صاف پانی کرپشن کیس:سابق سی ای او وسیم اجمل شہباز شریف کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے

  • تمام مہنگے ٹھیکے دینے کے ذمہ دار شہباز شریف ، انہی کے احکامات پر لوکل کمپنیوں کے بجائے انٹرنیشنل کمپنیوں کو بلایا گیا ،شہبازشریف سے میٹنگ سے پہلے حمزہ شہباز کو ٹھیکوں سے متعلق بریفنگ دینے کا کہا گیا، ابتدائی بیان میں ہوشرباء انکشافات
  • شہباز شریف کے علاوہ 4 افسران اور 2 بورڈ ممبران بھی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت کے مرتکب قرار، ابتدائی بیان ریکارڈ ،چیئرمین کی منظوری ،سابق خادم اعلیٰ شہباز شریف اور فرزند حمزہ شہباز کے خلاف گھیرا تنگ ،مستقبل کی صورتحال تشویشناک

صاف پانی کرپشن کیسلاہور (الاخبار نیوز) پنجاب صاف پانی کیس میں سابق چیف ایگزیکٹیوآفسر وسیم اجمل وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار ہوگئے اور مہنگے ٹھیکے دینے کا ذمہ دار شہباز شریف کو قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق شہباز شریف کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے، پنجاب صاف پانی کمپنی اسکینڈل میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم اجمل وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق وسیم اجمل نے صاف پانی میں مہنگے ٹھیکے دینے کا ملبہ بھی شہباز شریف پر ڈال دیا۔ وسیم اجمل نے ابتدائی بیان بھی ریکارڈ کروا دیا، چیئرمین سے ملاقات میں حتمی منظوری ہوگی۔وسیم اجمل نے ابتدائی بیان میں کہا کہ شہباز شریف کے احکامات پر لوکل کمپنیوں کے بجائے انٹرنیشنل کمپنیوں کو بلایا اور شہبازشریف کی میٹنگ سے پہلے حمزہ شہباز کو ٹھیکوں سے متعلق بریفنگ دینے کا کہا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف سمیت 4 افسران اور 2 بورڈ ممبران نے بھی صاف پانی کمپنی کے معاملات میں مداخلت کی ہے۔یاد رہے 25 جون کو نیب لاہور نے صاف پانی کمپنی کیس میں قمر الاسلام اور کمپنی کے سابق سی ای او وسیم اجمل کو گرفتار کیا تھا ، جس کے بعد احستاب عدالت میں پیش کیا گیا۔نیب عدالت نے صاف پانی کمپنی کیس میں ملزمان قمر الاسلام اور وسیم اجمل کو چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔دونوں ملزمان کی گرفتاری کے بعد صاف پانی کمپنی کیس میں نیب نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو طلب کیا تھا اور ہدایات دی تھیں کہ وہ اپنے ساتھ صاف پانی کمپنی کے تمام افسران کی تنخواہوں اور مراعات کا ریکارڈ لے کر آئیں۔سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نیب عدالت میں پیشی کے موقع پر داماد سے متعلق سوال پر برہم ہوگئے، ان کا کہنا تھا کہ کسی افسر نے میرے رشتے دار کو خود شامل کیا تو میں نہیں جانتا۔

Scroll To Top