پی ٹی آئی کا آرٹی ایس کی ناکامی کی تحقیقات کا مطالبہ

  • اعظم سواتی نے آر ٹی ایس کی ناکامی سے متعلق توجہ دلاﺅ نوٹس سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرادیا
  • سسٹم کی ناکامی کی وجوہات اور انتخابی نتائج کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے تحقیقات ہونی چاہیے ، سینیٹر پی ٹی آئی

پی ٹی آئیPTIاسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف نے عام انتخابات میں نتائج کے حصول کےلئے پہلی مرتبہ استعمال ہونے والے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) کی ناکامی کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے سینیٹراعظم سواتی نے آر ٹی ایس کی ناکامی سے متعلق توجہ دلاﺅ نوٹس سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرادی۔اعظم سواتی نے کہا کہ آر ٹی ایس کی ناکامی کی وجوہات اور اس کی ناکامی سے انتخابی نتائج کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے تحقیقات ہونی چاہیے۔انہوںنے کہاکہ پورا دن شفاف انتخابات کا عمل جاری رہا لیکن نتائج کے وقت آر ٹی ایس ناکام ہو گیا، اس کی ناکامی کے ذمہ داروں کا تعین کرنا بہت ضروری ہے۔آر ٹی ایس کی ناکامی کے ذمے داروں کے تعین کا مطالبہ کرتے ہوئے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ سینیٹ کو آر ٹی ایس کی ناکامی اور وجوہات سے متعلق آگاہ کیا جائے۔یاد رہے کہ 25 جولائی کو پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد نتائج کے آنے میں دیر ہوئی تھی جس پر چیف الیکشن کمشنر نے رات گئے میڈیا کو بتایا تھا کہ آر ٹی ایس نے دباﺅ کے باعث کام کرنا چھوڑ دیا تھا جس کے باعث نتائج کے حصول میں تاخیر ہو رہی ہے۔سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے کہا تھا کہ نتائج میں تاخیر آر ٹی ایس پر دباو¿ کی وجہ سے ہوئی ہے۔انہوں نے سیاسی جماعتوں کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ نتائج کی تاخیر کسی گھناو¿نی سازش کی وجہ سے نہیں ہوئی۔اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد الیکشن کمیشن نے 2 اگست کو کابینہ ڈویڑن کو خط لکھ کر عام انتخابات میں آر ٹی ایس کے غیر فعال ہونے پر انکوائری کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی تھی۔الیکشن کمیشن نے انکوائری کمیٹی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ آئی ٹی سیکیورٹی بورڈ (این ٹی آئی ایس بی) کے تکنیکی ماہرین کو شامل کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی سے آر ٹی ایس منصوبے کو نیشنل ڈیٹابیس ریگولیٹری اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے حتمی شکل دینے کے بعد اس پر عمل در آمد، آر ٹی ایس کا میعار، اس کے استعمال کرنے والوں کی ٹریننگ اور 25 جولائی کی رات کو اس کے استعمال میں پیش آنے والے مسائل کا مشاہدہ کرنے کو کہا گیا ۔الیکشن کمیشن کی جانب سے کمیٹی کو ہدایت دی گئی کہ آر ٹی ایس میں کسی قسم کی ناکامی سامنے آنے پر ذمہ داروں کا تعین کرے اور آئندہ کے لیے اس سسٹم کو بہتر بنانے کی تجاویز بھی پیش کی جائیں۔بعدازاں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے بھی الیکشن کمیشن کے آر ٹی ایس کی ناکامی کو انتخابات پر بڑا سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے آر ٹی ایس کی ناکامی کی تحقیقات سینیٹ کمیٹی سے کروانے کا مطالبہ کیا۔سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا تھا کہ 2018 کے انتخابات قبل از انتخاب دھاندلی کے سنگین الزامات کی زد میں ہیں

Scroll To Top