وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی تاریخ سے تمام گھناﺅنے جھوٹ خارج کردیں 24-09-2013

kal-ki-baat

دور رفتہ کے ایک دل پھینک اور آوارہ گرد سیاست دان جناب غلام مصطفی کھر نے فرمایا ہے کہ سقوط مشرقی پاکستان کا سانحہ جنرل یحییٰ خان یا ذوالفقار علی بھٹو کے اقدامات کی وجہ سے نہیں بلکہ صدر ایوب خان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے رونما ہوا تھا۔
میں عام حالات میں جناب غلام مصطفی کھر کے اس بیان کو کوئی اہمیت نہ دیتا۔ اُن کی سیاسی متلون مزاجی اور فکری آوارگی کا علم کسے نہیں ؟ لیکن اس بیان میں چونکہ تاریخ کے ساتھ ایک شرمناک بدیانتی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اس لئے میں اس کی تردید کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان ایک مطلق العنان حکمران تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی درست ہے کہ ان کے دور میں پاکستان کا شمار تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے والے ممالک میں ہوتا تھا۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی اس سوچ کے علمبرداروں کی سازشوں کے نتیجے میں ہوئی جو آج کے بنگلہ دیش میں حکمران ہے اور جس نے ایک بھاری مسلم اکثریت رکھنے والے ملک میں اسلام کے نام لیواﺅں پر عرصہ ءحیات تنگ کررکھا ہے۔
اگر تلہ سازش کیس محض ایک افسانہ نہیں تھا ایک حقیقت تھی۔ 1967ءمیں یہ سازش ناکام بنا دی گئی لیکن 1971ءمیں اسے بھارت کی براہِ راست شرکت نے کامیابی سے ہمکنار کرایا۔
جہاں تک ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق ہے ` انہیں اقتدارحاصل کرنے کی جلدی تھی۔ یہ حقیقت تاریخ سے کیسے حذف کی جاسکتی ہے کہ بھٹو مرحوم صدرایوب خان کی حکومت کے ایک اہم ستون تھے۔ اگر صدر ایوب خان ” کافر“ تھے تو بھٹو مرحوم نے اسلام کب قبول کیا۔؟ ایوب خان مرحوم سے ” جرم آمریت “ کا ارتکاب ضرور ہوا لیکن ان کی حب ِالوطنی ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ پاکستان اپنے مشرقی بازو کے بھارت نواز اقتدار پرستوں کی سازشوں کے نتیجے میں ٹوٹا۔ اس کی گرتی ہوئی دیوار کو ضرب زیڈ اے بھٹو کی ” طلب ِاقتدار “ نے لگائی۔ اس ضرب کو فیصلہ کن جنرل یحییٰ خان کے سیاہ کردار نے بنایا۔
اِس قوم کے ساتھ بڑے بڑے جھوٹ بولے گئے ہیں۔ اِن میں سب سے بڑا جھوٹ یہ رہا ہے کہ اس کے حکمرانوں میں کچھ صرف ” فوجی آمر “ تھے اور کچھ عوام کے منتخب نمائندے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر ایک اقتدار کا پجاری تھا۔ کچھ نے صرف اقتدار کی پوجا کی ` اور کچھ نے تربیلا اور منگلا وغیرہ کی تعمیر بھی کرائی۔
وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی تاریخ سے تمام جھوٹ خارج کردیں۔ کچھ جھوٹ تو اس قدر گھناﺅنے ہیں کہ ان کے اخراج کے بغیر تباہی و بربادی کی طرف ہمارا تیز رفتار سفر کبھی نہیں رکے گا۔۔۔

Scroll To Top