تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی

zaheer-babar-logo

پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی سمیت وہ تمام سیاسی پارٹیاں جو الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کی بھرپور عوامی پذائری کے سامنے نہ ٹھر سکیں اب حیلے بہانوں سے عمران خان پر تنقید جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شکست خوردہ جماعتیں ایک طرف دھاندلی کا واویلا کرتے ہوئے احتجاج کرنے کا اعلان کرچکیںتو دوسری طرف الیکشن میں کامیاب ہونے والے آزاد اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کے پی ٹی آئی میں شامل ہونے پر بھی اعتراض اٹھایا جارہا۔ یہ واویلا اس کے باوجود کیا جارہا کہ آئین میںہرگز ایسی پابندی نہیں کہ آزاد حثیثت سے کامیاب ہونے والے کسی جماعت میں شامل نہیں ہوسکتے۔
اب تک ملکی سیاست کے مدوجزر سے شناسا ہر کوئی جانتا ہے کہ ہر انتخاب میں ایسے لوگ کامیاب ہو جایا کرتے ہیں جن کو بڑی جماعتیں یا تو ٹکٹ نہیں دیا کرتیں یا وہ ٹکٹ خود لینے پر تیار نہیں ہوتے۔مطلب یہ ہے کہ ان حضرات کو یقین ہوتا ہے کہ وہ جیت کر اس جماعت میں شامل ہوجائیں گے جو حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہو۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا ۔ 25جولائی کے عام انتخابات میں وفاق اور پنجاب میںکسی بھی سیاسی پارٹی کو فیصلہ کن حمایت حاصل نہ ہوسکی لہذا آزاد اراکین کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا۔ وفاق اور پنجاب کی حد تک یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ مقابلہ دو سیاسی قوتوں یعنی پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے درمیان ہی رہا جس میں اب تک پی ٹی آئی آگے دیکھائی دے رہی ہے۔
اب یہ راز راز نہیں رہا کہ وفاق اور پنجاب میں پی ٹی آئی ہی حکومت بنائے گی لہذا لامحالہ طور پر آزاد اراکین کا جھکاو تحریک انصاف کی جانب ہے۔ پی پی پی اور پی ایم ایل این اگر اپنی یاداشت پر ضرور دیں تو وہ جان لیں گے کہ دوہزار آٹھ اور پھر دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد بڑی تعداد میں آزاد ارکین نے بالترتیب پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کو ہی جوائن کیا تاکہ اقتدار سے اپنا حصہ وصول کیا جاسکے۔ یہاں یہ سوال بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر آزاد اراکین کی جیتنے والی پارٹی میں شمولیت اتینا ہی بڑا گناہ تھا تو پھر مذکورہ دونوں سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے دور میں یہ کام کیوں کر کرتی رہیں۔شائد شاعر نے ایسے ہی کسی موقعہ پر کہا تھا کہ ،،،
تمہاری زلف میںپہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نامہ ءسیاہ میں تھی
عمران خان کی حکومت بننے سے پہلے ہی کپتان کے خلاف میدان عمل میں آنی والی سیاسی جماعتیں یہ بھی ثابت کررہیں کہ الیکشن سے قبل ان کے درمیان پائے جانے والے اختلافات عارضی تھے اور اب وہ پی ٹی آئی کے خلاف پوری قوت سے متحد ومتفق ہیں۔ عام پاکستانی کو یاد ہوگا کہ عمران خان طویل عرصہ سے دعوی کرتے چلے آرہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی میں ہرگز کوئی اختلافات نہیں بلکہ ان کے درمیان مک مکا ہے ۔ آسان الفاظ میں یوں کہ دونوں سیاسی جماعتوں نے حصول اقتدار کے لیے اپنی باری مقرر کیں تاکہ ایک دوسرے کی بدعنوانی کا تحفظ کیا جاسکے۔ دراصل یہی وہ حقیقت تھی جس کی بنیاد پر عمران خان نے ملکی سیاست میں تبدیلی لانے کا وعدہ کیا جو 25جولائی کے عام انتخابات کے بعد پوری قوت سے سچ ہوتا نظر آرہا ہے۔
وطن عزیز کی سیاست میں جائز وناجائز طریقہ سے مال بنانے کا کلچر کئی دہائیوں سے فروغ پذیر ہے۔ ستم ظریفی کہ ملک کی قابل زکر سیاسی ومذہبی جماعتیں اس کھیل میں پیش پیش رہیں۔ زبانی طور پر تو عوام کے حق حکمرانی کا نعرہ لگایا گیا مگر عملا ذاتی اور گروہی مفادات کو ہی بالادستی حاصل رہی۔آج اسی بدترین سیاست کا شاخسانہ ہے کہ خبیر تا کراچی کسی بھی شہر میں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کے لیے کہیں بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گے۔ قانون کی حکمرانی کا خواب ستر سالوں سے شرمندہ تعبیر ہونے کا منتظر ہے، رائج نظام طاقتور کو تحفظ جبکہ مظلوم کے استحصال کرنے میں پیش پیش رہا۔
25جولائی کا الیکشن اس لحاظ سے نر م انقلاب بھی کہا جارہا کہ اس میں بہت سارے ایسے سیاست دان شکست کھا گے جو خود کو ناگزیر سمجھتے تھے۔ووٹ کی طاقت نے درحقیقت ایسا کمال کر دکھایا کہ پاکستان میں ہی نہیں بیرونی دنیا بھی اس تبدیلی کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے پرمجبور ہے۔
پاکستان تحریک انصاف وفاق اور پنجاب میں مضبوط حکومت بنانے جارہی اس کی وجہ ظاہر ہے کہ عمران خان تبدیلی کے اس دعوی کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے پرعزم ہیں جس کی امید آج کروڈوں پاکستانی کررہے۔ عمران خان بطور وزیر اعظم کا حلف اٹھاتے ہی 100دنوں کے پروگرام کا اعلان کریں گے جس میں ایک طرف معیشت کو بہتر بنانے کا منصوبہ ہوگا تو دوسری جانب جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے پر بھی عمل شروع کردیا جائیگا۔بیرون ملک پاکستان کی دولت واپس لانا بھی پی ٹی آئی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ سیاست دان ہی نہیں،بیوروکریسی اور کاروباری حضرات کی قابل زکر تعداد بیرون ملک سرمایہ لے جاچکی۔ عمران خان کے کرنے کا بڑا کام یہی ہوگا کہ ایک طرف منی لائنڈرنگ کے زریعہ بیرون ملک سے پاکستان کا پیسہ واپس لایا جائے اور پھر مسقبل کے لیے ایسے اقدمات اٹھائے جائیں جو اس بدترین رجحان کو موثر طور پر روک سکیں۔ دراصل یہی وہ اقدمات ہیں جو عمران خان کی مخالف جماعتیں نہیںہونے دینا چاہ رہیں۔

Scroll To Top