طاقتور افراد کو توھین عدالت کی سزا دینا خوش آئند قرار

  • zaheer-babar-logo
  • ۔۔۔ نہال اور دانیال کے بعد طلا ل چوہدری کو عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دینا مثبت اثرات مرتب کریگا
  • ۔۔۔۔کوئی آئینی ادارہ عوام کا اعتبار کھو دے تو ریاست کے وجود کو ہی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
  • ۔۔۔۔۔۔25جولائی کے انتخابات میں شکست کھانے والی سیاسی جماعتیں زمینی حقائق تسلیم کرنے مسلسل انکاری
  • ۔۔۔۔۔مولانا فضل الرحمن کی حلف نہ اٹھانے کی تجویز جس طرح مسترد ہوئی وہ جے یوآئی ف کے سربراہ کو شرمندہ کرگیا ۔
  • ۔۔ درحقیقت الیکشن میں عوام نے ووٹ کو اس طرح عزت دی کہ جعلی رہنماوں کو نشان عبرت بنا ڈالا

سابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو سپریم کورٹ نے توھین عدالت کا جرم ثابت ہونے پر عدالت برخاست ہونے تک کی سزا دیتے ہوئے پانچ سال کے لیے نااہل اور ایک لاکھ جرمانہ کا حکم دے ڈالا۔کہا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما نہال و دانیال کے اب طلال بھی فوری طور پر کسی عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار پاچکے۔یاد رہے کہ طلال چوہدری نے فیصل آباد کے جلسے میں میاں نوازشریف کی موجودگی میں ٹی وی کمیروں کے سامنے فاضل ججز کا پی سی او کے بت قرار دیتے ہوئے انھیں نکال باہر کرنے کی بات کی تھی۔
پانامہ لیکس میں سابق وزیر اعظم کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ ن کے کئی رہنما بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر عدالتوں کی توھین کے مرتکب قرار پاچکے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ فاضل ججوں بارے جلسے جلوسوں میں ایسے ریمارکیس پاس کیے گے جنھیں کم سے کم الفاظ میں شرمناک کہا جاسکتا ہے۔ میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی جس طرح عدالتوں کو جانبدار قرار دیتے رہے اس کے نتیجے میں ملک کے سنجیدہ سیاسی وقانونی حلقوں میں بے چینی پائی جانا فطری عمل ہے۔ پی ایم ایل این کی اعلی قیادت کی اس روش کو دیکھتے ہوئے پارٹی کی نمبر دو قیادت بھی فاضل ججز پر نامناسب الفاظ میں تبصرے کرنے لگی ۔ نہال ہاشمی تو خیر حد سے گزر گے جب انھوں نے اپنے قائد میاں نوازشریف کی محبت میں جوش خطابت میں یہاں تک کہ ڈالا کہ وہ ان لوگوں اور ان کے بچوں پر پاکستان کی سرزمین تنگ کردیں گے جو سابق وزیر اعظم کے خلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی کریں۔ “
یہ بات سمجھ لینی چاہے کہ کسی بھی ریاست کے آئینی ادارے اگر اپنا اعتبار یا احترام کھو دیں تو اس ملک کے وجود کو شدید خطرات لاحق ہوجانا قدرتی امر ہے۔ مقام شکر ہے کہ پی ایم ایل این کے بعض عناصر کی ہرزہ سرائی کے باوجود پورے ملک تو کیا پنجاب میں بھی ایسی صورت حال پیدا نہیں ہوسکی جس میں افراتفری کا عالم ہو۔ حد تو یہ ہوئی کہ میاں نوازشریف کو پانامہ لیکس میں نااہل قرار دینے سے لے کر لندن سے واپسی اور پھر گرفتاری تک ملک میں کہیں بھی امن وامان خراب ہونے صورت پیدا نہ ہوسکی۔ ٹھیک کہا جاتا ہے کہ جب لیڈر کہلانے والے اپنے اور اپنے خاندان کے مفادات کو ہی اولیت دیں تو پھر ان کے لیے عوام سڑکوں پر نہیں نکلا کرتی۔
کہتے ہیںکہ تاریخ کا بنیادی سبق یہی ہے کہ اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔مسلم لیگ ن کے لیے اب بھی وقت ہے کہ وہ نوازشریف کے بیانیہ سے فاصلہ رکھے تاکہ قومی سیاست میں اس کا وجود قابل زکر شکل میں موجود ہو۔ 25جولائی کے عام انتخابات میں میاں نوازشریف کی اداروں کے خلاف جارحانہ سیاست دم توڈ چکی۔ آج طلال چوہدری ہو یا مسلم لیگ ن کا کوئی اور رہنما کسی بھی آگے بڑھ کر قربانی دینے کو تیار نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم کی پالیسی کو ان کا اپنا بھائی شہباز شریف کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھنے پر مجبور ہے ۔

