کچھ خبروں کے بارے میں

  • پارلیمانی پارٹی سے خطاب : عمران خان کی فکرمندی نمایاں رہی
  • ۔۔۔یہ واضح ہوجانا چاہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی عمران خان کی مقبولیت کا دوسرا نام ہے
  • ۔۔۔مخالفین کی سر توڑ کوشش ہے کہ عمران خان تاریخ رقم کرنے کی بجائے تاریخ کا حصہ بن جائیں
  • ۔۔۔کپتان کا کہنا بے جا نہیںکہ عوام کی توقعات پر پورا نہ اترا گیا تو غیض وغضب کا شکار ہونگے
  • ۔۔۔ہر ہفتے پارلیمنٹ میں سوالوں کا جواب دینا حقیقی جمہوری نظام کی تعبیربن سکتا ہے

نئے وزیر اعظم عمران خان کے لیے مشکلات کی کمی نہیں مگر جو چیز پاکستانیوں کو کامیابی کی امید دلارہی وہ کپتان کا خالق کائنات پر بھروسہ اور اپنے اخلاص پر یقین ہے ۔ ایسا نہیں کہ پی ٹی آئی میں شامل سب ہی مرد وخواتین عمران خان کے مقصد پر دل وجان سے یقین رکھتے ہیں بلکہ ان میں ایسے بھی ہیں جو انفرادی اور گروہی مفادات کی تکمیل کے لیے اس قافلہ میں شامل ہوئے۔ چنانچہ آنے والے دنوں میں ایسا ممکن ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے لیے ایسی مشکلات کھڑی کردی جائیں جن کا اس وقت تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا عمران خان کو وزیر اعظم کا امیدوار نامزد کرنا حیران کن نہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ پی ٹی آئی کی جیت کپتان کی مقبولیت کا دوسرا نام ہے شائد یہی وجہ ہے کہ عمران خان اس صورت حال سے باخوبی آگاہ ہیں چنانچہ اس اہم موقعہ پر پی ٹی آئی سربراہ نے ایک بار پھر اپنے موقف کو دہرایا کہ عوام نے جس منشور پر انھیں ووٹ دیا اسے پورا کرنے کی ممکن حد تک پورا کرنے کی کوشش کی جائیگی ۔ کپتان نے کئی دہائیوں سے ملک میں دو جماعتی نظام کو دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں جس طرح شکست سے دوچار کیا وہ عوام کی جانب سے تبدیلی کی خواہش کا برملا ثبوت ہے۔ عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ستر کے الیکشن میں پاکستانیوں نے اس طاقتور اشرافیہ کو مسترد کردیا تھا جو سالوں سے ان کا استحصال کرنے میںملوث تھی۔ کپتان کا یہ کہنا غلط نہیں کہ تاریخ میں ایسا کم ہی ہوا کہ دو جماعتی نظام میں تیسری جماعت نے اپنی جگہ بنا لی ہو مگر 25جولائی کے الیکشن میں ایسا ہوگیا۔
عمران خان کے پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں وہ فکرمندی پوری طرح نمایاں رہی جس کی بجا طور پر ضرورت ہے۔ مثلا کپتان کے بعقول اگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے روایتی طرزسیاست اپنایا تو عوام کے غیض وغضب کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ کپتان کا کہنا غلط نہیں کہ ناانصافی کا شکار عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو اس لیے ووٹ دیا کہ وہ ان کی مشکلات میں کمی لائے اور اس بااثر طبقہ کو من مانی کرنے سے روکا جائے جو آئے روز آئین اور قانون کا مذاق کرنے میں پیش پیش ہے۔ معروف معنوں میں یہ کہا جاسکتا کہ 25 جولائی کے عام انتخابات دراصل نرم انقلاب تھا جس میں پرامن انداز میں طاقت کا توازن بدل گیا۔
یہ ایک مسلمہ سچائی ہے کہ جمہوریت کا مطلب یہی ہے کہ حقیقی معنوں میں لوگوں حکومت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔ ایوانوں میںایسے لوگوں کی اکثریت نظر آئے جو عوام کے حق حکمرانی پر دل وجان سے یقین رکھتے ہو۔بدقسمتی کے ساتھ ارض وطن میں کبھی بھی جمہوری نظام کو جکڑ پکڑنے کا موقعہ نہیں دیا گیا۔ عوامی نمائندوں کے بھیس میں ایسے مافیاز سامنے آتے رہیں جنھوں نے لوگوںکی مسائل میں کمی لانے کی بجائے ان میں اضافہ کرنے کو ہدف بنائے رکھا۔
عمران خان کی بائیس سالوں جدوجہد میں زیادہ مشکلات اسی لیے آئیں کہ وہ روایتی سیاسی قوتیں کسی طور پر کپتان کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔ مختلف محاذوں پر یہ کوشش کی جاتی رہی کہ عمران خان تاریخ کا حصہ تو بن جائیں مگر خود تاریخ رقم کرنے میںکامیاب نہ ہو۔ کپتان کی کامیابی دراصل کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے مثال کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے۔ ایک کرکٹر کو کتنی محنت کرنا پڑی کہ وہ بڑے بڑے سیاست دانوں کو شکست فاش سے دوچار کردے یہ نظرانداز کرنے کے قابل نہیں۔
یقینا یہ سچ ہے کہ عمران خان کی انتھک جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے ملکی میڈیا کا کردار نمایاں رہا۔ پرنٹ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا نے شہروں میں ہی نہیں گاوں دیہاتوں میں عام آدمی کو اپنے حقوق سے جس طرح روشناس کروایا وہ بلاشبہ عظیم کارنامہ ہے۔پاکستان میں تبدیلی کا عمل یقینا خواب رہتا اگر قومی میڈیا بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا نہ کرتا۔
عام انتخابات میںکامیابی کے بعد عمران خان بار بار یہ عہد کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ قومی خزانے کو امانت سمجھ کر خرچ کریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی وصوبائی اسمبلیوںکو مخاطب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ممبران سے ایسے کسی مطالبہ کا تقاضا نہیں کریں گے جس پر وہ خود عمل نہ کرسکیں۔
جمہوری نظام میں جواب دہی کا ہونا ہی اس کی بڑی خصوصیت ہے۔ عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ برطانیہ کی طرز پر ہر ہفتے پارلمینٹ میں نہ صرف خود سوالوں کے جواب دیں گے بلکہ وزراءکو بھی پابند کیا جائیگا کہ وہ جواب دہی کا نظام فعال بنانے میںان کی مدد کریں۔ یاد رہے کہ عمران خان پہلے ہی اعلان کرچکے کہ وہ وزیر اعظم ہاوس میں نہیں رہیں گے لہذا ایسی خبریں سامنے آرہیں کہ سپیکر ہاوس میں ان کے رہنے کا بندوبست کیا جارہا۔ الیکشن میں کامیابی کے بعد عمران خان ان وعدوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے کوشاں دکھائی دیتے ہیں جن کا وعدہ وہ مختلف فورمز پر عوام سے کرتے رہیں۔ چودہ اگست تک عمران خان وزارت عظمی کے عہدہ کا حلف اٹھا سکتے ہیں جس کے بعد کپتان پر تیزی کے ساتھ ایسی اصلاحات لاسکتے ہیں جو قومی تاریخ کا رخ بدلنے میں معاون بن جائیں۔

Scroll To Top