کالا باغ ڈیم :صوبوں میں غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت ہے، سید علی ظفر

  • نہریں پختہ نہ ہونے کی وجہ سے پانی ضائع ہو جاتا ہے، نہریں پختہ ہو جائیں تو سالانہ 6.5 ملین ایکڑ فٹ پانی بچا سکتے ہیں
  • نئے ڈیمز کی تعمیر آئندہ حکومت کےلئے بڑا چیلنج ہو گی،بھارت کےساتھ پانی کے متنازعہ معاملے پرعالمی بینک کو ثالثی عدالت بنانے پر مجبور کرنا ہوگا، وزیر پانی و بجلی

کالا باغ ڈیماسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر پانی وبجلی بیرسٹر سید علی ظفر نے ملک میں پانی کی کمی کے مسئلے سے نمٹنے کےلئے 10 تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم سے متعلق صوبوں میں غلط فہمیاں ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے،ملک میں پانی کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہونے سے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے،نئی دہلی نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی ، معاہدے کے تحت دریائے جہلم، چناب اور سندھ پاکستان کے حصے آئے لیکن بدقسمتی سے ہم معاہدے کے بعد صرف 2 ڈیم ہی بنا سکے، ڈیم بنانے کےساتھ ساتھ پانی کو زرعی مقاصد میں بہتر استعمال کرنے کی ضرورت ہے، آبپاشی اور کاشتکاری کا جدید نظام اپنا نا ہو گا،نہروں کے پختہ ہونے سے ہم سالانہ 6.5 ملین ایکڑ فٹ پانی بچا سکتے ہیں، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کےلئے جلد اقدامات کرنا ہوں گے، نئے ڈیمز کی تعمیر آئندہ حکومت کےلئے ایک بڑا چیلنج ہو گی،بھارت کے ساتھ پانی کے متنازعہ معاملے پرعالمی بینک کو ثالثی عدالت بنانے پر مجبور کرنا ہوگا ۔وفاقی وزیر پانی وبجلی بیرسٹر سید علی ظفر نے یہ بات پیر کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔وفاقی وزیر نے ملک میں پانی کی کمی کے مسئلے سے نمٹنے کےلئے 10 تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پانی ایک نعمت اور زندگی ہے، پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بدقسمتی سے پاکستان کو دنیا میں پانی کی قلت والا ملک قرار دیا گیا ہے، پاکستان میں کل پانی 38.5 ملین ایکڑ فٹ سالانہ آتا ہے۔ 1947ءمیں ہماری آبادی 38 ملین تھی اور فی کس پانی کی دستیابی 5260 کیوبک میٹر تھی، آج آبادی 208 ملین ہے اور 1000 کیوبک میٹر فی کس پانی دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوش قسمتی سے پانی کے بارے میں ہمیں اب آگاہی ہو گئی ہے اور حکومتوں، ماہرین، سول سوسائٹی، سپریم کورٹ سمیت سب کو احساس ہو گیا ہے کہ اس نعمت کو ہر صورت میں بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دو ماہ میں انہوں نے ماہرین کے ساتھ مل کر ہم نے پانی کے مسئلے پر غور کیا ہے اور حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں حل کے لئے دس تجاویز سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پانی بالائی علاقوں سے آتا ہے، 1960 میں بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کیا گیا تھا، اس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا ستلج، بیاس اور راوی بھارت کے حصے میں چلے گئے وہ ان کا پانی استعمال کر سکتا ہے۔ دوسری طرف چناب، جہلم اور سندھ کا پانی پاکستان کے حصے میں آیا، بھارت نے اپنے دریاﺅں پر ڈیم بنا لئے، ہم نے اپنے دریاﺅں پر ڈیم بنانے تھے جن میں کالا باغ ڈیم بھی شامل تھا، اس کے علاوہ 300 سے 400 دوسرے آبی ذخائر بھی تعمیر کرنے تھے لیکن ہم نے صرف منگلا اور تربیلا ڈیم ہی بنائے، دونوں ڈیموں میں پانی کی گنجائش 15 ملین ایکڑ فٹ تھی جو اب مٹی بھر جانے کی وجہ سے 13 ملین ایکڑ فٹ رہ گئی ہے اور 138 ملین ایکڑ فٹ میں سے باقی پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم جو بہت ضروری اور بننا چاہیے تھا اس پر اتفاق رائے ہی نہیں ہو سکا اور اس پر صوبوںمیں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور اس میں غیر ملکی ہاتھ بھی ملوث ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے علاوہ باقی ڈیم اور آبی ذخائر بھی نہیں بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ڈیم کے فوائد 25 سے 30 سال بعد سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے 138 ملین ایکڑ فٹ پانی میں بھی کمی ہوئی ہے اس کےلئے بھی ہمیں ڈیم بنانے چاہئیں تھے، 138 ملین ایکڑ فٹ پانی بھی سارا سال نہیں آتا صرف چند مہینے آتا ہے اس لئے پانی کو ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ڈیم بنانا آئندہ حکومت کےلئے بڑا چیلنج ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ پانی کو زرعی مقاصد میں بہتر استعمال کرنے کی ضرورت ہے، زراعت میں 90 سے 95 فیصد پانی استعمال ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نہریں پختہ نہ ہونے کی وجہ سے پانی ضائع ہو جاتا ہے، نہریں پختہ ہو جائیں تو سالانہ 6.5 ملین ایکڑ فٹ پانی بچا سکتے ہیں، ماضی میں اس طرف بھی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی طریقے دو سو سال