بھی الیکشن کمیشن نے ایسی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا جسے قابل رشک کہا جاسکے ۔ انتخاب والے دن نتائج آنے میںجس طرح تاخیر ہوئی اس کے نتیجے میں شکوک وشبہات کا پیدا ہونا قدرتی عمل تھا۔ اس معاملہ کی تحقیقات بہرکیف ہونی چاہے کہ کیا یہ سازش تھی یا کوتاہی جس کے سبب مختلف حلقوں میں نتائج آنے میں مسائل پیدا ہوئے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مسائل کا بوجھ سیاسی جماعتوں پر لاد رہا۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی سمیت کئی دوسری جماعتیں انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا شور مچا رہیں۔بشیتر سیاسی قوتیں کسی اور کو نہیں الیکشن کمیشن پر الزام عائد کررہیں کہ وہ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں ناکام رہا۔
ہماری سیاسی تاریخ ایک طرف مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ اب تک شائد ہی کوئی ایسا انتخاب عمل میں آیا جس کے نتائج سب نے قبول کیے ۔ نوئے کی دہائی میں تو یہ ہوتا کہ جب میاں نوازشریف جیتے تو متحرمہ بے نظیر بھٹو نے اس کو تسلیم نہ کیا اور جب بی بی جیتی تو میاں نوازشریف کی دھاندلی کی دہائی دینے میدان میں نکل آئے۔
ایک طرف سیاسی رہنماوں کو سنجیدہ اور پختگی پر مبنی رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف الیکشن کمیشن کو ہنگامی بنیادوں پر ان نقائص کو دور کرنا ہوگا جو سالوں بعد بھی پوری بدصورتی کے ساتھ نمایاں ہیں۔ سوال ہے کہ آج کس طرح یقین کیاجائے کہ 2023کے عام انتخابات کے نتیجے میں غلطیوںکو نہیںدہرایا جائیگا جو اس وقت نظر آرہیں۔ 25جولائی گزر چکا ، الیکشن کمیشن کو آگے بڑھ کر استحکام کی کوششوں میں کردار ادا کرنا ہوگا ناکہ غیر یقینی صورت حال میں اضافہ کرنے کی کوششوں کو پذائری بخشی جائے ۔

Scroll To Top