ایم کیو ایم کا حکومت سازی میں تحریک انصاف کی بھرپور حمایت کا اعلان

  • ایم کیو ایم کے کراچی سے متعلق معاملات، مردم شماری پر تحفظات ، متنازعہ حلقے کھولنے ، بلدیاتی اختیارات کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست دیگر معاملات حل کرانے کی یقین دہانی ، کراچی کیلئے خصوصی مالیاتی پیکیج بھی دیا جائے گا، جہانگیر ترین
  • خالد مقبول صدیقی ، عامر خان، کنور نوید جمیل اور فیصل سبزواری پر مشتمل ایم کیو ایم کے وفد نے عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کی ، ہمارے درمیان جوکچھ طے پایا ہے وہ آئینی تقاضا ہے اورملک کی ضرورت ہے، سربرا ہ ایم کیو ایم وفد خالد مقبول صدیقی

ایم کیو ایم کا حکومت سازی میں تحریک انصاف کی بھرپور حمایت کا اعلان

اسلام آباد (این این آئی)تحریک انصاف کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مردم شماری پر تحفظات، کراچی سے متعلق معاملات اور متنازعہ حلقے کھولنے سمیت پیش کئے گئے دیگر معاملات حل کرنے کی یقین دہانی کے بعد دونوں جماعتوں میں حکومت سازی کا معاہدہ طے پا گیا ہے ۔ جمعہ کو ایم کیوایم نے جہانگیر ترین کی جانب سے حکومت میں شمولیت کی دعوت پر عمران خان کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں ایم کیوایم کا وفد خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں چیئرمین تحریک انصاف سے ملاقات کےلئے اسلام آباد پہنچا ۔ایم کیوایم کے وفد میں خالد مقبول، عامر خان، کنور نوید جمیل اور فیصل سبزواری شامل تھے ، وفد نے عمران خان سے ملاقات سے پہلے جہانگیر ترین سے ملاقات کی جس میں عارف علوی اور عمران اسماعیل بھی شریک تھے ، اس دوران متحدہ رہنماو¿ں نے اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھے۔ایم کیوایم نے جہانگیر ترین سے ملاقات میں کراچی پیکیج پرمن وعن عمل درآمد کی یقین دہانی مانگی جس میں پانی، انفرااسٹرکچر، صفائی اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر عوامی مسائل کاحل شامل ہے جس پر پاکستان تحریک انصاف نے مسائل کے حل کےلئے تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے ۔ذرائع کے مطابق ایم کیوایم نے پی ٹی آئی سے کراچی میں اپنے دفاتر کو کھلوانے کی یقین دہانی مانگی ہے جبکہ سندھ اسمبلی میں لیڈرآف اپوزیشن اور گرینڈاپوزیشن الائنس بنانے کےلئے بھی تعاون کا کہا گیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ایم کیوایم نے تحریک انصاف سے کراچی سے متعلق ہر قسم کے امور میں اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بعد ازاں ایم کیو ایم کے وفد نے بنی گالہ میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کی جس میں جہانگیر ترین کے سامنے رکھے گئے نکات سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستا ن کے وفود کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد حکومت سازی کا معاہدہ طے پا گیا جس میں ایم کیو ایم نے تحریک انصاف کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ میں جہانگیر ترین نے بتایا کہ ایم کیوایم سے معاملات طے پاگئے اور تعاون کے حوالے سے معاہدہ ہوگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بلدیاتی اختیارات کے حوالے سے ایم کیوایم کی سپریم کورٹ میں درخواست میں ان کا ساتھ دیں گے ،کراچی کے عوام نے بھرپورطریقے سے ہمارا ساتھ دیا ہے، شہر کے لیے خصوصی مالیاتی پیکیج دیا جائےگا۔جہانگیر ترین نے کہا کہ کراچی کونظر انداز کیا گیا اس پرتوجہ نہیں دی گئی، شہر میں پانی، سیوریج اور ٹرانسپورٹ کے مسائل ہیں، شہر کے بلدیاتی نظام کے حوالے سے ایم کیوایم کی سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن کی حمایت کریں گے جبکہ حیدرآباد میں بھی یونیورسٹی کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔جہانگیر ترین نے کہا کہ حکومت میں ایم کیو ایم کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ اس موقع پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ عمران خان کی دعوت پرآئے ہیں، ہمارے درمیان جوکچھ طے پایا ہے وہ آئینی تقاضے اورملک کی ضرورت ہیں، پی ٹی آئی کے ساتھ مل کرچلیں گے۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے معاملے پر ایم کیوایم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے ،اس معاملے پر پی ٹی آئی نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، حلقہ بندیوں کے معاملے پر بھی پی ٹی آئی سے بات چیت کی ہے۔ایم کیوایم رہنما نے کہا کہ کراچی آپریشن کا جائزہ لیا جائے گا اوراس کومنطقی انجام تک پہنچایا جائےگا ب کہ آپریشن میں ہونے والی زیادتیوں کے ازالے پر بھی بات ہوئی ہے۔خالد مقبول نے کہا کہ کچھ چیزیں طے ہونی باقی ہیں، امید ہے وہ بھی خوش اسلوبی سے طے پاجائیں گی۔ایک سوال پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ فاروق ستار سے بھی ہماری گزشتہ رات بات ہوئی ہے ،میں پارٹی کا کنونیئر ہوں اور سینئر لوگ میرے ساتھ ہیں، فاروق ستار سمیت کئی دیگر پارٹی رہنماءآج یہاں نہیں آسکے ہیں۔

Scroll To Top