برازیل نے وینزویلا کی سرحد مختصر بندش کے بعد کھول دی

b

برازیل نے وینزویلا میں جاری معاشی اور سیاسی بحران کے باعث شمالی سرحد کو مختصر مدت کے لیے بند رکھنے کے بعد دوبارہ کھول دیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا میں اقتصادی بحران کے باعث عوام تیزی سے برازیل کا رخ کرنے لگے تاہم برازیل نے شمالی سرحد چند گھنٹے بند رکھنے کے بعد تارکین وطن کے لیے کھول دی۔

قبل ازیں برازیل کی سپریم کورٹ نے اس وقت تک سرحد بند رکھنے کا حکم دیا تھا، جب تک برازیل بڑی تعداد میں تارکین وطن کی نقل وحمل کے لیے تیار نہیں ہوجاتا۔

سپریم کورٹ کی جج روزا ویبر نے رات گئے جاری کیے گئے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ ’تارکین وطن کو پناہ دینے میں مشکلات کے باعث یہ انصاف نہیں کہ سرحد بن کرنے کا آسان راستہ اپنایا جائے‘۔

برازیل کے ایمیزون علاقے میں واقع رورائما ریاست کے حکام کا کہنا تھا کہ وینزویلا سے تعلق رکھنے والے 500 افراد روزانہ کی بنیاد پر سرحد عبور کررہے ہیں تاہم شمالی سرحد کو گزشتہ روز چند گھنٹے بند رکھنے کے بعد وینزویلا پناہ گزینوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔

بعد ازاں ہائی کورٹ جج کی جانب سے جاری عارضی احکامات میں کہا گیا تھا کہ برازیل کی سرحد یہاں کے شہریوں اور دیگر ممالک کی شہریت رکھنے والے لوگوں کے لیے کھلی رہے گی جبکہ سرحد کو وینزویلا واپس جانے والے افراد کے لیے بھی کھلا رکھنے کا حکم دیا گیا۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل برازیل کے دارالحکومت کراکس میں فوجی پریڈ کے دوران صدر نکولس مدورو مبینہ طور پر ڈرون حملے میں محفوظ رہے تھے جبکہ اس حملے میں نیشنل گارڈ کے 7 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : وینزویلا میں انتخابات، نکولس مادورو فاتح قرار

مذکورہ حملے کے بعد صدر نکولس مدورو نے سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ’حملہ مجھے قتل کرنے کے لیے کیا گیا اور انہوں نے مجھے مارنے کی کوشش کی‘۔

نکولس مدورو نے اپنے اوپر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کولمبیا پر عائد کی اور کہا تھا کہ ’امریکا میں بیٹھے بعض نامعلوم لوگوں نے حملے کی فنڈنگ کی‘۔

دوسری جانب کولمبیا نے وینزویلا کے صدر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی، کولمبیا کے ایک افسر نے بتایا تھا کہ نکولس مدورو کے الزامات ’بے بنیاد‘ ہیں۔

گزشتہ روز وینزویلا کے وزیر داخلہ نے بتایا تھا کہ صدر نکولس مدورو پر مبینہ ڈرون حملے میں ملوث 6 افراد کو گرفتارکرلیا گیا ہے انہوں نے سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں ایک مرتبہ پھر کولمبیا کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا۔

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں منعقد انتخابات میں صدر نکولس مدورو ایک مرتبہ پھر آئندہ 6 برس کے لیے ملک کے صدر منتخب ہوئے۔

وینزویلا تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے جہاں سیاسی بحران کے ساتھ معیشت کی صورتحال بھی ابتر ہے جس کے باعث وینزویلا کا عالمی دنیا کے ساتھ رابطہ بہت کم ہے۔

وینزویلا کے صدر پر ہونے والے حملے نے ملک میں جاری بحران کو مزید بڑھا دیا ہے جس کے باعث عوام کی بڑی تعداد برازیل اور دیگر ممالک کا رخ کررہی ہے۔

Scroll To Top