بہتر ہوگا کہ ہم مسلمانی کے دعووں سے دستبردار ہوجائیں ! 20-09-2013

kal-ki-baat
مجھے اعتراف ہے کہ آج یہ مختصر کا لم میں ” حالتِ اشتعال “ میں لکھ رہا ہوں۔ میں اشتعال سے پرہیز کے فوائد کو پوری طرح سمجھتا ہوں لیکن جب ایک مسلمان کے سامنے ” دعویٰ ءمسلمانی “ رکھنے والا کوئی شخص یہ کہے کہ حضرت محمد کے خدا کو مسجد تک ہی محدود رکھنا اور اسے (نعوذ باللہ) معاملاتِ ریاست و سیاست میں دخل دینے سے روکنے میں ہی اس مملکت کی فلاح ہے ` تو اشتعال آئے بغیر نہیں رہتا۔ میں کسی صاحبِ دانش کا نام نہیں لوں گا لیکن اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھنے والے متعدد تجزیہ کار او ر اہل رائے آٰج کل بے دھڑک اس قوم کو یہ بتا رہے ہیں کہ مذہب کو سیاست سے دور نہ رکھا گیا تو یہ ملک ہمیشہ پسماندگی اور تباہی کے اندھیروں میں بھٹکتا رہے گا۔
میں نہیں سمجھتا کہ اس قسم کی دانش کے موتی بکھیرنے والے اصحاب ” وجودِ خداوندی “ پر درحقیقت ایمان رکھتے ہیں۔ اگر وہ مانتے ہوتے کہ خدا واقعی ہے تو ان میں فرموداتِ خداوندی کواتنی دیدہ دلیر ی کے ساتھ جھٹلانے کا حوصلہ پیدا نہ ہوتا۔ حضرت محمد کا خدا اپنی کتاب (قرآن پاک)میں بار بار یہ فرماتا ہے کہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ نہ صرف یہ کہ اس کے احکامات کی پابندی وہ خود کرے بلکہ دوسرے مسلمانوں سے بھی کرائے۔
یہ الفاظ لکھ کر میرا طیش ذرا ٹھنڈا پڑا ہے۔ مگر میں متذکرہ قبیل کے دانشوروں کو مشورہ دوں گا کہ اگر وہ قرآن کو اپنی زندگیوں سے دور رکھنے کے فیصلے میں اٹل بھی ہیں تو بھی وہ کم ازکم آپ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ ضرور کریں۔
آنحضرت کی آدھی سے زیادہ نَبوی زندگی اسلامی سیاست کے فروغ اور اسلامی ریاست کے قیام کے لئے گزری۔
اگر ہم سیاست میں اسلام کا عمل دخل پسند نہیں کرتے تو بہتر ہوگا کہ ہم مسلمانی کے دعووں سے دستبردار ہوجائیں !

Scroll To Top