پرانے ہونے کی وجہ سے بھی پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیوریج اور پینے کے پانی کے الگ الگ استعمال پر بھی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ترقیاتی بجٹ کا 20 سے 30 فیصد پانی پر خرچ کیا جاتا ہے اور ہم صرف 3 سے 7 فیصد پانی پر خرچ کرتے ہیں، ہمیں پانی کا بجٹ بڑھانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف وزی کرتے ہوئے کشن گنگا ڈیم بنا لیا، اب وہ رتلے ڈیم بھی بنانا چاہتا ہے، ہم اپنے کیس کے ذریعے عالمی بینک کو مجبور کریں کہ وہ ثالثی عدالت میں ہمارا معاملہ حل کرائے تاکہ ہمارا مسئلہ حل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین نے ہمیں رضا کارانہ تجاویز تیار کرکے دی ہیں، پہلی تجویز یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کر کے اس پر کام شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم بنائے جائیں، بھاشا ڈیم میں 11.7 ملین ایکڑ فٹ اور مہمند میں 10.7 ملین ایکڑ فٹ پانی کو ذخیرہ کیا جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈیم بنانے کے لئے فنڈز کا خود انتظام کرنا ہو گا جبکہ بجلی بنانے کے لئے مالی انتظام کیا جا سکتا ہے، سیاسی عزم سے یہ کام ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تیسری تجویز یہ ہے کہ چھوٹے ڈیم بنانے کےلئے کام شروع کیا جائے، بجٹ 20 فیصد تک بڑھایا جائے، نہروں کو پختہ کیا جائے، جدید کاشتکاری کے نظام میں کسانوں میں شعور پیدا کرنا اور دیگر سامان مہیا کرنا اور مالی معاونت دینے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیوب ویلوں کو باضابطہ بنانے کے لئے ضابطہ بنانا ضروری ہے، صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر تنازعہ پیدا ہوتا ہے اس کے لئے آلات لگانے ضروری ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کس صوبے نے کتنا پانی استعمال کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پینے اور سیوریج کے لئے پانی کو الگ الگ کرنا ہو گا تاکہ گھروں میں الگ الگ پانی مہیا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے، کسانوں کو فنڈز دینا ہوں گے اور کاشتکاری کا جدید نظام اپنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموں میں مٹی بھر جانے سے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں کمی آئی ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے بھی پانی کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، آبی ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے، ہمیں جدید زرعی ٹیکنالوجی ڈرپ اری گیشن کی طرف جانا ہوگا، ڈیم کے لئے فنڈز کا انتظام کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نئی حکومت قائم ہو رہی ہے اور خطے میں سیاسی و جغرافیائی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے، ہمیں عالمی بینک کو مجبور کرنا ہو گا کہ بھارت کے ساتھ پانی کے متنازعہ معاملے پر ثالثی عدالت بنائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ قوم کو پانی کی کمی کے مسائل کا ادراک ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس سولر پاور کی بہت گنجائش ہے، لوڈ شیڈنگ بہت سی وجوہات کی بناءپر ہو رہی ہے، یہ مسئلہ دو ماہ میں حل نہیں ہو سکتا، اس کے لئے طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر سید علی ظفر نے کہا کہ آئین کے تحت 15 اگست تک نئی اسمبلی کا اجلاس بلانا لازمی ہے ہماری کوشش ہے کہ نئے وزیراعظم حلف اٹھا کر 14 اگست کے یوم آزادی کے پروگرام میں شرکت کریں لیکن اس کے لئے اسمبلی ممبران کا پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے نوٹیفکیشن جاری ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے نو منتخب اراکین اسمبلی حلف لیں گے اور اس کے بعد سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جائیں گے۔ اگلے دن خفیہ رائے شماری کے ذریعے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پھر وزیراعظم کا انتخاب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کسی قسم کا خط موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جس دن خط موصول ہو گا اسی دن اس کا جواب دیا جائے گا۔سیکرٹری آبی وسائل شمائل خواجہ نے اس موقع پر کہا کہ نئی واٹر پالیسی کا ایک بنیادی عنصر یہ ہے کہ نئی واٹر کونسل کا اجلاس بلایا جائے اور اس کے تحت صوبے پانی کے لئے فنڈز مختص کریں اور وفاق ان کی معاونت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 240 مقامات پر ٹیلی میٹری سسٹم لگایا جائے گا اس سے امید ہے کہ مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 9383 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران 7 ہزار میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہو گا، تربیلا، نیلم جہلم، غازی بروتھا اور منگلا سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے کیونکہ منگلا ڈیم میں پانی کی کمی کا مسئلہ ہے۔

Scroll To Top