غلام اکبر ٹوئیٹر پر!

میں اپنے مداحوں مخالفوں دوستوں اور ناقدین سے ایک خبر شیئر کرنا چاہتا ہوں، کپتان نے مجھے تحریک انصاف کا سینیئر میڈیا کنسلٹنٹ مقرر کیا ہے۔میرا کام تحریک کے مقاصد کی وضاحت کرنا اور میڈیا کے ساتھ مثالی انڈر سٹینڈنگ قائم کرنا اور قائم رکھنا ہے یہ دعا کریں کہ کپتان کے اعتماد پر پورا اتروں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اپنے خیر خواہوں سے جو پذیرائی ملی ہے اس نے میرے اس عزم کو مزید مصمم کر دیا ہے کہ میں اپنی زندگی کی آخری اننگز پوری توانائی کے ساتھ کھیلوں گا۔انشا اللہ نئے پاکستان کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہو گا۔نیک تمناو¿ں کے اظہار پر میں سب کا شکرگذار ہوں۔یہ ایک”جاب“نہیں ”ٹاسک“ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن بنی گالہ میں گذارنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جن لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان اقتدار اور مصلحتوں کی خاطراصول قربان کردیں گے انہیں زبردست مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔عمران خان کا پکا ارادہ اپنی افتتاحی تقریر کے ایک ایک لفظ پر عمل کرنے کا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے ستمبر 2008 کی وہ رات بڑی شدت سے یاد آرہی ہے جب پونے دو سال کے وقفے کے بعددوبئی ایئرپورٹ پر اچانک میری ملاقات عمران خان سے ہوئی تھی۔گفتگو کے دوران انہوں نے بڑے شکایتی انداز میں کہا تھا کہ میری اور آپ کی منزل ایک ہے تو آپ مجھ سے دور کیوں بھاگتے ہیں۔پاکستان کا مستقبل ہمارا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2008 میں ہر ایک جسٹس افتخار کا سپاہی بنا ہوا تھا۔پوری قوم نے اس شخص سے دھوکہ کھایا۔ان میں کپتان بھی تھے میں بھی تھا شاید آپ بھی ہوں گے۔اس دھوکے کی وجہ سے قوم کے دس برس ضائع ہو گئے۔جھاں تک میرا تعلق ہے میں نے دوبئی والی ملاقات میں ہی کہہ دیا تھا’ ’چلیں آج سے آپ میرے بھی کپتان ہیں“۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک تھیلی کے چٹے بٹے دیکھ لیے۔مادام شیری رحمان کے پہلو بہ پہلو جھینپے جھینپے مولانا لیاقت بلوچ کو دیکھ لیا۔دوسرے پہلو میں احسن اقبال کو آباد دیکھ لیا۔اور قبول ہے قبول ہے کی صدا بلند کرتے مشاہدحسین کو بھی دیکھ لیا۔دیکھ لیا سب نے کہ سیاست کا دل ہوتا ہے نہ ضمیر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور مال لانا فضل نے کہا ہے کہ انتخابات میں اتنی زیادہ دھاندلی کی گئی ہے کہ لاہور گوجرانوالہ سیالکوٹ نارووال اور شیخوپورہ میں نون لیگ تمام جماعتوں سے چار پانچ گنا زیدہ سیٹیں لے اڑی ہے۔الیکشن کمیشن فوری طورپر مستعفی ہو جائے یا پھر اسے سیٹوں کی مساوی تقسیم کر دینی چاہیے۔

Scroll To Top