پروٹوکول ایک مقبول عیاشی ہے اور سکیورٹی ایک ناگزیر ضرورت

aaj-ki-baat-new

گزشتہ روز جب عمران خان اپنی رہائش گاہ سے اپنی پارٹی کے کامیاب امیدواروں کے اجلاس میں شرکت کے لئے نکلے تو انہیں وزیراعظم کی سکیورٹی دی گئی۔۔۔ اس پر خان صاحب نے شدید برہمی کا اظہا ر کیا اور کہا کہ وہ ایسے پروٹوکول کے سخت خلاف ہیں جو عام شہریوں کے معمولات زندگی میں خلل یادشواریوں کا با عث بنے۔۔۔ اصولی طور پر یہ بات درست ہے مگر اصل مسئلہ یہ طے کرنا ہے کہ سکیورٹی کی سرحدیں کہاںختم ہوتی ہیں اور پروٹوکول کی سرحدیں کہاں سے شروع ہوتی ہیں۔۔۔
آج کی دنیا کسی بھی لحاظ سے چند دہائیاں قبل کی دنیا کے مقابلے میں محفوظ جگہ نہیں۔۔۔ ہمیں یہ حقیقت نہیں بھلانی چاہئے کہ امریکہ جیسے ” محفوظ“ ملک میں اس کے ایک مقبول صدر جان ایف کینیڈی کو دورانِ سفر گولی ماری گئی تھی۔۔۔اس سے پہلے پاکستان میں اس کا ایک مقبول وزیراعظم گولیوں کا نشانہ بنا تھا۔۔۔ یہ درست ہے کہ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے اورجو ” وقتِ اجل“ مقر ر ہے وہ ٹل نہیں سکتا۔۔۔ لیکن پھر یہ بھی درست ہے کہ روئے ارض پر جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ منشائے الٰہی سے ہوتا ہے اورمنشائے الٰہی کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔ پھر ہم کیوں منصوبہ بندیاں کرتے ہیں ` حکمت عملیاں تیار کرتے ہیں اور حکومتیں بناتے ہیں ۔۔۔؟ ہمیں سب کچھ رضائے الٰہی پر چھوڑ دینا چاہئے۔۔۔
ہم ایسا اس لئے نہیں کرتے کہ اپنے معاملات و معمولاتِ زندگی کو خود چلانا بھی منشائے الٰہی کے عین مطابق ہے۔۔۔
کپتان کی زندگی اب کپتان کی ملکیتِ نہیں اس قوم کی ملکیت ہے جس نے انہیں ایک نہایت پرُ آشوب دور کے چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے اپنا لیڈر منتخب کیا ہے۔۔۔ ہم جانتے ہیں کہ اِس قوم اور اس ملک کو دشمنوں کی کمی نہیں۔۔۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کپتان کے اپنے دشمن بھی لاتعداد ہوں گے۔۔۔
یہاں ایک سوال خودبخود اٹھتا ہے اور وہ یہ کہ ” کیا دشمنوں کو وار کرنے کا موقع یا آسانی فراہم کرنا کسی بھی لحاظ سے دانشمندی کے دائرے میں آئے گا۔۔۔؟“
اس ضمن میں میرا ذہن خود بخود اِس نہایت تکلیف دہ اور رُلادینے والی حقیقت کی طرف جاتا ہے کہ ہمارے چار میں سے تین خلفائے راشدین مناسب سکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے شہید کئے گئے۔۔۔ ان کی شہادت منشائے الٰہی کے عین مطابق تھی مگر ان شہادتوںنے امت ِ محمدی ﷺ کو جو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا اس سے کون انکار کرسکتا ہے ۔۔۔؟ خصوصاًحضرت عمر فاروق ؓ کی شہادت ایک ایسی ضرب کاری تھی جس سے یہ قوم آج تک نہیں سنبھل سکی۔۔۔ اگر اسلام کا یہ بطلِ جلیل چند برس اور قیادت کا منصب سنبھالے رکھتا تو بے شمار شعبوں میں سوالات کے جو طوفان بعد میں اٹھتے رہے ہیں ان کا مداوا عہدِ فاروقی ؓ میں ہی ہوجاتا ۔۔۔
یہ مشورہ حضرت عمرو العاض ؓ نے فاروق اعظم ؓ کو دیا تھا کہ ” یا امیر المومنین۔۔۔ آپ کی زندگی آپ کی نہیں ہے۔۔۔ آپ کے پاس خلقِ خدا کی امانت ہے۔۔۔“

Scroll To Top