  • (اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس )

سچ یہ ہے کہ الیکشن 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی سامنے آتے ہی بیشتر سیاسی جماعتوں نے الیکشن کو دھاندلی ذدہ قرار دے ڈالا۔ شبہ نہیںکہ عمران خان نے تن تنہا جس طرح”تجربہ کار“ سیاست دانوں کو واضح شکست سے دوچار کیا وہ تاریخی کامیابی ہے۔ کئی دہائیوں سے عوامی جذبات کا استحصال کرنے والوں کے لیے مشکل ہوگیا کہ وہ عمران خان کے تبدیلی کے وعدے کو پس پشت ڈال سکیں۔ اس میں دوآراءنہیں کہ ملک کی دو جماعتوں نے پورے دس تک جس طرح کا طرز حکمرانی پیش کیا اس کے بعد کروڈوں پاکستانیوںکا بیزار ہونا فطری عمل تھا۔ جمہوریت کے لبادے میں آمرانہ سوچ اور کرپشن کا ایسا امتزاج پیش کیا گیا جسے ملک کے باشعور شہریوں نے سختی سے مسترد کردیا۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف ووٹ کو عزت دو کو محض نعرہ سمجھ کر لگاتے رہے مگر 25جولائی کے الیکشن میں عوام نے حقیقی معنوں میں ووٹ کو اس طرح عزت دی کہ اس سے جعلی قیادت کو نشان عبرت بنا ڈالا۔
پی پی پی ، پی ایم ایل این ، جماعت اسلامی ، جے یو آئی ف اور اے این پی جیسی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف کو پارلمینٹ کے اندر اور باہر ٹف ٹائم دینے پر تیاری پکڑ چکیں۔ گذشتہ روز سپیکر ایاز صادق کی سرکاری رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے قائد ایوان ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدوں کے لیے بھی مشترکہ امیدوار لانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مذکورہ جماعتیں وفاق اور صوبوں میں اپنی حکومت لانے کے لیے بھرپور کوشش کریں گئیں۔
سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ الیکشن میں بری طرح شکست کھانے والی پارٹیوںکے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہا کہ وہ انتخابی عمل کوہی مشکوک قرار دے ڈالیں۔ سمجھ لینا چاہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ایسی سیاسی رہنماوں کی موجودگی کا خواب دیکھنا مناسب نہیں جو کھلے دل سے اپنی ہار مان لیں۔ جمہوریت کے لیے یہ خوش آئند ہے کہ پی پی پی اور پی ایم ایل این نے مولانا فضل الرحمن کی اس تجویز کو سختی سے مسترد کردیا کہ کامیاب ہونے والے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی حلف ہی نہ اٹھائیں۔ آنے والے دنوں میں یہ امکان بھی ہے کہ بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر بڑے بڑے دعوے کرنے والی سیاسی جماعتیںاپنے مخصوص انفرادی اور گروہی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مفاہمت کی روش اختیارکرلیں۔

Scroll To Top