ایک مشکل فیصلہ کرنے کی گھڑی 17-09-2013

kal-ki-baat
اپردیر میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں میجرجنرل ثناءاللہ اورلیفٹینٹ کرنل توصیف سمیت 3فوجیوں کی شہادت نے ایک بار پھر پاکستان کے سامنے ایک بہت بڑا سوال لاکھڑا کیا ہے۔ یہ سفاک لوگ کون ہیں جو پہلے اس مملکت کے خلاف ایک بڑے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کے بعد فوراً ہی اس کی ذمہ داری بھی قبول کرلیتے ہیں ؟
اس بات پر دو آراءنہیں ہوسکتیں کہ پاک فوج کی طرف اٹھنے والی ہر بندوق پاکستان کے کسی دشمن نے ہی تھام رکھی ہوتی ہے ۔ اور اختلاف اس بات پر بھی نہیں ہوسکتا کہ پاکستان کے ساتھ دشمنی اسلام کے ساتھ دشمنی ہے۔
یہ دہشت گرد اگرچہ اپنی پہچان اسلام کے حوالے سے کراتے ہیں لیکن جس انداز میں انہوں نے پاکستان ` اس کی فوج اوراس کے عوام کے خلاف جنگ شروع کررکھی ہے وہ اُن کے ” اسلامی “ دعوﺅں کی نفی کرتا ہے۔اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان کی بنیادیں ہلا ڈالنے کی سازش پر عمل پیرا یہ لوگ یقینی طور پر اسلحہ سرمایہ اور رہنمائی پاکستان کے دشمنوں سے ہی حاصل کررہے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ مذاکرات کی بات ہورہی ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہمیں اس امکان کو بہرحال نظر انداز نہیں کرناچاہئے کہ ان دہشت گردوں میںشاید ایسے گمراہ عناصر بھی موجود ہوں جن کی لڑائی اس خطے پر تباہی اور بربادی نازل کرنے والے امریکہ سے ہو اور وہ یہ سمجھتے ہوں کہ پاکستان ان کے دشمنوں کا حلیف بن کر خود ان کا دشمن بن چکا ہے۔
بہرحال عمران خان کے اس نقطہ نظر سے تو اختلاف نہیں ہونا چاہئے کہ امن کو ایک سنجیدہ موقع ضرور دیا جانا چاہئے لیکن ساتھ ہی ساتھ جنرل کیانی کی آواز کے ساتھ آواز ملانا بھی ضروری ہے کہ ہم وطنِ عزیز کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔البتہ کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں یہ ضرور سوچنا پڑے گا کہ جو لوگ میجر جنرل ثناءاللہ ` لیفٹینٹ کرنل توصیف اور لانس نائیک عرفان ستار کی شہادت کے واقعے کے پیچھے ہیں انہوں نے ایسی مجرمانہ کارروائی کے لئے ایک ایسے وقت کا انتخاب کیوں کیا ہے جب امن کو ایک دیانت دارانہ موقع دینے کی باتیں اس قدر سنجیدگی سے ہورہی ہیں؟

Scroll To Top