محمد حفیظ کا سنٹرل کنٹریکٹ کو مسترد کرنے کا فیصلہ

hafiz

کرکٹر کا بورڈ حکام کے فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کا عندیہ فوٹو:فائل

 لاہور: محمد حفیظ نے سنٹرل کنٹریکٹ کو مسترد کرنے کا فیصلہ کرلیا

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے نئے سینٹرل کنٹریکٹس نے ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔ سابق کپتان محمد حفیظ اے سے بی کیٹگری میں تنرلی پر سخت  خفا ہیں اور انہوں نے بورڈ حکام کے فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ٹیسٹ کرکٹر اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر سخت دلبرداشتہ ہیں۔ ٹیسٹ اور ون ڈے میں بہترین اسٹرائیک ریٹ اور ایوریج کے باوجود ٹیم سے ان اور آوٹ رکھے جانے کے بعد اب اعلان کردہ نئے کنٹریکٹس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

سابق کپتان کے  قریبی حلقوں کے مطابق کرکٹرکو کھڈے لائن لگانے کی کوشش بہت عرصہ پہلے سے کی جارہی ہیں، اور بی کیٹگری میں پھینکنے کا یہ فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کے مطابق پیسے ایشو نہیں، بلکہ وہ عزت ہے جس کے تحت وہ ہمیشہ پاکستان کی نمائندگی کرتے آئے ہیں، اس لیے کرکٹر آئندہ بھی اسی  عزت اور وقار کے ساتھ ہی  کھیلنے کے خواہشمند ہیں، بصورت دیگر گھر بیٹھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئِنٹی سمیت تینوں فارمیٹس کھیلنے والے محمد حفیظ اس بات پر بھی خفا ہیں کہ کچھ کرکٹرز کو صرف ایک دو فارمیٹس پر ہی اے کیٹگری میں رکھاگیا ہے، ایک خراب سیریز پر ان کے ساتھ ایسا سلوک ٹھیک نہیں۔

اوپنر کا موقف ہے کہ کردار، ڈسپلن اور پرفارمنس پر کوئی انگلی نہیں اٹھاسکتا تو پھر ایسا سلوک کیوں کیا جارہا ہے، یہ پاکستان کی ٹیم ہے، اور وہ ہی فیصلے ہونے چاہئیں جس سے اس کی نیک نامی اور عزت میں اضافہ ہو، ایک سینئر کرکٹر کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے اچھی مثال قائم نہیں ہورہی۔

سابق کپتان کے مطابق کوچ، کپتان سمیت کسی سے سے ان کا کوئی اختلاف نہیں، بس عزت کے ساتھ  ورلڈ کپ 2019 کھیلنے کی خواہش ہے، بی کیٹگری لے کر کسی مستحق کی حق تلفی نہیں کرنا چاہتے، وہ یہ جاننے میں حق بجانب ہیں کہ آخر ان کا قصور کیا ہے۔

Scroll To Top