میں کبھی کاروباری آدمی نہیں تھا۔۔۔ کاروباری آدمی حکومتوں سے پنجہ آزمائی نہیں کیا کرتے۔۔۔

aaj-ki-baat-new

اسے ایک کہانی سمجھ کر پڑھئے۔۔۔ اس کہانی کے ایک بڑے گواہ رائے نذر حیات ہیں جو 2008ءمیں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے معاون خصوصی پرویز رشید کے سیکرٹریٹ میں ڈائریکٹر تھے۔۔۔
پرویز رشید سے میرے دیرنیہ تعلقات تھے۔ تب تک میں ان کا حقیقی چہرہ نہیں جانتا تھا۔
جس ملاقات کا ذکر ہے اس کا آغاز ایک دوسرے کے بارے میں نہایت خوشگوار کلمات اور نیک خواہشات سے ہوا۔
پھر وہ اپنے حقیقی مقصد کی طرف آگئے۔
” آپ کو معلوم ہوگا کہ چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے فرزند مونس الٰہی نے اربوں کی ہیرا پھیری کی ہے۔۔۔“
” میرے علم میں یہ بات کیسے آسکتی ہے ؟ بات اگر عمومی تاثر کی کی جائے تو اس حمام میں کوئی ایسا نہیں جو ننگا نہیں۔“ میں نے جواب دیا۔ ” میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ آپ یہ بات مجھ سے کیوں کررہے ہیں ۔“
” اس لئے کہ انعام اکبر آپ کا بیٹا ہے۔ اور وہ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری مونس الٰہی کی لوٹ ما ر میں ایک اہم کردار ہے۔“
” کیا تینوں نے مل کر کوئی بینک لوٹا ہے ؟ “ میں نے بات مذاق میں ٹالنا چاہی۔ “ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے انعام اکبر میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈ کا چیف ایگزیکٹو اور مالک و مختار ہے۔ یہ ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں نے قائم کی تھی لیکن 2002ءمیں میں اس سے کنارہ کش ہوگیا اور اس کے ملکیتی حقوق انعام کو دے دیئے۔ اپنے دوسرے بیٹوں کے لئے میں نے دوسری کمپنیاں بنادیں۔ ندیم اکبر میڈاس کمیونی کیشنز کا چیف ایگزیکٹو ہے آفتاب اکبر ٹی وی کے ڈرامے بناتا ہے۔ اور میری بیٹی میڈاس انٹرنیشنل چلارہی ہے۔“
” ہم یہ بات جانتے ہیں کہ انعام اکبر کے کارناموں سے آپ کا کوئی تعلق نہیں۔ مگر اُس کے سامنے اب دو راستے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ چوہدریوں کے خلاف سلطانی گواہ بن جائے اور اپنی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کو چلاتا رہے۔ اور دوسرا یہ کہ وہ بھی ان مقدمات کا سامنا کرے جو ہم قائم کرنے والے ہیں۔ “ پرویز رشید صاحب نے کہا۔
” ایڈورٹائزنگ ایک پیشہ ہے۔ ایک بزنس ہے۔ کسی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا اربوں کا بزنس کرنا کوئی جرم نہیں۔ جرم اگر کوئی ہوسکتا ہے تو وہ یہ کہ کوئی فراڈ کیا جائے۔ اگر انعام اکبر نے کوئی فراڈ کیا ہے تو اسے اس کے نتائج کا سامنا ضرور کرنا چاہئے۔۔۔“ میں نے جواب دیا۔
” آپ ہمارے دوست ہیں۔ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں۔ اسی عزت کی وجہ سے ہم نے انعام اکبر پر ہاتھ نہیں ڈالا۔ ورنہ اسے پکڑنے کے لئے ہمارے پاس بہت سے قوانین اور راستے ہیں۔ اگر وہ مونس الٰہی اور پرویز الٰہی کے خلاف بیان نہیں دے گا تو اسے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ ‘ ‘ پرویز رشید نے کہا۔
ان کی اس بات پر مجھے غصہ آگیا۔۔۔ میں نے اٹھتے ہوئے کہا۔ ” آپ اپنا اختیار استعمال کریں۔ انعام اکبر اپنادفاع خود کرے گا۔۔۔“
چند ماہ بعد نیب حرکت میں لے آئی گئی۔۔۔
میں اپنے بیٹے کے کاروبار سے ہمیشہ دور رہا ہوں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ وہ ان تمام مقدمات سے سرخرو ہو کر نکلے گا جو اس پر قائم ہوتے رہے ہیں ۔ اگر وہ کسی بڑے سرکاری ادارے کا سربراہ ہوتا اور دولت اس پر مہربان ہوتی تو میرے دل میں اس کے بارے میں شکوک و شہبات ضرور پیدا ہوتے۔۔۔
مگر کسی پیشہ ورانہ شعبے میں کمال حاصل کرکے دولت کمانا ہنوز جرم قرار نہیں پایا۔ ذاتی طور پر میں دولت کی کشش کے جال میں کبھی نہیں پھنسا۔ مجھے اپنی مڈل کلاس زندگی زیادہ اچھی لگتی ہے۔
لیکن میں نے سنا ہے کہ چوہدری اعتزاز احسن تین کروڑ سالانہ ٹیکس دیتے ہیں۔ ان کی فیسوں کی کل آمدنی کتنی ہوگی۔ ؟ کیا وہ بھی اپنے موکلوں کے ساتھ مل کر ڈاکے ڈالتے ہیں۔۔۔؟ ایڈورٹائزنگ بھی وکالت جیسا ہی ایک پیشہ ہے۔“
یہ کہانی اس لئے ضروری تھی کہ نون لیگ مجھ پر ایک ہی راستے سے حملہ آور ہوتی ہے اور وہ ہے میرے بیٹوں کی کاروباری کامیابی ۔۔۔
میں کبھی کاروباری آدمی نہیں تھا۔ کاروباری آدمی حکومتوں سے پنجہ آزمائی نہیں کیا کرتے۔۔۔

Scroll To Top