امراءکی شکارگاہ یا ڈیموکریسی ؟

aaj-ki-baat-new

پاکستان ایک معاشرے اور ایک ریاست کے طور پر شاہراہِ تاریخ پرجیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے میرا یہ یقین پختہ سے پختہ ہوتا چلا جارہا ہے کہ جب تک ہم من حیث القوم ” مقاصد“ کے اس ” چارٹر“ کی طرف نہیں لوٹتے جو 71برس قبل قیامِ پاکستان کا باعث بنا تھا اورجس نے تقریباً 14صدیاں قبل ریاستِ مدینہ کو جنم دیا تھا ` اس وقت تک ” اصلاحِ احوال “ کی منزل ہماری آنکھوں سے اوجھل اور ہماری پہنچ سے دور رہے گی۔
ہم جس کثیر الجماعتی نظام کو جمہوریت کا نام دیتے ہیں وہ پلوٹو کریسی کا گہوارہ بھی ہے اورقلعہ بھی ۔
پلوٹو کریسی کا سلیس اُردو ترجمہ امراءشاہی ہے۔ آپ اسے امارت شاہی بھی کہہ سکتے ہیں۔اس کی تعریف یہ ہے کہ معاشرے یا ریاست کے امیر لوگ اپنی دولت کی طاقت سے اقتدار پر قابض ہوجاتے ہیں۔
وطنِ عزیز کے پلوٹو کریٹ کون ہیں ؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے اپنے کثیر الجماعتی نظام پر نظر ڈالیں۔ تمام جماعتوں کے سربراہوں کا طائرانہ سا جائزہ لیں۔ آپ کواس نتیجے پر پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ دولتمندی سب کی مشترک قدر یا خصوصیت ہے۔ کچھ تو پیدا ہی دولت کی آغوش میں ہوئے اور کچھ نے پیدا ہو کر حصولِ دولت کو مقصد ِ حیات بنایا۔
ایک ایسی ریاست میں جس کی اساس اسلام ہو وہاں کثیر الجماعتی نظام کی گنجائش ہوہی نہیں سکتی۔ اسلام بذاتِ خود ایک جماعت ہے اور جہاں اسلام ہوگا وہاں اور کسی جماعت کی گنجائش نہیںہوگی۔
اس ضمن میں ہم کمیونزم کی مثال بھی دے سکتے ہیں۔ بیسویں صدی میں دنیا نے کمیونزم کا عروج بھی دیکھا اور زوال بھی۔ کوئی بھی شخص اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہوسکتا کہ جہاں جہاں بھی کمیونزم آیا وہاں یک جماعتی نظام ہی رائج ہوا۔ موجودہ دنیا میں اس کی روشن ترین مثال چین ہے۔ چین میں روایتی انداز کی جمہوریت نہیں مگر ہر دس سال کے بعد وہاں کمیونزم پارٹی کی صفوں سے ایک نئی قیادت ابھرا کرتی ہے جس کا کوئی خونی یا نسبی رشتہ سبکدوش ہونے والی قیادت سے نہیںہوا کرتا۔ چین میں یہ نظام کس قدر کامیابی کے ساتھ چلا ہے اور چل رہا ہے اس کا اندازہ اس کی فقیدالمثال ترقی سے لگایا جاسکتاہے۔
پاکستان آج تباہی اوربربادی کی تصویر اس لئے بنا ہوا ہے کہ اس نے اپنی اساس سے منہ موڑ رکھا ہے اور ملک کے مانے ہوئے امراءنے اسے اپنی شکارگاہ بنا رکھاہے۔
(یہ کالم اس سے پہلے 13-09-2013 کو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top