آپ کے گھر کو بیٹری میں تبدیل کرنے والا انقلابی کنکریٹ

e

کنکریٹ میں پوٹاشیئم آئن شامل کرکے پوری عمارت کو بجلی گھر بنایا جاسکتا ہے (فوٹو: فائل)

 لندن: اب جدید ٹیکنالوجی کی بدولت کسی بھی مکان یا عمارت کو ایک بہت بڑی بیٹری میں بدلا جاسکتا ہے۔

کمپوزٹ اسٹرکچر نامی جرنل میں شائع تحقیق کے مطابق تعمیراتی انجینئرز نے اس کے لیے ایک خاص قسم کا کنکریٹ بنایا ہے جو گرمیوں میں جمع شدہ توانائی کو سردی یا ضرورت کے وقت استعمال کے قابل بناتا ہے۔ ماہرین نے کنکریٹ میں پوٹاشیئم آئن شامل کیا ہے جو ہر دیوار بلکہ ہر اینٹ کو ایک غیر روایتی توانائی گھر میں تبدیل کردیتا ہے۔

سائنسی لحاظ سے پوٹاشیئم آئن جیسے چارج شدہ ذرات کنکریٹ کی مانند کسی کرسٹل (قلمی) ساخت میں سفر کرکے ایک جانب جمع ہوسکتے ہیں۔ اس طرح کے کنکریٹ سے بنی دیوار اگرچہ بیٹری تو نہیں بنتی لیکن ایک بہت بڑے کیپیسٹر میں ضرور تبدیل ہوجاتی ہے۔

لنکاسٹر یونیورسٹی کے انجینئر محمد صافی اور ان کے ساتھیوں نے کنکریٹ میں آئن شامل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے عمارتوں میں توانائی کے مسائل پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے اور یہ توانائی حاصل کرنے کا بہت کم خرچ طریقہ بھی ہے۔

محمد صافی نے کہا ہے کہ کیپیسٹر کنکریٹ بنانے کا عمل عام کنکریٹ کی طرح ہی ہے لیکن ابھی چھوٹے پیمانے پر کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ تجارتی پیمانے پر اس کی تیاری میں کچھ سال لگ سکتے ہیں۔ لنکاسٹر کی ٹیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے 10 سال میں ایسی عمارتیں بنائیں گے جو توانائی ذخیرہ کرکے اسے قومی گِرڈ میں بھی داخل کرسکیں گے۔

Scroll To Top